وفاقی وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ اس وقت اپوزیشن اور حکومت کے لیے کورونا پہلی ترجیح ہونی چاہیے تھی لیکن نیب کا ادارہ متحرک ہو گیا ہے، یہ ادارہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم احتساب کے حق میں ہیں، یہ ملک تباہی کے دہانے پر پہنچا ہے تو اس میں کہیں نہ کہیں تو گڑ بڑ ہوئی ہے لیکن کیا اس میں سارا قصور سیاستدانوں کا ہے؟ اگر صرف سیاستدانوں کا قصور ہے تو پھر موجودہ دور کے تمام سیاستدانوں کو نااہل قرار دے دیں اور فرشتے تلاش کر کے لے آئیں۔
انہوں نے کہا کہ چوہدری صاحبان کے خلاف جو تین کیسز ہیں ان میں ایک ملازمتوں کا ہے جو 35 برس پرانا ہے، اس دوران لوکل گورنمنٹ کے دو سیکرٹری آئے اور ریٹائر ہونے کے بعد اللہ کو پیارے ہو گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ جن 11 افراد کو ملازمت دینے کا کہا گیا ہے ان میں کتنے حیات ہیں اور کتنے وفات پا چکے ہیں مجھے اس کا علم نہیں۔ اگر وہ زندہ بھی ہیں تو ریٹائرڈ ہو چکے ہیں مگر کیس وہیں کا وہیں ہے۔
طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ مشرف کے دور میں نیب کا قیام عمل میں آیا۔ متعدد بار چوہدری صاحبان کے گھر میں گھس جاتے تھے اور واش روم کی فٹنگز کی بھی رسیدیں مانگتے تھے کہ یہ ٹونٹی کہاں سے لی ہے اور یہ شاور کہاں سے خریدا ہے، انہیں تمام رسیدیں فراہم کی گئیں اور وہ ریکارڈ آج تک نیب کی تحویل میں ہے۔
طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ 2018 میں ایک نوٹس ملا، چوہدری صاحب پیش ہوئے، انہیں کہا گیا کہ فلاں فلاں چیزیں فراہم کریں تو چوہدری صاحب نے کہا کہ ہمارے پاس نہیں ہیں کیونکہ سب کچھ تو آپ کے پاس ہے۔
طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ نیب اب ریفرنس بنانے کی تیاری میں ہے۔ 2017 میں ایک نیب کا افسر کلین چٹ دیتا ہے اور اب اگر یہ باہر کے اثاثہ جات کے انتظار میں ہیں تو ان کی قابلیت پر بہت بڑا سوالیہ نشانہ نہیں آ جاتا کہ ابھی تک ان کا پتہ نہیں لگا سکے۔
اینکر عاصمہ شیرازی نے سوال اٹھایا کہ یہ تو ہر سیاستدان کی کہانی ہے۔ ن لیگ سے پوچھیں تو وہ یہی کہتے ہیں، پیپلز پارٹی والے بھی یہی کہتے ہیں۔
اس پر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی والے خود جواب دیں گے لیکن چوہدری صاحبان کے کیسز تو 1999 کے ہیں۔
چوہدری برادران کے قرضوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ کبھی سنا ہے کہ قرض دینے والے بینکوں نے کہا ہو کہ ہمارا قرض واپس کیا جائے، کسی بینک کا اخبار میں کلیم پڑھا ہے، جو قرض لیے تھے وہ واپس کر دیے ہیں، کمیشن کی رپورٹ پڑھ لیں، نینشل بینک کے صدر نے جو رپورٹ لکھی ہے وہ بھی پڑھ لیں۔
ان سے سوال کیا گیا کہ اس وقت یہ کیسز کیوں کھل رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہٰی کو انصاف کے لیے کورٹ جانا پڑ رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خود اس معاملے کو دیکھیں، ہم ان کے اتحادی ہیں، اگر سیاسی انجینئرنگ ہو رہی ہے تو کون کر رہا ہے اور اس کے پیچھے کون ہے؟
طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ جن لوگوں نے کرپشن کی ہو، باہر جائیدادیں بنائی ہوں ان کو تو فکر ہونی چاہیے۔ آج کل بڑا شور ہو رہا ہے۔ ایک وزیر صاحب بیان دے رہے ہیں کہ نیب عید کے بعد ڈبل ٹارزن بن جائے گی۔ ہم اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ چیزوں کو متوازن رکھنے کے لیے شرفا کی پگڑیاں اچھالیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ ہم ان کے لیے کوئی اہمیت رکھتے ہیں یا نہیں، ہماری قیادت کی عزت اچھالنے کی کوشش کی گئی تو ہم حکومت چھوڑ دیں گے، انہیں یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کیا ہم افادیت کھو چکے ہیں؟
ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کی یا چوہدری صاحبان کی وزیر اعظم سے کوئی بات ہوئی ہے تو انہوں نے کہا کہ ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔
طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ آٹا اور چینی میں ہمارا تو نام نہیں ہے، مونس الہٰی شوگر مل کے شیئر ہولڈر ہیں۔
طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ہم حکومت نہیں حکومت کے چھوٹے سے اتحادی ہیں، اللہ کرے یہ پنڈورا باکس نہ کھلے، ہمارے 35سال پرانے کیسز ہیں مگر نیب نے چار پانچ سال پرانے کیسز کو بند کیا ہے، انہیں وضاحت دینی پڑے گی۔
طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ہمارا بد ترین مخالف بھی اس بات کی گواہی دے گا کہ ان جیسا وضع دار شخص کوئی نہیں ہے۔ چوہدری برادران نے کبھی کسی عدالت پر کوئی تنقید نہیں کی ہے۔ نیب پر بھی تنقید نہیں کرتے مگر نیب کے پاس اتنے لامحدود اختیارات، کالے قوانین ہیں کہ جب چیئرمین نیب چاہیں کیس بند کر دیں اور جب چاہیں اسے کھول لیں۔
خواجہ برادران کی ملاقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق آئے تھے۔ چوہدری پرویز الہٰی نے بطور اسپیکر رولز کے مطابق کارروائی کو چلانا ہونا ہے۔ چوہدری برادران وزیراعظم، وزیراعلیٰ ، اسپیکر اور وزرا کے عہدوں پر رہ چکے ہیں اس کے ساتھ ساتھ بد ترین اپوزیشن کا بھی سامنا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز نے رولز کے مطابق اسمبلی اجلاسوں میں شرکت کی ہے۔ اسی طرح سلمان رفیق نے بھی رولز کے مطابق اجلاسوں میں شرکت کی۔ خواجہ برادران شکریہ ادا کرنے آئے مگر بات کا بتنگر بن گیا۔
نیب آرڈیننس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ یہ حکومت کی پالیسی ہے، نیب آرڈیننس آج تک ہم سے ڈسکس نہیں ہوا ہے، اتحادی ہونے کے باجود اس معاملے میں ہمارے ساتھ کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔
ان سے پوچھا گیا کہ کیا وزیراعظم اپنے اتحادی چوہدری برادران کی حکومت سے علیحدگی کا خطرہ مول لے سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اس با ت کا تو علم نہیں لیکن ہم یہ ضرور جاننے کی کوشش کریں گے کہ یہ حرکت کیوں ہونے جا رہی تھی۔ ہمیں ہائیکورٹ کیوں جانا پڑا؟
انہوں نے مزید کہا کہ یہ رسک عمران خان نے نہیں اب ہم نے لینا ہے اور یہ فیصلہ بھی ہم نے کرنا ہے۔
طارق بشیر چیمہ نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہماری قیادت کی عزت کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو بہت کم لوگ ہوں گے جو پھر بچ پائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ چوہدری برادران نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ نیب سیاسی انجینئرنگ کا ادارہ بن چکا ہے، نیب کے کردار اور تحقیقات کے غلط انداز پرعدالتیں فیصلے دی چکی ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب نے ہمارے خلاف 19 سال پرانے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ نیب نے 19 سال قبل بھی آمدن سے زائد اثاثہ جات کی مکمل تحقیقات کیں مگر ناکام ہوا۔
چوہدری برادران نے استدعا کی ہے کہ چیئرمین نیب کو 19 سال پرانی اور بند کی جانے والےانکوائری دوبارہ کھولنے کا اختیار نہیں، اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاست میں ہمارا ایک مقام ہے اسی وجہ سے ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
(یہ انٹرویو عاصمہ شیرازی کے پروگرام ‘فیصلہ آپ کا’ میں کیا گیا تھا)