وزارت برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے کہا ہے کہ رواں برس گندم خریداری کی مہم سست روی کا شکارہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے متحرک کرنا چاہیئے۔
گزشتہ 3 سالوں میں، سرکاری شعبے نے گندم کی خریداری کے تفویض کردہ ہدف 6.47 ملین ٹن گندم کے مقابلے میں اوسطاً 5.51 ملین ٹن خریداری کی جو کہ ہدف کے مقابلے میں 85 فیصد کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم گزشتہ برس مختلف وجوہات کی بنا پر گندم کی خریداری کا ہدف حاصل کرنے میں 65 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
سالانہ 27 ملین ٹن کی مقامی کھپت کو مدنظر رکھتے ہوئے، سرکاری شعبے نے گندم کی خریداری کا ہدف بڑھا کر 8.25 ملین ٹن کر دیا ہے جس کی توثیق صوبائی حکومتوں کی جانب سے کر دی گئی ہے۔
پاسکو اور صوبائی محکمہ خوراک نے 30 اپریل 2020 تک 2.372 ملین ٹن گندم کی خریداری کی رپورٹ پیش کی جو کہ تفویض کردہ اہداف کا 28 فیصد ہے۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے موقف اختیار کیا کہ خریداری کی مہم سست روی کا شکار ہے۔ صوبہ پنجاب اور سندھ نے بالترتیب تقریباً61 فیصد اور 89 فیصد گندم کی کٹائی کی اطلاع دی ہے۔
وزارتِ فوڈ سیکیورٹی کی طرف سے صوبائی حکومتوں کو خریداری کے اہداف کو حاصل کرنے کا احساس دلایا گیا ہے۔ اسی تناظر میں وزیر برائے نیشنل فوڈ اینڈ ریسرچ کی سربراہی میں 10 اپریل 2020 اور 20 اپریل کو ویڈیو لنک کے ذریعے دو اجلاس ہو چکے ہیں۔
پبلک سیکٹر میں 30 اپریل 2020 تک گندم کا ذخیرہ 0.616 ملین ٹن کی سطح پر ہے جو کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں بہت کم ہے کیونکہ گزشتہ برس اسی عرصہ کے دوران گندم کا ذخیرہ 3.777 ملین ٹن تھا۔
وزارت برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے تجویز پیش کی ہے کہ گندم خریداری مانیٹرنگ کمیٹی عوامی حلقوں سے گندم کی خریداری مہم کے میکنزم کو معقول بنا سکتی ہے اور صوبوں کے محکمہ خوراک کو ہدایت جاری کی جا سکتی ہے کہ وہ مختص کردہ اہداف کو تیزی سے پورا کریں۔
اس میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں گندم کی ذخیرہ اندوزی روکنے اور قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے حساسیت اجاگر کی جائے۔