سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ صوبے کے حق پر وفاق قدغن نہیں لگا سکتا جبکہ ایسی سرگرمیاں جن سے وفاق کو ریونیو آتا ہے صوبائی حکومتیں انھیں بند نہیں کر سکتیں۔
کورونا وبا کے متعلق حکومتی اقدامات پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران
عدالت نے وفاق اور صوبائی حکومتوں کو پالیسی بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ اگر کوئی پالیسی نہ بنی تو حکمنامہ جاری کر دیں گے۔ عدالت نے ہدایات جاری کی ہیں کہ ایسی پالیسی ہونی چاہیے جس پر تمام شراکت دار متفق ہوں۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر وفاق اور صوبوں کے اختیارات سے متعلق جواب طلب کر لیا ہے۔ کورونا وبا بارے وفاق اور صوبائی حکومتوں کو مل کر یکساں قومی پالیسی بنانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے۔
عدالت نے خیبر پختونخوا کے سیکرٹری صحت سے پشاور کے ڈبگری گارڈن میں ڈاکٹرز کے ساتھ ناروا سلوک بارے میں رپورٹ طلب کی ہے۔ عدالت نے زکوٰۃ اور بیت المال سے متعلق آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر وفاق اور صوبوں سے جواب طلب کر لیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ زکوٰۃ اور بیت المال فنڈز میں خردبرد کا معاملہ نیب یا ایف آئی اے کو بھیجنے کا فیصلہ آئندہ سماعت پر ہوگا۔
عدالت نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کاروبار کھولنے سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کرے، کاروباری حضرات کی درخواستوں کا جائزہ لیکر سندھ حکومت فیصلہ کرے، سندھ حکومت ایسی پالیسی بنائے کہ کاروبار کھولنے کا اطلاق تمام صنعتوں پر ہو، ایس او پیز طے کرکے کاروبار کھولا جائے۔
پیر کے روز چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے کورونا وبا بارے حکومتوں کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔
دوران سماعت جسٹس عمرعطا بندیا نے ریمارکس دیے کہ ہم گزشتہ سماعتوں میں بھی شفافیت برتنے اور یکساں حکمت عملی اپنانے کی بات کر چکے ہیں، حکومتیں اپنا ذہن استعمال نہیں کر رہیں، ہر کام ردعمل کے طور پر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے مابین یکساں پالیسی نہیں ہے، پورا معاملہ انا پرستی کا بنتا جا رہا ہے، اچھی اور وژنری قیادت کا فقدان ہے، وفاق میں بیٹھے لوگوں کا رویہ متکبرانہ نظر آرہا ہے۔ اس رویے سے وفاق کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ کیا وفاق میں بیٹھے لوگوں کو ایسی زبان استعمال کرنی چاہیئے؟
انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انا اور ضد سے حکومتی معاملات نہیں چلتے، اگر کوئی پالیس ہے تو دکھائیں، بین الصوبائی سروس شروع ہونی چاہیئے، ہم سیلاب، زلزلے سے نکل آئے، اس مسئلے سے بھی نکل آئیں گے لیکن مسئلہ وفاق میں بیٹھے لوگوں کے متکبرانہ رویہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا گزشتہ حکم شفافیت سے متعلق تھا جسے نظرانداز کیا گیا۔ عوام کے حقوق کو مد نظر رکھیں، ایک ہفتے میں یکساں پالیسی بننی چاہیے، صوبے کے اندر سفر اور تجارت ہونی چاہیے، ٹرکوں میں چھپ کر لوگ سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگ بارہ گھنٹے کے زمینی سفر کیلئے ہوائی سفر کا کرایہ ادا کر رہے ہیں، وفاق اور صوبوں کے درمیان یکساں پالیسی کا نہ ہونے کی وجہ انا پرستی اور غرور ہے، ایک ہفتے میں یکساں پالیسی بنائیں، ایک ہفتے میں معاملات حل نہ ہوئے تو ہم عبوری حکمنامہ جاری کریں گے۔
دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا ہے کہ صوبے کو تجارتی سرگرمیاں بند کرنے کا اختیار کیسے مل گیا؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ حکومت نے عدالت کو بتایا کہ سندھ وبائی ایکٹ کی شق تین کے تحت حکومت وبا کی صورت میں احتیاطی تدابیر اختیار کر سکتی ہے۔
جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 151 کی شق چار کے تحت صوبے کو تجارتی سرگرمیاں معطل کرنے کیلئے صدر سے اجازت ضروری ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر مملکت سے اجازت کے بغیر صوبہ تجارتی سرگرمیاں معطل نہیں کر سکتا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کے ارادے نیک ہوں گے، لیکن کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔
سندھ حکومت کے وکیل نے بتایا کہ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی اجلاس کے بعد کچھ انڈسٹریز اور سروسز کھولنے کا فیصلہ ہوا، کچھ کاروبار کھول دیے گئے ہیں جبکہ کچھ آئندہ دنوں میں غور کے بعد کھول دیئے جائیں گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو دکانیں اور کاروبار بند ہیں عوام کی اکثریت ان سے وابستہ ہے، غریب لوگ چھوٹے کاروبار کرتے ہیں اور دکانیں چلاتے ہیں۔ جن شعبہ جات کو کھولا گیا ان کا عوام کو کیا فائدہ ہوا۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ٹرینیں کیوں نہیں چل رہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹرینوں پر لوگ لٹک کر جا رہے تھے جس سے حادثات کا امکان تھا اس لیے بند کر دیے، ٹرینوں کے حوالے سے آئندہ اجلاس میں غور ہوگا، چھوٹی تجارتی سرگرمیوں کو بھی کھولنے پر غور کیا جائے گا، قومی سلامتی کے 9 مئی کے اجلاس میں حتمی فیصلے ہوں گے، ریلوے کو کھولنے کے شیڈول پر بھی غور ہورہا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پی آئی اے ہزاروں ڈالر ٹکٹ کا کرایہ لیتا ہے، ایک سیٹ پی آئی اے کے جہاز میں سماجی فاصلے کے لیے خالی نہیں چھوڑی جاتی۔
جسٹس قاضی امین نے شاعرانہ انداز میں اٹارنی جنرل سے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب کوئی وعدہ مسیحائی کا؟ صرف باتیں کی جا رہی ہیں کوئی عملی کام نہیں کیا جا رہا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو کرنا ہے اس میں شفافیت ہونی چاہیے، کسی پولیس والے کو عوام سے بدتمیزی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، لاہور میں لوگوں سے پیسے لیے بغیر قرنطینہ میں نہیں رکھا جا رہا، جب تک پیسے نہ دو یہ لوگ میت واپس نہیں کرتے، پتا نہیں یہ لوگ کس مٹی سے بنے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کرپشن کس حد تک ہمارے نظام میں سرایت کر گئی ہے، آپ کے پاس حکومت ہے، قانون ہے، ایجنسیاں ہیں، پولیس ہے لیکن پھر بھی یہ کرپشن اور بے ایمانی ہو رہی ہے، نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کیا کر رہے ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ احتساب کا ایک اور ادارہ بنایا تو کرپشن کی رفتار مزید تیز ہوجائے گی، کیا گندم غائب کرنے والے انسان کہلانے جا سکتے ہیں؟ ابھی کسی کرپٹ بندے کو عدالت بلائیں دیکھیے گا کیسے جھوٹ بولے گا، لوگوں کے اندر انسانیت والی حس ہی نہیں صرف گوشت کا ٹکڑا رہ گیا ہے، عدالت کے سامنے آ کر جھوٹ بولتے ہیں، جھوٹی اور غلط رپورٹس جمع کرائی جاتی ہیں۔ جو ذکواۂ اور صدقے کا پیسہ کھا جائیں ان سے کیا توقع رکھیں گے، آڈیٹر جنرل کے مطابق ذکواۂ اور بیت المال کا پیسہ کرپشن کی نظر ہوگیا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ بیت المال کے فنڈ میں کرپشن یا غبن نہیں ہوئی، آڈٹ حکام نے 54 اعتراضات عائد کیے تھے 48 کے جواب آ گئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جو ریکوری ہوئی کیا یہ کرپشن نہیں تھی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مریض کیلئے مختص جو پیسے استعمال نہیں ہوئے وہ ریکوری میں ڈالے گئے۔
جسٹس امین نے استفسار کیا کہ سنا ہے زکوٰۃ سے متعلق کمیٹی کا سربراہ حکومت نے اپنے کسی سیاسی اتحادی کو لگایا ہے، اسکے تمام اخراجات بھی زکوٰۃ کی رقم سے ادا ہورہے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے حوالے سے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وہاں صورتحال اچھی نہیں، اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔
جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا خیبرپختونخوا میں میڈیکل کلینک کھل گئے؟ ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں تقریباً تمام علاقے کھول دئیے گئے ہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پولیس کی جانب سے میڈیکل شعبہ کے لوگوں پر تشدد کیا گیا، کیا خیبرپختونخوا پولیس شتر بے مہار ہے، ڈاکٹر ہوٹلوں میں جا کر مریضوں کا معائنہ کررہے ہیں، کنسلٹنٹ کے ساتھ پولیس نے بدسلوکی کی، ڈاکٹر کو کنسلٹنٹ بننے کے لیے 20 سال لگتے ہیں، پولیس کو لائسنس دے دیا گیا جس کی مرضی گردن پکڑ لیں، خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں ڈاکٹرز پر تشدد کر کے لہو لہان کیا گیا، سیکریٹری صحت ڈاکٹر نہیں ہیں، اسی وجہ سے خیبرپختونخوا میں شعبہ صحت کا یہ حال ہے۔
چیف جسٹس نے این ڈی ایم اے سے غیر ملکی امداد کی تقسیم کی تفصیل طلب کرلی۔ عدالت نے کہا ہے کہ تفصیل دی جائے کہ جتنی غیر ملکی امداد آرہی ہے، کہاں خرچ ہو رہی ہے، کہاں جارہی ہے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جتنی بھی امداد آئی اس میں سے ہسپتالوں تک کچھ بھی نہیں پہنچا۔
دوران سماعت ڈسٹرکٹ بار اسلام آباد اور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلاء رہنماؤں نے سپریم کورٹ میں استدعا کی کہ لاک ڈاؤن کے سبب متعدد وکلاء کے معاشی حالات درست نہیں ہیں، بینک ہمیں قرضہ نہیں دیتے انھیں وکلاء کو قرضہ دینے کی ہدایت کی جائے، بینک وکلاء سے امتیازی سلوک کرتے ہیں۔
جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ وکلاء سے امتیازی سلوک کی بات آپ ہمیں نہ بتائیں، وکلاء سے جان چھڑانی مشکل ہو جاتی ہے، لوگ وکلاء سے ڈرتے ہیں، ہم نے اس ساری صورتحال کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔
