وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری اور سینئر اینکر حامد میر کے خلاف حالیہ آن لائن گالی گلوچ پر مبنی ٹرینڈ نے حکمران جماعت پی ٹی آئی کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی ہی صفوں میں موجود کچھ گروہوں اور افراد کو تلاش کرے جو ایسے وقت میں نفرت اور تقسیم پیدا کر رہے ہیں جبکہ کورونا کے خلاف جنگ میں ریاست کو اتحاد کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر شیریں مزاری اور حامد میر کے خلاف سوشل میڈیا پر گالی گلوچ کے ٹرینڈ کا آغاز گزشتہ ہفتے 3 گھنٹوں پر محیط ٹیلی تھون میں مولانا طارق جمیل کی تقریر کے بعد ہوا۔
مولانا طارق جمیل نے دعا سے قبل ایک طویل تقریر کی جس میں کچھ ایسی باتیں کیں جنہیں صحافت اور خواتین کے خلاف سمجھا گیا، انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ایک ٹی وی چینل کے مالک نے انہیں بتایا کہ جھوٹ کے بغیر ان کا چینل نہیں چل سکتا۔
مولانا طارق جمیل کے اس بیان کو سوشل میڈیا کے ان صارفین کی جانب سے بہت سراہا گیا جنہوں نے اپنے اکاؤنٹس میں وزیر اعظم عمران خان کی تصاویر یا پی ٹی آئی کے جھنڈے دکھائے ہوئے ہیں۔
شیریں مزاری نے مولانا کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے ٹویٹر پر لکھا کہ خواتین کو مضحکہ خیز الزامات پر نشانہ بنانا بالکل بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔
صحافی حامد میر نے جیو پر اپنے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں اسی روز ہی مولانا طارق جمیل کو مدعو کیا اور سوال کیا کہ اس چینل کے مالک کا نام بتائیں جس نے کہا تھا کہ جھوٹ کے بغیر چینل نہیں چلتا۔
انگریزی اخبار دی نیوز کے مطابق کیپیٹل ٹاک میں سینیٹر فیصل جاوید خان بھی موجود تھے جنہوں نے مولانا کے دفاع میں کچھ نہیں کہا، حالانکہ وہ وزیراعظم ہاؤس میں ٹیلی تھون کے میزبان تھے اور انہوں نے ہی مولانا کو تقریر کے لیے مدعو کیا تھا۔
حامد میر نے مولانا طارق جمیل سے صرف ایک سوال پوچھا لیکن ایک اور صحافی جاوید چوہدری نے اسی رات ایکسپریس نیوز پر اپنے ٹی وی شو میں مولانا طارق جمیل کو ٹیلیفون پر مدعو کیا اور انہیں مجبور کیا کہ وہ کم از کم دو ایسے صحافی بتا دیں جو جھوٹ نہیں بولتے جس پر مولانا نے کہا "ایک آپ چوہدری صاحب ہیں اور دوسرے حسن نثار”۔
طارق جمیل کے اس بیان نے ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا۔ اگلے روز ہم نیوز پر صحافی محمد مالک کے ٹی وی شو میں مولانا کو مدعو کیا گیا تھا جہاں حامد میر بھی موجود تھے۔
حامد میر نے کوئی سوال نہیں کیا اور مولانا طارق جمیل نے رضاکارانہ طور پر کہا کہ میں کوئی بحث نہیں چاہتا میرے پاس کوئی دلائل نہیں ہیں میں صرف حامد میر صاحب سے معذرت خواہ ہوں اور میڈیا میں ہر وہ شخص جو میرے ریمارکس سے ناراض ہے مجھے لگتا ہے کہ میں نے غلطی کی ہے۔
حامد میر نے شائستہ انداز میں مولانا سے مالک کا نام بتانے کی درخواست کی جس نے انہیں کہا تھا کہ وہ جھوٹ کے بغیر اپنا چینل نہیں چلا سکتا۔ مولانا نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ میں اس نام کا ذکر نہیں کرسکتا کیونکہ یہ نجی گفتگو تھی۔
انہوں نے ایک بار پھر معافی مانگ لی، محمد مالک اور حامد میر دونوں نے مولانا طارق جمیل کی تعریف کی اور گفتگو ختم ہوگئی۔ لیکن مولانا کی معافی نے ٹویٹر اور فیس بک پیجز پر ایک بڑا طوفان پیدا کردیا۔
واٹس ایپ پر کچھ گروپس کو متحرک کیا گیا جنہوں نے ڈاکٹر شیریں مزاری اور حامد میر دونوں کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ کچھ نے نہ صرف حامد میر پر حملہ کیا بلکہ انہوں نے محمد مالک، جاوید چوہدری اور کامران شاہد کو بھی گالیاں دینا شروع کردی۔
انگریزی اخبار دی نیوز کے مطابق اے آر وائی نیوز نے کچھ دینی علماء سے رابطہ کیا اور ان سے حامد میر کی مذمت کرنے کو کہا، بہت سے معروف علمائے کرام نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا لیکن چند نامعلوم مولویوں نے حامد میر سے مولانا طارق جمیل سے معافی مانگنے کے بیانات جاری کرنا شروع کر دیے۔
پھر کچھ ٹی وی اینکرز جنھیں پی ایم ہاؤس میں ٹیلی تھون میں مدعو نہیں کیا گیا تھا اس تنازعہ میں کود پڑے اور مولانا طارق جمیل کی حمایت میں ٹویٹس کیں۔
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ دو ٹی وی چینلز اے آر وائے اور بول نے پروفیشنل حسد کی وجہ سے حامد میر کے خلاف باقاعدہ مہم شروع کی۔ بول ٹی وی نے خلیل الرحمان قمر کو مدعو کیا جس نے تمام صحافیوں کے خلاف نازیبا اور ہتک آمیز زبان استعمال کی۔
سوشل میڈیا پر جاری مہم میں ٹرولز جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور یہ دھمکیاں ان اکاؤنٹس سے مل رہی ہیں جنہوں نے پی ٹی آئی کا جھنڈا، عمران خان کی تصاویر یا قرآنی آیات ڈسپلے پر آویزاں کر رکھی ہیں۔
اس سب کے باوجود پی ٹی آئی کی قیادت نے خاموشی اختیار کیے رکھی حالانکہ یہ ان کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ ان لوگوں کا دفاع کریں جنہوں نے فنڈ اکٹھا کرنے میں وزیر اعظم کی مدد کی۔
بالآخر پی ٹی آئی کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری احمد جواد نے حامد میر کی حمایت میں ٹویٹ کر کے لکھا کہ کیا وزیر اعظم نے کبھی حامد میر پر تنقید کی؟ ہمارے ابتدائی دنوں میں وہ پی ٹی آئی کی بہت بڑا سپورٹ تھے۔
ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ میں میڈیا سمیت کسی کے خلاف گالی گلوچ اور دھونس جمانے کی روایت کی کبھی بھی حوصلہ افزائی نہیں کروں گا۔
جب احمد جواد نے مؤقف اختیار کیا تو وہ بھی سوشل میڈیا حملہ آوروں کی زد میں آ گئے جو جعلی نام اور شناخت استعمال کر رہے تھے۔ پی ٹی آئی کے انفارمیشن سکریٹری نے ٹویٹر پر بہت سے لوگوں سے پوچھا کہ وہ ڈاکٹر شیریں مزاری اور حامد میر کے خلاف گندی زبان کیوں استعمال کررہے ہیں؟ ان میں سے بیشتر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور ان میں سے کچھ نے اپنا طرز عمل تبدیل کیا۔
احمد جواد نے محسوس کیا کہ یہ سائبر کمانڈوز جو گالی گلوچ والے ٹرینڈ میں سرگرم ہیں 40 سے زائد نہیں۔ یہ سب ایک مخصوص گروپ کا حصہ تھے جو ایک دوسرے کی ٹویٹس کو ری ٹویٹس کر رہے تھے۔
ان کے اندازے کے مطابق یہ پی ٹی آئی کی آفیشل سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ بھی نہیں ہیں لیکن وہ پارٹی کی اپنی ہی سینیر وزیر کے خلاف مہم چلانے میں اپنی ہی پارٹی کا نام استعمال کر رہے ہیں۔
دی نیوز کو معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر شیریں مزاری نے وزیر اعظم سیکریٹریٹ میں کچھ متعلقہ حلقوں سے بھی بات کی اور ان سے اس مہم کے پیچھے ماسٹر مائنڈ تلاش کرنے کو کہا۔ شیریں مزاری اور حامد میر دونوں ہی پچھلے کچھ سالوں میں بار بار ہیش ٹیگ کے رجحانات کا نشانہ بنے۔
دونوں میں کچھ مشترک ہے۔ دونوں ہی کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف جرات مندانہ موقف کے لیے جانے جاتے ہیں لیکن جب بھی وہ کچھ مقدس گائے سے سوال کرتے ہیں تو وہ غدار بن جاتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے ایک اور وزیر فواد چوہدری نے بھی سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں کی نشاندہی کی ہے جو پارٹی کا نام استعمال کرتے ہیں لیکن پارٹی لائن پر عمل نہیں کرتے ہیں۔
فواد چوہدری کا خیال ہے کہ ان لوگوں کی خدمات ہر ایک کو کچھ ہزار روپے میں دستیاب ہیں لیکن وقت آ گیا ہے کہ ان لوگوں کی حوصلہ شکنی کی جائے جو ہمارے معاشرے میں اس وقت تفرقہ ڈال رہے ہیں جب ہمیں اتحاد کی ضرورت ہے۔
یہ امر اہم ہے کہ پاکستان نے حال ہی میں عالمی پریس آزادی انڈیکس میں تین پوائنٹس کھوئے تھے، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اپنی سالانہ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ 2019 سے میڈیا کی آزادی کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
وزارت اطلاعات میں وزیراعظم عمران خان کے تعینات کردہ نئے میڈیا منیجرز کے لیے چیلنج ہے کہ وہ ایسے افراد کی نشاندہی کریں جو میڈیا اور حکومت کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔