اسلام آباد: سلطنت عثمانیہ کے بانی کی زندگی پر مبنی ترکی ڈرامہ ‘ارطغرل غازی’ پاکستان سمیت کئی مسلمان ممالک میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر چکا ہے۔
اس کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اسے پاکستان ٹیلی وژن پر نشر کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد اب یہ باقاعدہ پی ٹی وی ہوم پر دکھایا جا رہا ہے۔
تاہم اب وزیراعظم کے قریبی ساتھی سینیٹر فیصل جاوید نے بتایا ہے کہ عمران خان ایک اور ترک ڈرامے ‘یونس ایمرے’ کو بھی پاکستان میں نشر کرنے کے خواہشمند ہیں۔
اپنے ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ارطغرل غازی کے بعد عمران خان یونس ایمرے کو بھی نشر کرنا چاہتے ہیں، یونس ایمرے ایک اسلامی شاعر، صوفی اور ایک غریب دیہاتی تھے۔
….for unity. Yet another hit created by Mehmet Bozdag is a Journey of Transformation. Yunus Emre was well versed in mystical philosophy, esp that of the 13th-century poet and mystic Jalaluddin Rumi. Serial is a great example of a meticulous attention to detail work @trtworld pic.twitter.com/svDX4Z2M2L
— Faisal Javed Khan (@FaisalJavedKhan) May 4, 2020
انہوں نے مزید لکھا کہ یہ ایک ایسے عظیم صوفی کی کہانی ہے جنہوں نے اپنی زندگی اللہ اور اتحاد کے لیے صرف کر دی، یہ محمد بوزدک کا ایک اور مقبول ڈرامہ ہے جو تبدیلی کے سفر کی داستان ہے۔
سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ یونس ایمرے صوفی فلسفے، بالخصوص 13وی صدی کے شاعر اور صوفی جلال الدین، کے متعلق بہت علم رکھتے تھے۔
یونس ایمرے کون تھے؟
درویش یونس کے لقب سے معروف، یونس ایمرے 14ویں صدی میں ترکی کے عوامی شاعر اور صوفی تھے جنہوں نے ترکی کی ثقافت پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔
ان کی شاعری پرانی اناطولیہ کی زبان میں ہے جو جدید ترکی کے آغاز کے ابتدائی مراحل میں پروان چڑھی تھی۔
یونس ایمرے نے اپنے دور سے لے کر آج تک ترکی ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، وہ ان ابتدائی شعرا کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے عربی اور فارسی کے بجائے بول چال کی ترکی زبان میں شاعری کی ہے۔
ان کی شاعری بہت سادہ زبان میں ہونے کے باوجود صوفیانہ تصورات کو عام فہم انداز میں بیان کرتی ہے، وہ آج بھی آذربائیجان سے بلقانی ریاستوں تک کئی ممالک میں مقبولیت رکھتے ہیں۔
یونس ایمرے 1238 میں صاری کوئے نامی گاؤں میں پیدا ہوئے، جوانی میں انہوں نے خانقاہوں سے علم کی پیاس بجھائی اور ایک وقت میں نالیجان شہر میں قاضی کے عہدے پر فائز ہو گئے۔
اس دوران ان کی تاپدوک ایمرے سے ملاقاتیں ہوئی جنہوں نے ان کی کایا پلٹ دی اور انہوں نے اپنے استاد کے ساتھ وقت گزارنے کا فیصلہ کر لیا، وہ 40 برس تک تاپدوک ایمرے کی خدمت میں مصروف رہے۔
ایک ایسے وقت میں جب سلجوقی، منگول اور دیگر قبائل جنگ و جدل میں مصروف تھے، یونس ایمرے نے انسان دوستی اور اتحاد کا درس دیا۔
ان کا انتقال 1320 میں ہوا، ان کے حالات زندگی پر 22 اقساط پر مشتمل ڈرامہ بنایا گیا جو 2015 میں نشر ہوا، اس کا دوسرا سیزن اگلے سال نشر کیا گیا، یہ بھی 22 اقساط پر ہی مشتمل تھا۔