پاکستان کے سابق فاسٹ بولر رانا نوید الحسن نے الزام عائد کیا کہ متحدہ عرب امارات میں نیوزی لینڈ کے خلاف 2009 میں ون ڈے سیریز میں سینئر کھلاڑیوں نے جان بوجھ کر بری پرفارمنس دی کیونکہ وہ کپتان وقار یونس کے رویہ سے نالاں تھے۔
رانا نے ایک مقامی نیوز چینل کو بتایا کہ ہم متحدہ عرب امارات میں 2009 کے دوران نیوزی لینڈ کے خلاف دو میچ ہارے تھے، اس شکست کی وجہ یہ تھی کہ سینئر کھلاڑیوں نے جان بوجھ کر پرفارم نہیں کیا تھا۔
جاوید میانداد کو ٹیم سے نکالنے کے پیچھے عمران خان کا ہاتھ تھا، سابق کرکٹر باسط علی کا انکشاف
تین ورلڈ کپ میں پاکستان کی ناکامی کی وجہ وسیم اکرم تھے، عامر سہیل
انہوں نے بتایا کہ سینئر کھلاڑیوں کی کپتان کے خلاف محاذ آرائی کی وجہ سے وہ دورے سے دست بردار ہو گئے تھے کیونکہ وہ کپتان کے خلاف کسی بھی سازش کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے۔
یہ سازش جنوبی افریقہ میں 2009 میں چیمپئنز ٹرافی کے بعد تیار کی تھی جس میں وقار یونس کو کپتانی سے ہٹانے کا عہد کیا گیا تھا، کھلاڑی یونس کے متکبر اور گالی گلوچ کے رویے سے تنگ تھے۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے اس وجہ سے دورے میں باہر بیٹھنے کو ترجیح دی اور وقار یونس کو اس سازش کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔
رانا نوید نے انکشاف کیا کہ سینئر کھلاڑی کپتان کے خلاف سازش میں مجھے اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتے تھے، یہ بغاوت وقار کی کپتانی کے خلاف تھی کیونکہ سینئر کھلاڑی ان کی کپتانی میں کھیلنا نہیں چاہتے تھے۔
اس دورے کے دوران سینئر کھلاڑیوں میں محمد یوسف، شاہد آفریدی، شعیب ملک، کامران اکمل اور سعید اجمل شامل تھے، پاکستان نے تین میچوں کی ون ڈے سیریز میں 1-2 سے شکست کھائی، پہلا میچ 138 رنز سے جیتنے کے بعد دو میچوں میں بالترتیب 64 اور 7 رنز سے پاکستان ہار گیا تھا۔
رانا نوید الحسن نے 9 ٹیسٹ 74 ون ڈے اور 4 ٹی ٹونٹی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔