انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس بیچ 2014 ہریانہ کیڈر کی آفیسر نے گورنمنٹ ڈیوٹی کے دوران ذاتی حفاظت کے معاملے پر استعفیٰ دیدیا ہے، اپوزیشن جماعت کانگریس نے اسے تہلکہ خیز قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ منوہر لال کھتار کی ناکامی کا ثبوت قرار دیا ہے۔
35 سالہ رانی نگار نے حال ہی میں آرکائیو ڈیپارٹمنٹ میں ڈائریکٹر کے ساتھ سوشل جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ میں ایڈیشنل ڈائریکٹر کا چارج سنبھالا تھا۔
اس سے قبل مسز نگار نے فیس بک پوسٹ میں لکھا تھا کہ وہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد مستعفی ہوجائیں گی، انہوں نے اپنا استعفیٰ چیف سیکرٹری کیشنی آنند اروڑا کو بھجوادیا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس کی منظوری کے لیے یونین گورنمنٹ کی مجاز اتھارٹی کو بھجوا دیں۔
چیف سیکرٹری آفس کے حکام نے استعفیٰ وصول کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے، نگار نے استعفیٰ فیس بک پر پوسٹ کر دیا ہے اور وہ اپنی ہمشیرہ کے ساتھ چندی گڑھ سے اپنے آبائی علاقہ غازی آبادروانہ ہوگئی ہیں۔
نگار کے استعفیٰ کو کانگریس کے مرکزی ترجمان رندیپ سنگھ سورج والا نے ’تہلکہ خیز واقعہ ‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور اتحادی جماعت جس صوبہ میں حکمران ہے اس میں انڈین ایڈمنسٹریشن سروس کی خاتون آفیسر نے اس لیے استعفیٰ دیدیا کہ وہ خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایک سول سروس کی خاتون آفیسر حکومتی فرائض کی انجام دہی میں خود کو غیرمحفوظ سمجھتی ہیں تو پھر ہریانہ میں کون محفوظ ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ یہ ہریانہ حکومت کیخلاف عدم اعتماد ہے۔
وزیر اعلیٰ ہریانہ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خاتون آفیسر کا استعفیٰ کیا آپ کی حکومت کی ناکامی کا ثبوت نہیں ہے؟
مسز نگار2018ء میں اس وقت میڈیا میں زیر بحث آئیں تھیں جب انہوں نے ریاست کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پر انہیں حراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
حکومت کے سینئر عہدیدار کے مطابق ریاستی حکومت نے اُن کے الزامات پر تحقیقات کی تھیں تاہم آفیسر کیخلاف الزامات ثابت نہیں ہوسکے تھے۔
نگار اپنی بہن کے ہمراہ یو ٹی گیسٹ ہاؤس چندی گڑھ میں رہائش پذیر تھیں جب انہوں نے فیس بک پوسٹ میں کہا تھا کہ ایک سینئر بیوروکریٹ کیخلاف متعدد شکایات کے باوجود کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
گزشتہ سال انہوں نے فیس بک پوسٹ میں کہا تھا کہ ایک سینئر بیوروکریٹ کیخلاف انہوں نے عدالت میں شکایت درج کرائی ہے، ان کی اور بہن کی زندگیوں کو مسلسل خطرہ ہے۔
انہوں نے اپنے فیس بک فرینڈز سے درخواست کی تھی کہ اگر وہ لاپتہ ہوجائیں تو وہ اس معاملے کو عدالت کے علم میں لے آئیں۔