وفاقی حکومت نے آئی پی پیز سے متعلق انکوائری کمیشن کو سرد خانے میں ڈالتے ہوئے مکمل تحقیقات اور انکوائری رپورٹ کو کم از کم دو ماہ تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس تاخیر کا مقصد رپورٹ کو بجلی کے نرخوں سے متعلق سودے بازی کے لیے استعمال کرنا ہے۔
اس بات کا فیصلہ کابینہ کے 28 اپریل 2020 کو منعقد ہونے والے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وزیراعظم عمران خان نے کی۔ یہ واضح نہیں کہ کابینہ کے کس رکن نے 21 اپریل 2020 کے کابینہ اجلاس میں کئے گئے فیصلے کو تبدیل اور انکوائری کمیشن کے قیام کو ملتوی کرنے کا خیال پیش کیا۔ کابینہ کے دو سینئر ارکان بھی آئی پی پیز کی ملکیت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے انھیں مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
ہزاروں ارب کے مبینہ گھپلے، آئی پی پیز کے خلاف مزید تحقیقات متوقع
بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کا اس سے پہلے آڈٹ نہیں کرایا گیا، خواجہ آصف کا اعتراف
بزنس ریکارڈر میں شائع ایک خبر کے مطابق آئی پی پیز کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا ایک اور موقع فراہم کرنے کے لیے انکوائری کمیشن کی تشکیل کو پاکستان انکوائری کمیشن ایکٹ 2017 کے تحت 2 ماہ کے لیے موخر کیا جا سکتا ہےجبکہ رپورٹ کو جاری کرنے کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔
وزیر برائے ریلوے نے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس کے دوران اس رپورٹ کو شیئر نہیں کیا گیا۔
محمد علی کی سربراہی میں نو ممبران پر مشتمل کمیٹی نے اپنی انکوائری رپورٹ میں آئی پی پیز پر الزام عائد کیا ہے کہ پچھلے 13 برسوں میں ان کی جانب سے قومی خزانے کو 4.5 کھرب روپے کا نقصان پہنچایا گیا اورحکومت پر زور دیا کہ وہ ان کو غیر قانونی طور پر دی جانے والی رقوم کی وصولی کرے۔ تاہم آئی پی پیز نے کمیٹی کی جانب سے عائد کردہ سارے الزامات کو مسترد کردیا۔
جب آئی پی پیز کا مسئلہ پہلی بار 21 اپریل کو کابینہ کے پرجوش ممبران کے سامنے رکھا گیا تو سی سی او ای کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق رائے کیا گیا کہ اچھی طرزحکمرانی، شفافیت اور احتساب کے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے انکوائری رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کیا جائے۔
کابینہ کے ممبران نے موقف اپنایا کہ انکوائری کمیشن کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کیلئے 90 دن کا ناقابل توسیع ٹائم فریم دیا جائےاور یہ کہ ٹی او آرز کے مسودے کو احتیاط سے تیار کیا جائے اور کمیشن کو مناسب بجٹ اور انسانی وسائل فراہم کئے جائیں۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ نیب نے بھی آئی پی پیز سے متعلق رپورٹ کا نوٹس لے لیا ہے۔
جیسے ہی حکومت نے فرانزک آڈٹ کرانے اور اس کی تمام کارروائی اور رپورٹ کو 90 دنوں میں مکمل کرنے کے لیے ایک انکوائری کمیشن کا اعلان کیا تو آئی پی پیز نے اعلیٰ حکام سے درخواست کی کہ وہ ٹیکنیکل کمیٹی کی تشکیل میں تاخیر کریں کیونکہ آئی پی پیز کے مطابق اس رپورٹ میں منافع سے متعلق معلومات میں واضح خلیج ہے۔
چیئرمین آئی پی پی اے سی خالد منصور نے استدلال کیا کہ آئی پی پیز ملک میں کورونا وائرس سے پیدا صورتحال کے پیش نظر حکومت کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور حکومت کو ریلیف فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر حکومت یکطرفہ فیصلہ کر کے انہیں ختم کرنا چاہتی ہے تو پھر آئی پی پیز لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن میں جانے سے نہیں ہچکچائیں گے۔