شمالی کوریا کے سربراہ کم جانگ کے متعلق گزشتہ کئی دنوں سے افواہیں چل رہی تھیں کہ انکی ہلاکت ہوچکی ہے۔ اب انہوں نے منظرعام پر آ کر تمام افواہوں کا خاتمہ کر دیا ہے، وہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران پہلی بار منظرعام پر آئے ہیں۔
کم جانگ کی طبیعت کی خرابی بارے افواہیں اس وقت شدت اختیار کر گئیں جب وہ 15 اپریل کو شمالی کوریا کے بانی اور روحانی صدر کم سنگ کی یوم پیدائش کی تقریبات میں شریک نہ ہوئے۔
عالمی میڈیا پر شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ ان کی موت کی قیاس آرائیاں
15 اپریل کو شمالی کوریا میں سب سے اہم چھٹی کا دن ہوتا ہے اور اس میں کم جانگ کی شرکت نہ کرنے سے انکی صحت کے متعلق سوال اٹھائے گئے، شمالی کوریا کے بانی کم سانگ ملک کے موجودہ سربراہ کم جانگ کے دادا ہیں۔
شمالی کوریا کے سپریم لیڈرکم جانگ کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ دل کی سرجری کے بعد انکی طبیعت شدید خراب ہے۔ اسکے بعد عالمی میڈیا میں شمالی کوریا کے متوقع نئے سربراہ کے متعلق بھی چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔
افواہ سازوں نے یہ بھی کہا کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد کم جانگ قرنطینہ ہوگئے ہیں، یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ چین نے شمالی کوریا کے شدید بیمار سربراہ کے علاج کیلئے ڈاکٹر بھیجے ہیں۔
شمالی کوریا کے سربراہ کی جانب سے گزشتہ روز ایک نئی کھاد فیکٹری کا افتتاح کیا گیا اور شمالی کوریا کی خبررساں ایجنسی کی جانب سے کم جانگ کی اپنی بہن کے ہمراہ اس تقریب میں شرکت کی تصاویر جاری کی گئیں۔
تاہم شمالی کوریا کی خبررساں ایجنسی کی جانب سے اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ سپریم لیڈر کم جانگ ریاست کے بانی کی یوم پیدائش کی تقریبات میں شرکت سے کیوں محروم رہے۔
ماضی میں شمالی کوریا کے سربراہوں سے متعلق چند افواہیں سچ نکلی ہیں، ان میں سے ایک 2008ء میں کم جانگ کے والد کی صحت سے متعلق تھی جو بعد میں درست نکلی، مگر ماضی میں بھی زیادہ تر افواہیں بے بنیاد ثابت ہوئیں۔
اس کی ایک بڑی مثال شمالی کوریا کے بانی کی موت کے متعلق ایک جھوٹی خبر تھی، 1986ء میں جنوبی کوریا کے ایک اخبار نے خبر دی کہ شمالی کوریا کے بانی اور کم جانگ کے دادا کم سنگ، جو کہ اس وقت ملک کے صدر تھے، کو ایک مسلح حملہ میں قتل کردیا گیا ہے۔
جنوبی کوریا کے اخبار نے اس خبر کو”عالمی سکوپ“ کے طور پر پیش کیا مگر دو روز بعد ہنستے مسکراتے کم سنگ منظرعام پر آ گئے۔
اسی طرح 2014ء میں کم جانگ ایک ماہ کیلئے غائب ہو گئے تھے جس پر افواہیں پھیل گئیں کہ فوجی بغاوت کے نتیجہ میں انہیں حکومت سے ہاتھ دھونا پڑ گئے ہیں، ایک ماہ بعد شمالی کوریا کے سربراہ نے منظرعام پر آ کر افواہیں ختم کر دی تھیں۔