• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, جون 1, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

جرمنی میں کورونا کی شدت میں کمی، لاک ڈاؤن میں نرمی، اسکول کھل گئے

by sohail
مئی 7, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کورونا وبا کی باعث طویل لاک ڈاؤن کے بعد جرمنی بھی پابندیاں اٹھانے کی تیاریاں کر رہا ہے، اس سلسلے میں آج سکولوں میں بچوں کو سماجی فاصلہ کے ضوابط سکھائے گئے۔

جرمنی کے شہر ڈورٹمنڈ میں ٹائم ٹیبل میں سب سے پہلا سبق سماجی فاصلے کا تھا۔ اس دوران چھوٹے بچوں نے 5 فٹ کا فاصلہ رکھتے ہوئے صفیں بنائیں۔

گزشتہ روز جرمن چانسلر انجیلا مرکل نےعلاقائی رہنماؤں سے ملکر اوقات طے کرنے کے بعد سکولوں کو مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ دوبارہ کھولنے کی طرف اشارہ دیا تھا۔

جرمنی میں کورونا سے اموات کی شرح دنیا میں سب سے کم کیوں؟

لاک ڈاؤن میں نرمی، اموات میں کمی، اٹلی کورونا سے کیسے نمٹا؟

ڈیلی میل کے مطابق جرمنی میں امراض کے ایک اعلیٰ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار سے واضح ہوتا ہے کہ کورونا وبا تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔

مرکل کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑی تو لاک ڈاؤن کے اقدامات کو مقامی سطح پر دوبارہ نافذ کیا جاسکتا ہے۔

طلباء آج ڈارٹمنڈ کے پیٹری پرائمری اسکول میں ماسک پہنے ہوئے تھے جب انہیں کھیل کے میدان میں سماجی فاصلے کے بارے میں معلوم ہوا۔

 ایک استاد جس نے خود بھی ماسک پہن رکھا تھا اس بات کا خاص خیال رکھ رہا تھا کہ طلباء ان 5 فٹ کے فاصلے پر بچائے گئے نشانات کے جال پر کھڑے ہیں یا نہیں۔

یہ مشق سکول میں داخل ہونے سے پہلے ہی کرائی گئی۔  قطار میں کھڑے طلباء نے بھی اس حفاظتی فاصلے پر عملدرآمد کیے رکھا۔

 نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی ریاست کے پرائمری اسکول میں بڑی عمر کے طلبہ آج واپس آئے تھے۔

کچھ ممالک کے برعکس جہاں سب سے کم عمر بچے پہلے لوٹ رہے ہیں، بہت ساری جرمن ریاستوں نے امتحانات والے بڑی جماعتوں کے طلبہ کو ترجیح دی ہے۔

تاہم ہر ریاست نے اس کام کو مختلف طریقے سے کیا ہے اور 23 اپریل کو کچھ طلباء اسکول میں واپس آئے تھے۔

 مرکل نے کل کہا تھا کہ نئے کیسز میں اضافے کی صورت میں ہنگامی میکانزم کے تحت مقامی سطح پر لاک ڈاؤن دوبارہ نافذ کر دیا جائے گا۔

 مرکل نے کہا کہ اگر صورتحال خراب ہوئی تو مقامی حکام کی جانب سے وباء پر قابو پانے کے لیے گھروں میں قیام کرنے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہو گی۔

کورونا وبا: بھارت اور جرمنی میں ارب پتی کم، کئی ممالک میں بڑھ گئے

کورونا وائرس آئندہ دو ماہ میں ایک لاکھ 35 ہزار امریکیوں کی جانیں نگل جائے گا

انہوں نے کہا کہ ہم محتاط رہتے ہوئے جرات مندانہ فیصلہ لے سکتے ہیں، مرکل نے دکانیں اور سٹورز مئی کے اختتام تک کھولنے کی اجازت دی ہے۔

فٹبال سیزن بھی 15 مئی تک دوبارہ شروع ہو سکتا ہے تاہم تمام میچز بند دروازوں کے اندر ہونگے۔

بنڈس لیگا کی دوبارہ شروعات کی تاریخ لیگ دے گی کیونکہ کھلاڑیوں کو میچز کے آغاز سے قبل ایک ہفتہ تک قرنطینہ کیا جانا ہے۔

مرکل نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ وبا کا پہلا مرحلہ گزر چکا ہے، دکانوں کو دوبارہ کھولنے اور بنڈس لیگا کو مئی کے اختتام سے قبل دوبارہ کام کرنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

 یورپ میں فٹبال کا سیزن 15 مئی کے ساتھ ہی دوبارہ شروع ہوسکتا ہے اگرچہ تمام میچ بند دروازوں کے پیچھے کھیلے جائیں گے۔

 بنڈس لیگا کے دوبارہ شروع ہونے کی صحیح تاریخ کا تعین لیگ کے ذریعہ کیا جائے گا کیونکہ میچوں کے دوبارہ شروع ہونے سے قبل کھلاڑیوں کو ایک ہفتہ تک قرنطین سے گزرنا ہوگا۔

 میرکل کے مطابق ہم یقین سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وبا کا پہلا مرحلہ گزر چکا ہے اور جرمنی نے اس وبا کو کم کرنے کا مقصد حاصل کر لیا ہے۔

مرکل اور ریاست کے راہنماؤں کی جانب سے متفق مسودے کے مطابق لاک ڈاؤن ختم کرنے کے جراتمندانہ فیصلے کا جواز موجود ہے کیونکہ اپریل 20 کو ابتدائی طور پر دوبارہ کھولنے سے نئے کیسز میں اضافہ نہیں ہوا۔

دستاویز کے مطابق ملک کو کھولنے کے لیے ابتدائی اقدامات سے انفیکشنز کی شرح کم رہی جبکہ نئی لہر ریکارڈ نہیں ہوئی۔

صرف ثقافتی شعبے کو انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ بڑی بڑی تقریبات اگست کے آخر تک روکی گئی ہیں۔

جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق  سرحدیں بھی بند ہیں اگرچہ ہنگامی رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے کچھ مطالبات ہیں۔

 مرکل نے کہا کہ سماجی فاصلے کے قواعد بھی کم سے کم 5 جون تک برقرار رہیں گے۔

 خریداری کرتے وقت یا عوامی ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے وقت ماسک ضروری قرار دیا گیا ہے۔

تاہم اب ایک وقت میں ایک دوسرے گھر کے لوگوں سے ملنے کی اجازت ہوگی۔

جرمنی میں اموات کی تعداد میں آج 123 کا اضافہ ہوا جو کل 6،996 سے بڑھ کر 7،119 ہو گئے، کل کی 165 اموات کی نسبت یہ معمولی سا اضافہ ہے۔

جرمنی کی آبادی ان سب سے کہیں زیادہ ہونے کے باوجود اموات کی تعداد برطانیہ (30،076) ، اٹلی (29،684) ، اسپین (25،857) یا فرانس (25،809) کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

 ماہرین نے روبرٹ کوچ انسٹی ٹیوٹ (آر کےآئ) کے سربراہ کے ساتھ بھی وائرس کی دوسری یا تیسری لہروں کے ممکنہ طور پر بیماریوں پر قابو پانے کے انتباہ پر پابندی لگانے کی اپیل کی ہے۔

 لیکن جرمنی کی سب سے بڑی ریاست باویریا نے اعلان کیا ہے کہ 18 مئی سے ریستوران اور 30 ​​مئی سے ہوٹلوں کے کھلنے آغاز کیا جائیگا۔

وبا کے دوران کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ریاستی وزیر اعظم مارکس سوڈر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ محتاط رہتے ہوئے معمولات زندگی دوبارہ شروع کیے جائیں۔

Tags: جرمنی میں سکول کھل گئےجرمنی میں‌ کورونا وائرسجرمنی میں لاک ڈاؤنکورونا وائرس
sohail

sohail

Next Post

میچ فکسنگ کے مسلسل الزامات کے بعد وسیم اکرم نے بھی خاموشی توڑ دی

خون پتلا کرنے والی ادویات کورونا مریضوں کی جان بچا سکتی ہیں، نئی تحقیق میں انکشاف

چینی بچوں کو اسکول میں داخل ہوتے وقت کن احتیاطی تدابیر سے گزرنا پڑتا ہے؟

ق لیگ نے حکومت کا ساتھ چھوڑنے کی دھمکی دے دی

عمران خان: ایک تنہا آدمی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In