بھارت کے فاسٹ بالر محمد شامی نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ برس ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی دکھانے سے پہلے وہ کئی مسائل کی بنا پر خودکشی کرنے کا سوچ رہے تھے۔
اپنے ساتھی کھلاڑی روہت شرما کے ساتھ انسٹاگرام پر پوسٹ کے دوران انہوں نے بتایا کہ اگر میری فیملی اس وقت میرا ساتھ نہ دیتی تو میں کرکٹ ترک کر چکا ہوتا، شدید ذہنی دباؤ کے باعث میں نے تین مرتبہ خودکشی کرنے کا سوچا۔
پورے کیرئیر میں ٹنڈولکر کو ایک بار روتے دیکھا، سارو گنگولی
شعیب اختر کا کیرئیر بچانے میں جگموہن ڈالمیا کا اہم کردار تھا، سابق چیئرمین پی سی بی کا انکشاف
محمد شامی نے انکشاف کیا کہ میں اس وقت کرکٹ کے متعلق نہیں سوچ رہا تھا، ہم 24ویں منزل پر رہتے تھے اور میرے گھر والوں کو خطرہ تھا کہ کہیں میں کھڑکی سے چھلانگ نہ لگا دوں۔
2018 میں گھریلو تشدد کے الزامات کے باعث بی سی سی آئی نے شامی کے ساتھ کنٹریکٹ روک دیا تھا جسے بعد میں جاری کر دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران میرے دو یا تین دوست ہر وقت میرے ساتھ رہتے تھے، میرے والدین نے اس مرحلے سے نکلنے کے لیے مجھے کرکٹ کے علاوہ کسی اور چیز پر توجہ نہ دینے کا کہا۔
بھارتی بالر نے وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں واپسی سے پہلے وہ اپنے وزن، انجری اور اپنی ناراض بیوی سے قانونی لڑائی جیسے مسائل کی وجہ سے خودکشی پر آمادہ تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ پھر میں نے دہرہ دون اکیڈمی میں تربیت شروع کی اور سخت مشقت کر کے اپنے ڈیپریشن سے پیچھا چھڑایا، میرے گھر والوں نے مجھے سمجھایا کہ مسئلہ جتنا بھی بڑا ہو اس کا حل ضرور ہوتا ہے، اس وقت میرے بھائی نے میری بہت مدد کی۔
شامی نے ورلڈ کپ میں شاندار کم بیک کیا، انہوں نے 4 میچز میں 14 وکٹیں حاصل کیں جن میں ایک ہیٹ ٹرک بھی شامل تھی۔
2013 میں ڈیبیو کرنے کے بعد انہوں نے اب تک 49 ٹیسٹ میچز میں 180 وکٹیں جبکہ 77 ون ڈے میچز میں 144 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
ویرات کوہلی نے ایک بار ان کی تعریف میں کہا تھا کہ یہ ایسا نوجوان ہے جو جو بالکل غیرمتوقع طور پر میچ کا پانسہ پلٹ سکتا ہے۔