• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, جون 1, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

استاد کے نام ایک خط

by sohail
مئی 7, 2020
in کالم
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

استاذی وقار!

شکسپیئر کے ڈرامے ’’جولیس سیزر‘‘میں بروٹس ایک جگہ کہتا ہے

‘انکساری شروع شروع میں جاہ طلبی کے لیے ایک زینہ ہوا کرتی ہے۔ جب وہ سب سے اونچی سیڑھی پر پہنچتا ہے تو نچلی سیڑھیوں سے منھ پھیر لیتا ہے جس کی وجہ سے اسے یہ بلند مقام نصیب ہوا، انسان کو قربانی کرنے والا بننا چاہیئے، قصاب نہیں’

 اشعار کے پردے میں ہیں ہم کس سے مخاطب؟

اسلامی کیلنڈر کے پہلے ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف میں بیٹھ کر انسان اپنے گزشتہ برس کا احتساب اور آئندہ سال کی منصوبہ بندی کی سوچ و بچار کرتا ہے۔

یاد ماضی عذاب ہے یا رب

استاد! اس اعتکاف کے ذکر سے مجھے ہوسٹل کے وہ دن یاد آ گئے جب ہم امتحان کی تیاری کے لیے دو ماہ کے جوگ میں چلے گئے تھے۔

ایک ماہ بعد گروپ کے ایک خوش حال دوست کے سوا ڈیفالٹر ہوکر سب اپنا کھانا میس بند کرا بیٹھے۔ ایک میس پر سالن کی دو ‘حاضریاں’ ملتی تھیں البتہ روٹیاں لینے کی کوئی حد نہیں تھی، جتنی چاہے لے لیں۔ ہم دو حاضریاں کمرے میں لاکر چھ بندے کھانا کھایا کرتے تھے۔ اب اس بات پر جھگڑا ہوگیا کہ ‘تم لقمے کی ڈوئی بنا کرسالن زیادہ کھاتے ہو’۔ وہ دوست ناراض ہوکر کھانا چھوڑ کرچل دیے اور یوں تھوڑی سی بد مزگی پھیل گئی۔

امتحانی اعتکاف: ایم ۔اے کے امتحان کی تیاری کے 2 ماہ کے دوران پچھلی زندگی کی وہ وہ غلطیاں اور کوتاہیاں یاد آئیں جو زندگی بھر، رک کر، لمحہ بھر، سوچ کر بھی یاد نا آتیں شاید؟ یہ بھی تو ایک قسم کا اعتکاف ہوا نا استاد؟ ابھی ایک اعتکاف کا ذکر باقی ہے جس کے لیے یہ سارا کھیکھڑ کیا گیا ہے۔ ایک ذرا صبر۔۔۔

خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا

استاد! میں آپ کو کہاں کہاں لیے پھروں گا، آپ بس دیکھتے، سنتے اور ساتھ چلتے جائیں، ہم  ایک طویل اعتکاف کی طرف جا رہے ہیں۔

جنرل بس اسٹینڈ پر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہزاروں نہیں تو سینکڑوں بسیں، ویگنیں، ڈالے اور ٹرالے، گرد میں اٹے ہوئے، جہاں جگہ ملی، سر جھکائے، منھ نیوڑائے پارک ہوئے کھڑے ہیں۔ جنرل بس اسٹینڈ پر موت کی سی خاموشی، گھپ اندھیرا، کہیں کہیں ہلکی سی زرد روشنی، تمام چھپر ہوٹل، ٹھیلے، کھوکھے اور اسٹالز بند تھے۔ بس کتے آزادانہ پھرتے تھے۔ کوئی ان کو روکنے ٹوکنے اور دھر ہش کرنے والا نہیں تھا۔ جنرل بس اسٹینڈ پر اتنی بسیں پہلی بار یک جا کھڑی دیکھیں۔ شاید آخری بار؟ اور حیران ہوا کہ کچھ لوگوں کے پاس کس قدر کثیر سرمایہ ہے؟

ٹرانسپورٹ بند ہونے کے باوجود زندگی رواں دواں ہے۔ کسی نے احتجاج نہیں کیا کہ ٹریفک بند ہونے سے ہمارے کام میں حرج ہو رہا ہے، ٹیچر اور ملازمین خوش ہیں کہ بس انھیں تنخواہ ملتی رہے خواہ دفاتر سارا سال بند رہیں اور بچے ٹیچرز سے زیادہ خوش ہیں۔ البتہ والدین پریشان ہیں کہ اسکول کھل بھی جائیں تو کون ایسے والدین ہیں جو اپنے بچوں کو کورونا ایسے ماحول میں حصول علم کے لیے اسکول بھیجنے کی جرات کر پائیںگے؟

مئے سے غرض نشاط ہے کس روسیاہ کو؟

ٹرانسپورٹر پریشان ہے کہ اس لاک ڈائون سے روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، اس بار عید سیزن بھی نہیں لگے گا؟ یہ کروڑوں روپے کی بسیں، ویگنیں، ڈالے اور ٹرالے، ٹن کے ڈبے اور لوہے کے ڈھیر بن چکے ہیں۔ یاخدا، ایسی بے وقعتی، ایسی بے توقیری؟

یا استاد! دیکھ پلک جھپکتے میں کیا سے کیا ہوگیا؟

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

مارکیٹیں، بازار بند ہیں، کپڑے کا تاجر پریشان ہے۔ یہ کروڑوں کا کپڑا کہاں جائے گا؟ ہوٹل اور پلازہ مالکان و دیگر کاروباری اس لاک ڈاؤن پر انگشت بدنداں ہیں۔ کروڑں کا لین دین کیسے ہوگا؟

استاد! انھیں یقین نہیں آ رہا کہ دنیا ایک طویل اعتکاف میں چلی گئی ہے، دھیرج مہاراج دھیرج اتنی بھی کیا جلدی ہے ؟

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا؟

مئی کا پہلا عشرہ گزر چلا ہے۔ سورج ابھی مشتعل نہیں ہوا، سورج میں اب تک مارچ والی حدت اور تمازت مئی میں بھی ناپید ہے، شاید سورج کو اشتعال دلانے والے کارخانے، ملیں، فیکٹریاں، ہوٹل، فوڈ کلب، خود ساختہ جنگوں سمیت تمام عوامل یکسر بند ہیں اور ان تمام عوامل کے موج دو محرک گھروں میں بند ہیں جو سورج کو اشتعال دلا کر خود کو مزدور کے ہاتھوں سے بنے محل میں ایرکنڈیشنڈ لگا کر مزے سے سوتے ہیں اور مزدور ومجبور بے چارہ ان کی پیدا کردہ آگ میں ابلتا رہتا ہے۔

استاد الاستاذہ

ڈاکٹر نعیم کلاسرا اپنے مخصوص انداز میں کہا کرتے تھے۔

‘جو مسئلہ بگڑ جائے وہ اپنے آپ کو سلجھانے کی کوشش بھی خود بہ خود کرتا رہتا ہے۔ اس کو حل کرنے میں دھند نہ مچاؤ۔ تھوڑا توقف کرو’

جب کوئی بات بگڑ جائے

جب کوئی مشکل پڑ جائے

تم جانا تھم ذرا،اے دلربا!

یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید۔ اپنی ضروری مرمت کے لیے خود ہی بند ہے لیکن انسان نچلا بیٹھنے کو تیار نہیں۔ بار بار لاک ڈاؤن کی رسیاں تڑوا کر بھاگ لیتا ہے۔ عمران خان کہتا ہے وہ تو لاک ڈاؤن کے خلاف ہے، یہ اشرافیہ نہیں مانتی۔

استاد! یہ اشرافیہ کیا اور کیسی ہوتی ہے جو وزیر اعظم کا حکم بھی نہیں مانتی، ہم ٹھہرے ‘لاتعلمون’ کے بندے۔ تو ہی بتا یہ کیا ہوتی ہے؟ ہاں جس طرح پاکستان میں لاک ڈاؤن ہے یعنی ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے۔ پھر بھی کورونا کے اثرات اور اموات دونوں بڑھتے جا رہے ہیں۔ کل کلاں کورونا قابو سے باہر ہوگیا تو عمران خان لاک ڈاؤن کھول کر کورونا سے ہونے والی تباہی کی ذمہ داری لیں گے؟

یار زندہ صحبت باقی

والسلام

شفیق لغاری

sohail

sohail

Next Post

جرمنی میں کورونا کی شدت میں کمی، لاک ڈاؤن میں نرمی، اسکول کھل گئے

میچ فکسنگ کے مسلسل الزامات کے بعد وسیم اکرم نے بھی خاموشی توڑ دی

خون پتلا کرنے والی ادویات کورونا مریضوں کی جان بچا سکتی ہیں، نئی تحقیق میں انکشاف

چینی بچوں کو اسکول میں داخل ہوتے وقت کن احتیاطی تدابیر سے گزرنا پڑتا ہے؟

ق لیگ نے حکومت کا ساتھ چھوڑنے کی دھمکی دے دی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In