اٹلی کی جانب سے لاک ڈاؤن کی پابندیاں نرم کر دی گئی ہیں۔ پارک کھل گئے ہیں، ملک کو بتدریج کھولا جا رہا ہے، لاکھوں لوگوں نے کام پر جانا شروع کر دیا ہے۔ مگر یہ سب کیسے ہوا؟
اٹلی بڑے پیمانہ پر کورونا وائرس کا شکار ہونیوالا پہلا غیرایشیائی ملک تھا۔ اٹلی نے 9 مارچ کو لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔ یورپ کے اس ملک میں کورونا وائرس سے اب تک 29 ہزار 684 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس سے ہونیوالی اصل ہلاکتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں مگر اب اٹلی کورونا وائرس پر حاوی نظر آتا ہے۔
اٹلی کورونا وبا کے دوران کئی مرحلوں سے گزرا اور گزررہا ہے، پہلے پہل اٹلی نے کورونا وائرس کو کم خطرناک سمجھا، اس کے بعد غیر یقینیت کا مرحلہ آیا، پھر صدمہ اور آخرکار لاک ڈاؤن۔
کورونا کے شکار اٹلی کے 72 سالہ پادری نے قربانی کی لازوال داستان رقم کر دی
نیوزی لینڈ نے کن تین باتوں پر عمل کر کے کورونا کے خلاف فتح حاصل کی؟
لاک ڈاؤن کے دوران بھی شروع میں اسمارٹ فونز پر لطیفے گردش کرتے تھے مگر دو ہفتوں بعد اٹلی کے عوام وائرس کی تباہ کاریاں دیکھ کر سنجیدہ ہوگئے۔ وائرس حقیقت تھا اور وہ بڑے پیمانے پر تباہی مچا رہا تھا۔ یہ سب دیکھ کر اٹلی کی جانب سے بطور قوم سنجیدگی سے وائرس سے نمٹا گیا۔
اٹلی میں اب مشترکہ کوششوں کے بعد حالات نارمل ہو رہے ہیں۔ 4 مئی کو لاک ڈاؤن کی سختیوں میں نرمی کردی گئی۔ ان چیزوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اٹلی آخرکار کورونا سے نمٹنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اٹلی کے نظام صحت نے وبا کا بوجھ اٹھایا اگرچہ وہاں 153 ڈاکٹر اور50 سے زائد نرسیں جان کی بازی ہار گئیں۔
اٹلی کے عوام کی جانب سے لاک ڈاؤن کے دوران گھروں پر رہنا حیران کن تھا کیونکہ یہاں کے لوگ قوانین پر عمل درآمد کے بجائے پہلے ان پرسوال اٹھاتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ سوال اٹھائے بغیر کسی قانون پر عمل کرنا انکی ذہانت کی توہین ہے۔
اٹلی کے عوام کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ نظم و ضبط کو ناپسند کرتے ہیں مگر وبا کے دوران 6 کروڑ لوگوں نے کم وبیش قوانین پر عملدرآمد کیا اور گھروں پر رہے، یہ کسی معجزہ سے کم نہیں تھا۔
امریکہ کی کئی ریاستوں میں پابندیوں کے خاتمہ کیلئے مظاہرے کئے گئے ہیں، فرانس میں بھی وبا کے دوران عائد کی گئی پابندیوں کے دوران عوام نے مظاہرے کئے ہیں۔
اسی طرح برطانیہ میں کچھ لوگ وبا کے دوران سازشی تھیوریوں پر یقین کر رہے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ 5 جی نیٹ ورک کورونا وائرس پھیلا رہا ہے اس لیے فون ٹاورز جلا دیے گئے لیکن اٹلی میں کوئی جلاؤ گھیراؤ اور مظاہر ے نہیں ہوئے۔عوام نے لاک ڈاؤن پر عمل کیا۔
MIT سینس ایبل سٹی لیب کے ڈائریکٹر کارلورتی کا کہنا ہے کہ صدیوں تک جرمنی، اسپین، فرانس اور آسٹریا کے حملہ آوروں نے اہل اٹلی پر حکم چلائے۔ اس بار حملہ آور ایک وائرس تھا اور اٹلی اپنے ہی احکامات کا تابع تھا، اس نے یہاں کے عوام کو مزید جوڑ دیا۔
اٹلی میں خاندان اور ذاتی تعلقات کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کورونا وبا کے دوران اٹلی میں خاندانی رشتے وائرس کو شکست دینے کا ذریعہ بنے۔ مردحضرات نے بچوں کے ساتھ خاندان کیلئے کھانے بنائے اور مائیں پارٹ ٹائم ٹیچرز بن گئیں۔