• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 17, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

کیا بازار سے خریدی گئی سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیا سے کورونا کا خطرہ ہے؟

by sohail
مئی 3, 2020
in تازہ ترین, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کورونا وبا کے پھیلاؤ کے بعد زندگی میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں ان میں سے ایک بازاروں سے شاپنگ کرنا ہے، خریداری کے وقت سماجی فاصلے قائم رکھنا اور خوف کے عالم میں ضرورت سے زیادہ اشیاء خرید کر لینا ایک بڑی آزمائش بن چکا ہے۔

لیکن اہم سوال یہ ہے کہ جو خوراک دکانوں کے شیلف میں رکھی ہے، اسے گھر لے آنے سے کورونا میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے؟ کیا سبزیوں اور پھلوں کو استعمال سے پہلے دھونے یا ان پر سپرے کرنا ضروری ہے؟

کورونا وائرس کی نئی علامات سامنے آ گئیں، کل تعداد 9 ہو گئی

نیوزی لینڈ نے کن تین باتوں پر عمل کر کے کورونا کے خلاف فتح حاصل کی؟

امریکی کمپنی کی دوائی جس سے کورونا کے مریض تیزی سے صحتیاب ہونے لگے

لیورپول کی ہوپ یونیورسٹی کی لیکچرار ڈاکٹر پرپیتا ایمیگی کا کہنا ہے کہ خطوط اور پارسل کے معاملے میں بہت احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ یہ وائرس پھیلانے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کارڈبورڈ اور پلاسٹک جیسی اشیاء کورونا وائرس کے لیے بہترین جائے رہائش ہے، انہیں گھر کے کچن میں لانا کورونا وائرس کو گھر میں دعوت دینے کے مترادف ہے۔

تاہم ایک خوشخبری کی بات یہ ہے کہ خوراک کے پیکٹس میں کورونا کے پھیلاؤ کا خطرہ بہت کم ہے، این ایچ ایس کا کہنا ہے کہ ابھی تک پیکجز یا خوراک کو گھر لانے سے وائرس کے پھیلاؤ کا کوئی امکان نظر نہیں آیا۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ پلاسٹک اور ٹن پیکس کو ٹھنڈے پانی سے دھو لینے میں کوئی حرج نہیں البتہ خوراک کی تیاری اور اسے کھانے سے پہلے ہاتھ دھو لینا بہت ضروری ہے، اسی طرح بازار سے شاپنگ کے بعد ہاتھوں کو لازمی دھونا چاہیے۔

ڈاکٹر آنا بینرجی کا مشورہ ہے کہ دل کی تسلی کے لیے شاپرز اور دوسری پیکجنگ کو گھر میں لانے کے بجائے باہر ہی پھینک دیا کریں۔

اسی طرح سبزیوں اور پھلوں کو استعمال کرنے سے پہلے ٹھنڈے پانی سے خوب دھو لینا ایک اچھی عادت ہے تاہم اس کے لیے صابن کبھی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

یاد رہے کہ کورونا وائرس ہوا میں تین گھنٹے، تابنے پر چار گھنٹے، کارڈبورڈ پر 24 گھنٹے جبکہ پلاسٹک اور سٹین لیس سٹیل پر دو سے تین گھنٹے تک موجود رہتا ہے۔

Tags: پلاسٹک، شاپر، کارڈبورڈ اور کورونا وائرسکورونا وائرسکورونا وائرس اور سبزیاں، پھل
sohail

sohail

Next Post

کورونا ویکسین آنے تک بین الاقوامی فضائی سفر کی کیا صورت ہو گی؟

رشی کپور کی آخری رسومات پر عالیہ بھٹ موبائل فون کیوں استعمال کرتی رہیں؟ سوشل میڈیا صارفین کی تنقید

ایک کلو آٹے کے پیکٹس میں 15 ہزار روپے، عامر خان نے وضاحت کر دی

جب بھارت کے فاسٹ بالر محمد شامی خودکشی پر تیار ہو گئے تھے

بیٹے کی والد کے گلے ملنے کی خواہش، کورونا کے شکار رضا چوہدری کی المناک داستان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In