سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بی آر ٹی منصوبے پر ایک قدم آگے تو دو قدم پیچھے والی مثال صادق آتی ہے، عوام کا پیسہ ضائع ہو گا تو باز پرس بھی ہو گی۔
یہ ریمارکس سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال نے دو رکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے پراجیکٹ کیس کی سماعت کے دوران دیے۔
تاہم سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی میں توسیع کر دی ہے۔ عدالت نے منصوبے پر درخواست گزار کے اعتراضات پر خیبر پختونخوا حکومت سے جواب بھی طلب کر لیا ہے۔
سپریم کورٹ: 15 سالہ طالبہ کے ساتھ زیادتی کے مجرم استاد کی سزا برقرار
وفاق اور صوبائی حکومتیں مل کر یکساں قومی پالیسی بنائیں، چیف جسٹس
دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی اپیل پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، صوبائی حکومت ان اعتراضات کے جواب سے راہ فرار اختیار نہیں کر سکتی۔
دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ منصوبے پر تعمیر کے بعد توڑ پھوڑ ہوتی رہتی ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ بی آر ٹی منصوبہ پر ایک قدم آگے تو دو قدم پیچھے والی مثال صادق آتی ہے، صوبائی حکومت عوام کے پیسہ کی محافظ ہے، بی آر ٹی منصوبہ انہیں کے پیسہ سے بن رہا ہے، اسے احتیاط سے خرچ ہونا چاہیے، پیسہ ضائع ہوجائے تو باز پرس بھی ہوتی ہے۔
انہوں نے استفسار کیا کہ منصوبہ کب آپریشنل ہو گا؟ صوبائی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ منصوبہ کی تکمیل کی تاریخ 31 جولائی ہے تاہم کورونا کی وجہ سے 25 دن سے کام رک گیا ہے۔ عدالت کو مزید بتایا گیا کہ کنٹریکٹر نے تا حال نئی تاریخ نہیں دی۔
عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
عدالت میں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے دو اور صوبائی حکومت کی جانب سے دو درخواستیں دائر کر کے پشاور ہائی کورٹ کے بی آر ٹی سٹرکچر تبدیلی کیس میں دیے گئے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔
واضح رہے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے معاملے پر فیصلہ دیتے ہوئے ایف آئی اے کو تحقیقات کرکے 45 روز میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔
پشاور میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی جانب سے واحد پراجیکٹ کا آغاز 2016 میں ہوا تھا جبکہ اس کے کچھ حصوں میں تعمیر کے بعد کئی بار توڑ کر تبدیلیاں کی گئی ہیں اور یہ منصوبہ ابھی تک تاخیر کا شکار ہے۔