روس میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 10 ہزار 633 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد وبا سے متاثرہ افراد کی کل تعداد ایک لاکھ 34 ہزار 687 ہو گئی ہے۔
روس کورونا وائرس کا نیا مرکز بنتا جا رہا ہے جہاں روزانہ کسی بھی یورپی ملک سے زیادہ تعداد میں مریض سامنے آ رہے ہیں، اب تک ایک ہزار 280 افراد اس وبا کے ہاتھوں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
یورپ، امریکہ کے بعد کورونا وائرس نے روس اور برازیل کا رخ کر لیا
روسی وزیراعظم کورونا وائرس کا شکار ہو گئے
صدر ولادی میر پیوٹن نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنیوالوں کی نشاندہی کے لیے ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز استعمال کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
روس میں ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، ماسکو کے میئر سرجی سوبیانن نے اعتراف کیا ہے کہ ابتک دو ہزار سے زائد میڈیکل ورکرز اسپتال میں داخل کیے جا چکے ہیں۔
کورونا وائرس کا دباؤ اسقدر ہے کہ اب تک تین ڈاکٹرز اسپتال کی کھڑکیوں سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کر چکے ہیں، انہیں شکوہ تھا کہ حکومت ضروری حفاظتی لباس فراہم نہیں کر رہی۔
حکومت کو خدشہ ہے کہ موسم بہار کا گرم موسم اور چھٹیوں کے دن لوگوں کو پارکس وغیرہ میں بڑی تعداد میں کھینچ سکتے ہیں اس لیے ڈرونزاور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے لاک ڈاؤن کی نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
روس میں ہفتے کو نازی جرمنی کی شکست کو 75 برس پورے ہونے کی جبکہ پیر اور منگل کو سرکاری چھٹی ہے۔
ماسکو اس وقت کورونا وبا کا مرکز بن چکا ہے، میئر کا کہنا ہے اب تک شہر کے دو فیصد افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں، یہ تعداد ڈھائی لاکھ سے زیادہ بنتی ہے۔
اسپتال کی کھڑکی سے چھلانگ لگانے والے تیسرے ڈاکٹر الیگزینڈر شولی پوف کو سر پر چوٹیں آئی ہیں اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اس کے باوجود انتظامیہ انہیں مریضوں کی دیکھ بھال پر مجبور کر رہی ہے۔