امریکی میں صدارتی انتخابات سے قبل امیدواروں کو خواتین کی جانب سے جنسی حملوں کے الزامات کا سامنا ہے، ایک جانب امریکی صدر ٹرمپ پر ایک درجن سے زائد خواتین نے ایسے الزامات عائد کئے ہیں تو دوسری طرف امریکہ کے سابق نائب صدر اور اور موجودہ صدارتی امیدوار جو بائیڈن بھی ایسے ہی الزامات کی زد میں آگئے ہیں۔
جو بائیڈن پر ایک سابق ساتھی خاتون کی جانب سے جنسی حملہ کے الزامات عائد کئے گئے ہیں جنہیں بائڈن نے مسترد کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ایسا کبھی ہوا ہی نہیں۔
کورونا وبا کا خوف: امریکہ میں مصافحہ کرنے کی روایت کا خاتمہ ہو سکتا ہے
سب کو گھروں میں رہنے کی تلقین کرنیوالے میئر کی اپنی بیوی شراب خانہ میں پکڑ ی گئی
جو بائیڈن پر جنسی ہراسگی کا الزام لگانے والی خاتون کا نام تارا ریڈ ہے،جن کا دعویٰ ہے کہ جوبائیڈن نے 27 برس قبل انہیں ہراساں کیا۔
ریڈ 1993ء میں بائیڈن کے دفتر میں بطور جونئیر اسٹافر کام کرتی رہی ہیں، انکی جانب سے گزشتہ برس بائڈن پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کئے گئے۔
ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں الزام لگانے والی خاتون کے مقصد پر سوال نہیں اٹھا رہا اور نہ مجھے اس بات کا علم ہے کہ اس معاملہ کو اچانک 27 برس بعد کیوں اٹھایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنسی حملے اور ہراساں کرنے کے ان الزامات کی تفصیلات پیچیدہ ہوں گی مگر دو باتیں بالکل پیچیدہ نہیں ہیں، ایک یہ کہ جنسی حملوں کے الزام لگانے والی خواتین کے ساتھ عزت اور وقار سے پیش آنا چاہئے اور جب وہ اس معاملہ کیلئے آگے آئیں تو انہیں خاموش کرانے کی بجائے سنا جائے۔
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دوسری چیز یہ ہے کہ جنسی حملوں کے الزام لگانے والی خواتین کی خبروں کی مناسب انکوائری اور جانچ پڑتال ہونا چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ذمہ دار نشریاتی اداروں کو چاہئے کہ الزام عائد کرنیوالی خاتون کے بیان میں تضادات کی جانچ کریں۔
جوبائیڈن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تارا ریڈ کا دعویٰ ہے کہ اس نے جنسی حملوں پر میرے آفس کے سپروائزر اور دیگر اسٹاف سے بات کی تھی مگر جن لوگوں سے وہ 27 برس قبل بات کرنے کا کہہ رہی ہے وہ واضح انداز میں اس بات سے انکاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کی جانب سے انکے دفتر کے درجنوں افراد سے بات کی گئی ہے جن میں سے کسی نے بھی جنسی حملوں کے ان الزامات کی تصدیق نہیں کی۔
انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ وہ واضح انداز میں کہہ رہے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔