برطانوی وزیراعظم کے کورونا وائرس پر مشیر اور مشہور ماہر وبائی امراض پروفیسر ڈاکٹر نیل فرگوسن نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی خبر سامنے آنے پر سرکاری عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
دی ٹیلی گراف نے گزشتہ روز رپورٹ کیا تھا کہ سماجی دوری کی ہدایات کے باوجود ایک خاتون دو بار فرگوسن کے گھر آئیں۔
برطانیہ کا سب سے بڑا شکاری پرندہ 240 سال بعد ملکی فضاؤں میں لوٹ آیا
نیوزی لینڈ نے کن تین باتوں پر عمل کر کے کورونا کے خلاف فتح حاصل کی؟
پروفیسرفرگوسن وہ شخصیت ہیں جنھوں نے برطانوی حکومت کو کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے لاک ڈاؤن اور سماجی دوری جیسے اقدامات کا مشورہ دیا تھا اور اس سلسلے میں حکومت کی مدد کی تھی۔
امپیرئیل کالج آف لندن میں مقیم پروفیسر نے برطانوی حکومت کی ‘گھر میں رہنے’ کی پالیسی کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا اور وہ برطانیہ کی سائنٹفک ایڈوائزری گروپ آف ایمرجنسیز (SAGE) کے ممتاز رکن بھی تھے۔
سی این این کو دیئے گئے بیان میں پروفیسر نیل فرگوسن کا کہنا تھا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں اور اس غلط اقدام کی وجہ سے SAGE میں شمولیت سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ میرا یقین تھا کہ میں کورونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت اختیار کر چکا ہوں۔ میرا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا اور علامات ظاہر ہوتے ہی میں نے دو ہفتوں کیلئے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ مجھے اس بات کا دلی افسوس اور پچھتاوا ہے کہ اس تباہ کن وبا کو قابو میں رکھنے کے لیے مسلسل سماجی دوری رکھنے کے واضح پیغام کو میرے اس اقدام سے ٹھیس پہنچی، انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کی ہدایات بالکل واضح اور ہم سب کو محفوظ رکھنے کے لیے ہیں۔
ہیلتھ سیکرٹری میٹ ہنکوک نے سکائی نیوز کو بتایا کہ پروفیسر فرگوسن کے پاس اس غیرمعمولی انکشاف پر کوئی جواب نہیں تھا اور انھوں نے مشیر کے عہدے سے استعفیٰ دے کر درست فیصلہ کیا ہے۔
ہینکوک نے کہا کہ سماجی دوری کے قواعد سب کے لیے واضح ہیں اور ان کی ناقابلِ یقین اہمیت ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مہلک وائرس کو قابو کرنے کا یہی واحد ذریعہ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پولیس پر منحصر ہے کہ آیا وہ فرگوسن کے خلاف کوئی کارروائی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں تاہم سکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ اگرچہ پروفیسر فرگوسن کا یہ رویہ مایوس کُن تھا تاہم ان کے خلاف کوئی بھی کارروائی جیسا کہ جرمانہ وغیرہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی غلطی کا خمیازہ استعفیٰ دے کر بھگت چکے ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈن نے بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کئے گئے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر اپنی کابینہ کے وزیر صحت کی تنزلی کا حکم جاری کرتے ہوئے انھیں بطور معاون وزیر خزانہ کام سے بھی روک دیا تھا۔
وزیر صحت نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا جسے وزیراعظم جیسنڈا آرڈن نے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ عام حالات میں وہ استعفیٰ قبول کر لیتیں۔
وزیر صحت ڈیوڈ کلارک لاک ڈاؤن کے ابتداء میں اپنی فیملی کو ساحل سمندر پر لے گئے تھے اور سماجی دوری کے قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔