کورونا وائرس کے آغاز کے متعلق نئے شواہد مل گئے، فرانس کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا کے چین میں سامنے آنے سے کئی دن پہلے ان کے ملک میں یہ وائرس موجود تھا۔
فرانس میں ہونیوالے اس انکشاف کے بعد سائنسدانوں کی جانب سے اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ووہان میں کورونا وائرس کے کیسز آنے سے کئی ہفتے یا مہینے قبل یہ وائرس دنیا میں پھیل رہا تھا۔
نیویارک میں کورونا وائرس چین کے بجائے یورپ سے منتقل ہوا، نئی تحقیق
کورونا کے ڈر سے فرانس بھاگ جانیوالی ہانگ کانگ کی ٹیم اس سے نہ بچ پائی
فرانس کے شہر پیرس کے قریبی اسپتال میں 27 دسمبر2019ء کو داخل ہونے والے ایک 27 سالہ مریض کے نمونوں کو دوبارہ ٹیسٹ کیا گیا تواس میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
فرانس کے اس شہری کو خون آلود کھانسی، بخار اور سردرد کی شکایت پر اسپتال کی ایمرجنسی میں جانا پڑا تھا جسے بعدازاں ICUمیں داخل کیا گیا تھا۔ کورونا کے اس مریض کی حالت دو روز بعد 29 دسمبر کو سنبھل گئی تھی۔
کورونا وائرس کا شکار ہونیوالے فرانسیسی شہری نے اگست 2019ء میں الجیریا کا سفر کیا تھا جس کے بعد اس کی جانب سے کوئی غیرملکی سفر نہیں کیا گیا۔ اس شخص کے بیمار ہونے سے قبل اس کے بیٹے میں بھی کورونا جیسی علامات ظاہر ہوئی تھیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ فرانس میں یہ وائرس چین میں سامنے آنے سے بہت پہلے سے پھیل رہا تھا۔
فرانس کے ڈاکٹروں نے دسمبر 2019ء کے آغاز سے لیکر جنوری کے درمیان کے عرصہ میں کورونا جیسی علامات والے مریضوں کے نمونوں کو دوبارہ سے ٹیسٹ کیا ہے جس کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ فرانس میں کورونا وائرس کا مریض دسمبر2019ء میں موجود تھا۔
دنیا کے 11 ممالک جو ابھی تک کورونا وائرس سے محفوظ ہیں
امریکی کمپنی نے دومنٹ میں کورونا وائرس ختم کرنے والا روبوٹ بنا لیا
اس عمل کے دوران فرانسیسی ڈاکٹروں کی جانب سے کل 124 مریضوں کے نمونوں کی پرکھ کی گئی جن میں ایک مریض میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
فرانس میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد اس وقت تک ایک لاکھ 69 ہزار 462 ہے جبکہ 25000 سے زائد افراد اس وبا کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکہ اور کئی دیگر ممالک چین کو کورونا وائرس دنیا میں پھیلانے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں، امریکی صدر کئی بار کہہ چکے ہیں کہ کورونا چین کی ووہان لیبارٹری سے پھیلا۔
چین پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے وبا کے آغاز میں دنیا کو اس کے متعلق آگاہ کرنے کے بجائے اسے چھپانے کی کوشش کی جس کے باعث وائرس کو دنیا میں پھیلنے کا موقع مل گیا۔