وسیم اکرم کرکٹ کی تاریخ میں ایک لیجنڈ بالر کے حیثیت رکھتے ہیں اور یہ کہا جائے کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے بالنگ اسٹار ہیں تو غلط نہ ہو گا۔
وسیم اکرم کو پچھلے کچھ دنوں سے 90 کی دہائی کے ساتھی کرکٹرز کی طرف سے میچ مکسنگ میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا ہے، عامر سہیل اور عطا الرحمٰن نے وسیم اکرم پر الزام لگایا ہے کہ 1992 کے بعد تین ورلڈکپ میں ناکامی وسیم اکرم کی وجہ سے ہوئی تھی۔
تین ورلڈ کپ میں پاکستان کی ناکامی کی وجہ وسیم اکرم تھے، عامر سہیل
وسیم اکرم میچ فکسنگ کے لیے رابطہ کرتے تو قتل کردیتا، شعیب اختر
ان شدید الزامات کے بعد سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے ردعمل دیتے ہونے کہا کہ وہ اپنے سابقہ ساتھیوں کے منہ سے ایسی خبریں سن کر افسردہ ہیں، ایک یو ٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا میں نے 17 سال قبل کرکٹ سے سبکدوشی اختیار کر لی تھی لیکن اب بھی یہ لوگ سستی شہرت کے لیے میرا نام استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو میں نظرانداز کرتا ہوں اور ان کو جواب نہیں دیتا کیونکہ یہ بہترین طریقہ ہے اور میں آئندہ بھی انہیں نظرانداز کرتا رہوں گا کیونکہ میری ذندگی میں ان منفی لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
عامر سہیل اور عطا الرحمٰن کی طرف سے وسیم اکرم پر کپتان بننے کی لابنگ اور میچ فسکنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے بارے میں بیانات آ رہے ہیں۔
عطا الرحمٰن نے کہا ہے کہ وسیم اکرم سے پوچھا جائے کہ میچ فکسنگ انکوائری میں کیا کہا تھا؟ میں خاموش نہیں رہوں گا جب تک میچ فکسنگ انکوائری کا سچ سامنے نہیں لے آتا۔