ناسا کے سربراہ نے تصدیق کی ہے کہ معروف ہالی وڈ اداکار ٹام کروز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں ایک فلم بنائیں گے۔
ناسا کے ترجمان نے منگل کے روز بتایا کہ ٹام کروز کو خلا میں بھیجا جائے گا اور وہ اسٹیشن میں قیام کریں گے جو ایک اربوں ڈالرز سے بنائی گئی لیبارٹری ہے اور زمین کے محور میں 250 میل اوپر گردش کر رہی ہے۔
2000 سے لے کر اب تک ڈھیروں خلاباز باری باری اس اسٹیشن پر قیام پذیر رہ چکے ہیں جبکہ چند دولتمند سیاح بھی اس دوران یہاں قدم رکھ چکے ہیں، یہاں چند فلمیں بھی بن چکی ہیں جن میں 2002 کی آئی میکس کی دستاویزی فلم بھی شامل ہے۔
تاہم سی این این کے مطابق ٹام کروز پہلے اداکار ہوں گے جو خلا میں قدم رکھیں گے، ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جم برائیڈن سٹائن نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ہم پاپولر میڈیا کے ذریعے انجینئرز اور سائنسدانوں کی نئی نسل میں جذبہ پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ناسا کے بڑے منصوبوں کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔
ڈیڈلائن میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق یہ پہلی ایکشن ایڈونچر فلم ہو گی جو بیرونی خلا میں فلمائی جائے گی۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کروز کس طرح اور کب سپیس اسٹیشن کی جانب روانہ ہوں گے اور عملے کے کونسے افراد ان کے ہمسفر ہوں گے۔
روس واحد ملک ہے جس کے پاس انسانوں کو خلائی اسٹیشن میں بھیجنے اور واپس لانے کی صلاحیت موجود ہے تاہم اب سپیس ایکس اور بوئنگ برسوں سے ایسا خلائی جہاز تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں جو خلابازوں کو واپس بھی لا سکے۔
سپیس ایکس کا کریو ڈریگن نامی خلائی جہاز رواں ماہ کے آخر میں پہلی بار عملے کو سپیش اسٹیشن تک پہنچائے گا جس کے بعد یہ صلاحیت امریکہ کے پاس بھی آ جائے گی۔
سابقہ دہائیوں کے برعکس ناسا سپیس ایکس یا بوئنگ کے خلائی جہازوں کی نہ ملکیت لے گی اور نہ ہی ان کا انتظام سنبھالے گی، دونوں کمپنیوں کو اپنے جہازوں کی نشستیں سیاحوں کو فروخت کرنے کی اجازت ہو گی، ایک نشست کی قیمت کروڑوں ڈالرز ہو گی۔
سپیس ایکس نے اعلان کیا تھا کہ وہ کریو ڈریگن کی ایک نشست تقریباً 5 کروڑ ڈالرز میں تھرڈ پارٹی کے ذریعے فروخت کریں گے۔
اسی طرح ناسا نے بھی گزشتہ برس ایک ہدایت نامہ جاری کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ خلائی سفر کرنے والے غیرحکومتی افراد انٹرنیشنل خلائی اسٹیشن پر موجود سہولیات استعمال کرنے کی قیمت ادا کریں گے۔
اس دستاویز میں بتایا گیا تھا کہ مخصوص سہولیات کی کیا قیمتیں ہوں گی، زندگی برقرار رکھنے اور ٹوائلٹ استعمال کرنے کے اخراجات 11 ہزار 250 ڈالرز روزانہ ہوں گے جبکہ خوراک، ہوا اور دیگر اشیا کے لیے ہر روز 22 ہزار 5 سو ڈالرز ادا کرنے ہوں گے۔
انٹرنیشنل اسپیس سٹیشن کی تعمیر میں درجن کے قریب ممالک کا حصہ ہے لیکن اس کا انتظام بنیادی طور پر امریکہ اور روس سنبھالتے ہیں۔ اس لیبارٹری میں موجود امریکی حصے میں سائنسدان سائنسی اور تجارتی تحقیق کرتے ہیں۔
2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق اس حصے کی دیکھ بھال پر امریکی ٹیکس ادا کرنے والوں کے سالانہ تین سے چار ارب ڈالرز خرچ ہوتے ہیں۔