• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, جون 1, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

عمران خان: ایک تنہا آدمی

by sohail
مئی 8, 2020
in کالم
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ایک تنہا آدمی، آدرشوں کا بھاری بوجھ اٹھائے، تخیل میں ایک نئی دنیا بسائے، آنکھوں میں منفرد خواب سجائے، بلند و بالا پہاڑوں کے بیچ قافلے میں کھڑا سوچ رہا ہے کہ کیا کوئی ایسا ہمسفر بھی ہے جس کی ہاتھ میں ذاتی خواہشات، خودغرضانہ تمناؤں اور مادی آرزوؤں کے بجائے اس دھرتی کو سنوارنے کے خوابوں کا زادراہ موجود ہو؟

ایک تنہا آدمی جس کی جیب میں ہی نہیں بلکہ آستینوں میں بھی کئی کھوٹے سکے جھنجھنا رہے ہیں، جو  اپنے تخیل میں سجی ایک خوبصورت وادی کی تصویر ہمسفروں کو دکھانا چاہتا ہے مگر وہ چھوٹی چھوٹی خواہشوں کے اسیر اور محدود تخیل کے مالک اس تصویر کو ٹکڑوں میں دیکھتے ہیں اور منہ پھیر کر ہنسنے لگتے ہیں۔

ایک تنہا آدمی جو اپنے ساتھیوں کو مستقبل کے ان خوش کن مناظر کی جھلک دکھانا چاہتا ہے جن کا حصول مشکل سہی مگر ناممکن نہیں ہے لیکن وہ ان کی نظریں سامنے والے موڑ سے آگے پہنچ ہی نہیں پاتیں، سفر کے رستے کی گھمن گھیریوں سے گزر کر بلند و بالا سنگلاخ چٹانوں کی دوسری اور موجود جس جنت نظیر وادی تک وہ پہنچنا چاہتا ہے اس کے لیے یقین اور ایمان کی دولت کی ضرورت ہے جس سے اس کا دامن تو مالامال ہے مگر اس کے زیادہ تر ساتھی اس سے تہی نظر آتے ہیں۔

ایک تنہا آدمی جس کے کسی ساتھی کے پاس خلوص ہے تو سکت نہیں ہے، سکت ہے تو جذبہ نہیں ہے، جذبہ ہے تو تخیل کی بلند پروازی سے محروم ہے، کسی کی منزل وہ ہے ہی نہیں جہاں وہ سب کو  لے جانا چاہتا ہے، کوئی جگہ جگہ جھاڑیوں میں اٹکے ہیرے موتی جمع کرنا چاہتا ہے، کوئی نیچے بہنے والے دریا کی تہہ میں سونے کے ذرات پر نظریں جمائے بیٹھا ہے، کسی کو ساتھ والی چھوٹی سی بدرنگ وادی میں کٹیا بسا کر زندگی بسر کرنے میں دلچسپی ہے۔

ایک تنہا آدمی جس کے کئی ساتھی تھک ہار کر رستے میں ہی ساتھ چھوڑ گئے، بعض اس زعم میں الگ ہو گئے کہ ان کے بغیر یہ سفر جاری نہیں رہ سکتا، کسی کو یہ شکوہ تھا کہ یہاں تک اسے لانے میں اس کا حصہ سب سے زیادہ تھا اس لیے اسے سب سے زیادہ اہمیت ملنی چاہیئے تھی، کوئی رستے کی کٹھنائیوں سے گھبرا کر لوٹ گیا،کوئی رہزنوں کے بہلاوے میں آ گیا تو کوئی خود میر کارواں بننے کی حسرت لیے پھرتا ہے۔

ایک تنہا آدمی کہ سب اس کی رفاقت چاہتے ہیں مگر قربت کے جھگڑے رقابت کی جنگ میں تبدیل ہو کر قافلے کو آگے بڑھنے سے روک دیتے ہیں، کوئی چاہتا ہے کہ اسے جرس کارواں تھما دی جائے تاکہ اسی کے کہنے پر قافلہ چلے اور اسی کے کہنے پر پڑاؤ ہو، کوئی رستے کی دشواریوں سے نالاں ہے، کسی کو آرام کرنے کی خواہش ہے، کوئی سابقہ قافلوں کا رستہ اپنانے پر زور دیتا ہے جہاں میر کارواں رہزنوں سے میل ملاپ رکھا کرتے تھے اور وقت آنے پر ان کے ساتھ مل کر قافلے کو لوٹ لیا کرتے تھے۔

مسافروں کی حفاظت کرنے والا گروہ ا اپنی شرائط لیے بیٹھا ہے، اس کے ہاتھ میں تلوار ہے اور اس کی خشمگیں نظریں حسد سے میرکارواں کو تک رہی ہیں، وہ حملہ آوروں سے حفاظت کرنے کا اہل تو ہے مگر اس کی آرزوئیں اپنی حیثیت سے بڑھ کر ہیں، قافلے کے کئی لوگ چپکے سے اس کے ساتھ ملے ہیں، وہ ایک طرف قافلے کو حفاظت کا یقین دلاتے ہیں تو دوسری جانب رہزنوں سے بھی راہ و رسم رکھے ہوئے ہیں۔

مسافروں کے بیچ تنازعات کی صورت میں ثالث بن جانے والا گروہ اپنی مرضی کرنے پر مصر ہے، لوگ آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں، افراتفری اور انتشار کا عالم ہے مگر وہ اپنا کام کرنے سے زیادہ اس تنہا آدمی پر تنقید کرنے میں مصروف رہتا ہے، اس کی زبان سے اس تنہا آدمی کے حق میں کبھی کوئی کلمہ خیر نہیں نکل پاتا، اخلاقی برتری کے زعم نے اسے بڑی تصویر دیکھنے سے محروم کر دیا ہے۔

قافلے میں منادی کرنے والا سب کو جھوٹی خبر سناتا ہے، جہاں جاتا ہے تنہا آدمی کے متعلق وسوسے پیدا کرتا ہے، لوگوں کو شکوک و شبہات میں مبتلا کرتا ہے اور ان کے پاس موجود یقین کا زادراہ لوٹنے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے، اس کا خیال ہے کہ وہ میر کارواں سے زیادہ باخبر ہے اور قافلے کے سفر و حضر کا فیصلہ اسی کے کہنے پر ہونا چاہیئے۔

اس سب کے بیچ وہ تنہا آدمی کبھی کبھار ٹوٹنے لگتا ہے، اس کا جی چاہتا ہے کہ پلٹ جائے اور نئے ساتھیوں کے جلو میں ازسرنو سفر شروع کرے، ایسے ساتھی جو اس کے تخیل میں بنی تصویر کا ادراک کرنے کے اہل ہوں، ان کے مضبوط جسم راستے کی مشقیں سہہ سکتے ہوں، ان کے ارادے بلند وبالا پہاڑوں سے بھی اونچے ہوں۔

مگر وہ رک جاتا ہے، بار بار اپنے ہمسفروں کو سمجھاتا ہے کہ راہ کٹھن ضرور ہے مگر منزل بھی ایسی ہے کہ جہاں جھرنے گیت گاتے ہیں، ندیاں گنگناتی ہیں، کلیاں مسکراتی ہیں، درخت جھومتے ہیں اور باد نسیم کے جھونکے سبزے کے نرم بدن کو گدگداتے ہوئے گزرتی ہیں۔ اس جنت نظیر وادی میں زندگی کے رنگارنگ نظارے میسر ہیں، اس میں کسی کو کاسہ گدائی نہیں اٹھانا پڑتا کیونکہ ہر طرف شجر پھلوں سے لدے ہوئے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ تنہا آدمی ایسے قافلے کو منزل تک پہنچا پائے گا؟ کیا اس کے ساتھی اس کی طرح یقین اور ایمان کا سرمایہ حاصل کر پائیں گے؟ کیا اس کا عزم پہاڑوں کی مغرور چوٹیوں کو سرنگوں کرنے میں کامیاب ہو پائے گا؟ ان تمام سوالوں کے جواب ابھی معلوم نہیں ہیں۔ وقت نے اپنی زنبیل میں اس کے حصے میں کیا کامرانیاں اور ناکامیاں محفوظ رکھی ہوئی ہیں، یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔

البتہ یہ ضرور ہے کہ اگر قافلے سے وہ بالکل مایوس ہو گیا تو واپس لوٹ کر  عوام میں ایک نئے قافلے کی تشکیل کی منادی بھی کرا سکتا ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ آخرکار اس کے پاس فقط یہی رستہ ہی بچے گا۔

sohail

sohail

Next Post

پانچ بھارتی نژاد کھلاڑی جنہوں نے دوسرے ممالک کی کرکٹ ٹیموں کی کپتان کی

سعودی عرب کے کئی اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی جگہ روبوٹ مریضوں کا علاج کرنے لگے

بھارت میں بھوک سے بچنے کیلئے گھروں کو جانیوالے 14 مزدور ٹرین کے نیچے آ گئے

بھارتی ریاست کرناٹک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے چوتھے روز 165 کروڑ کی شراب فروخت

کراچی میں کورونا کے بغیر علامات والے مریضوں کی اموات نے سوالات کھڑے کر دیے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In