پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل نے دعویٰ کیا ہے کہ وسیم اکرم نے 1992 کے بعد اس بات کو یقینی بنایا کہ گرین شرٹس کی کسی بھی ورلڈ کپ میں جیت ممکن نہ ہو۔
ایک مقامی چینل پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 2003 تک ہر ورلڈ کپ سے قبل وسیم اکرم کو کپتان بنانے کی ایک منظم مہم چلائی جاتی تھی اور ٹورنامنٹ سے عین قبل ٹیم کا کپتان ہٹا دیا جاتا تھا اور وسیم اکرم کپتان بن جاتے تھے۔
شبہ ہے کہ 1999 کا ورلڈ کپ میچ فکسنگ کی وجہ سے ہارے، سابق چئیرمین پی سی بی
وسیم اکرم میچ فکسنگ کے لیے رابطہ کرتے تو قتل کردیتا، شعیب اختر
انہوں نے کہا کہ 1996 کے ورلڈ کپ کے بارے میں بات کریں تو 1995 میں رمیز راجہ کپتان تھے، اس سے پہلے سلیم ملک ٹیم کی قیادت کر رہے تھے، وہ ایک کامیاب کپتان تھے اور ایک سال مزید انہیں برقرار رکھا جا سکتا تھا، لیکن پھر یوں ہوا کہ عین ورلڈ کپ سے پہلے وسیم اکرم کو کپتان مقرر کر دیا گیا۔
عامر سہیل نے کہا کہ وسیم اکرم نے 1992 کے ورلڈ کپ میں اچھی کارکردگی دکھائی تھی، عمران خان شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے بغیر یہ ورلڈ کپ نہ جیت پاتے، انہیں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وسیم اکرم پاکستان کرکٹ کے ساتھ مخلص ہوتے تو ہم آسانی کے ساتھ 96، 99 اور 2003 کے ورلڈ کپ کے فاتح ہوتے، اگر تحقیقات کی جائیں تو ان ورلڈ کپ میں پاکستان کی ہار کا ذمہ دار سامنے آ سکتا ہے۔
میچ فکسنگ اسکینڈل: پی سی بی نے عمر اکمل پر 3 سال کی پابندی عائد کر دی
53 سالہ اوپنرعامر سہیل کا پاکستان کرکٹ میں شاندار کیرئیر ہے، انہوں نے 47 ٹیسٹ میچ اور 156 ون ڈے میں بالترتیب 2823 رنز اور 4780 بنا کر گرین شرٹس کی عالمی سطح پر نمائندگی کی ہے۔