کورونا وبا کے پھیلاؤ کے بعد زندگی میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں ان میں سے ایک بازاروں سے شاپنگ کرنا ہے، خریداری کے وقت سماجی فاصلے قائم رکھنا اور خوف کے عالم میں ضرورت سے زیادہ اشیاء خرید کر لینا ایک بڑی آزمائش بن چکا ہے۔
لیکن اہم سوال یہ ہے کہ جو خوراک دکانوں کے شیلف میں رکھی ہے، اسے گھر لے آنے سے کورونا میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے؟ کیا سبزیوں اور پھلوں کو استعمال سے پہلے دھونے یا ان پر سپرے کرنا ضروری ہے؟
کورونا وائرس کی نئی علامات سامنے آ گئیں، کل تعداد 9 ہو گئی
نیوزی لینڈ نے کن تین باتوں پر عمل کر کے کورونا کے خلاف فتح حاصل کی؟
امریکی کمپنی کی دوائی جس سے کورونا کے مریض تیزی سے صحتیاب ہونے لگے
لیورپول کی ہوپ یونیورسٹی کی لیکچرار ڈاکٹر پرپیتا ایمیگی کا کہنا ہے کہ خطوط اور پارسل کے معاملے میں بہت احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ یہ وائرس پھیلانے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کارڈبورڈ اور پلاسٹک جیسی اشیاء کورونا وائرس کے لیے بہترین جائے رہائش ہے، انہیں گھر کے کچن میں لانا کورونا وائرس کو گھر میں دعوت دینے کے مترادف ہے۔
تاہم ایک خوشخبری کی بات یہ ہے کہ خوراک کے پیکٹس میں کورونا کے پھیلاؤ کا خطرہ بہت کم ہے، این ایچ ایس کا کہنا ہے کہ ابھی تک پیکجز یا خوراک کو گھر لانے سے وائرس کے پھیلاؤ کا کوئی امکان نظر نہیں آیا۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ پلاسٹک اور ٹن پیکس کو ٹھنڈے پانی سے دھو لینے میں کوئی حرج نہیں البتہ خوراک کی تیاری اور اسے کھانے سے پہلے ہاتھ دھو لینا بہت ضروری ہے، اسی طرح بازار سے شاپنگ کے بعد ہاتھوں کو لازمی دھونا چاہیے۔
ڈاکٹر آنا بینرجی کا مشورہ ہے کہ دل کی تسلی کے لیے شاپرز اور دوسری پیکجنگ کو گھر میں لانے کے بجائے باہر ہی پھینک دیا کریں۔
اسی طرح سبزیوں اور پھلوں کو استعمال کرنے سے پہلے ٹھنڈے پانی سے خوب دھو لینا ایک اچھی عادت ہے تاہم اس کے لیے صابن کبھی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ کورونا وائرس ہوا میں تین گھنٹے، تابنے پر چار گھنٹے، کارڈبورڈ پر 24 گھنٹے جبکہ پلاسٹک اور سٹین لیس سٹیل پر دو سے تین گھنٹے تک موجود رہتا ہے۔