ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خون کو پتلا کرنے والی ادویات کے استعمال سے اسپتال میں موجود کورونا وائرس کے مریضوں کی جان بچانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ریسرچ سے پتا چلا ہے کہ ان ادویات کے استعمال سے اموات کی شرح میں 50 فیصد تک کمی واقع ہوتی ہے جبکہ وینٹیلیٹرز پر موجود مریضوں کو خون پتلا کرنے ادویات دینے سے ان کے بچنے کی شرح 130 فیصد بڑھ گئی ہے۔
کورونا مریضوں میں خون کے پراسرار لوتھڑوں کی موجودگی کا انکشاف
موت کے متعلق نئی تحقیق سے سائنسدان پریشان، مرنے کے بعد زندہ ہو جانے والے جینز دریافت
نیویارک میں ماؤنٹ سینائی ہیلتھ سسٹم کی ٹیم کے مطابق اس تحقیق سے اسپتال میں آنے والے کورونا کے متاثرین کے علاج کے حوالے سے نئے زاویے سامنے آئے ہیں۔
تحقیق کے مصنفین میں سے ایک ڈاکٹر گریش ندکارنی نے ڈیلی میل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کورونا کے زیادہ تر مریضوں میں خون کے لوتھڑے جمع دیکھتے ہیں، بہت سے ڈاکٹرز اب ان ادویات کو علاج کے لیے استعمال کر رہے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ ان کی کیا افادیت ہے۔
ڈاکٹرز نے بہت سے کورونا مریضوں کے پاؤں سے لے کر ان کے دماغ میں یہ لوتھڑے جمع ہوتے دیکھے ہیں جن کے باعث دل کا دورہ پڑتا ہے یا ان کی اموات واقع ہو جاتی ہیں۔
امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع اس نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ریسرچرز نے کورونا کے تقریباً 2800 مریضوں کو دیکھا ہے جنہیں 14 مارچ سے 11 اپریل کے درمیان نیویارک سٹی کے پانچ اسپتالوں میں داخل کیا گیا تھا۔
جن مریضوں کو خون پتلا کرنے والی ادویات دی گئی تھیں، ان کا موازنہ ان ادویات کے بغیر والے مریضوں سے کیا اور یہ بات سامنے آئی کہ ادویات لینے والوں کی زندگی بچ جانے کی شرح 50 فیصد تھی۔
ان ادویات کو استعمال کرنے والے ایسے مریض جن کی موت واقع ہوئی وہ 21 دن تک زندہ رہے تھے جبکہ ادویات نہ لینے والے مریض 14 دن میں جان کی بازی ہار گئے۔
ندکارنی کا کہنا ہے کہ ان ادویات کے اثرات اتنے زیادہ تھے کہ ہم حیرت زدہ رہ گئے، اگرچہ سابقہ چھوٹی سطح کی تحقیق اور چین سے سامنے آنے والے ڈیٹا نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ خون پتلا کرنے والی ادویات سے اتنا بڑا فرق پڑ سکتا ہے۔
وینٹیلیٹرز پر موجود مریضوں میں نتائج اور بھی حوصلہ افزا تھے، خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال نہ کرنے والے مریضوں میں سے 63 فیصد کی موت واقع ہوئی جبکہ انہیں استعمال کرنے والوں میں یہ شرح 29 فیصد کے قریب تھی۔
اگر مرنے والوں کو دیکھا جائے تو پہلی قسم کے مریض 9 دن زندہ رہ سکے جبکہ دوسری قسم کے مریض 21 دن زندہ رہے۔
ندکارنی کا کہنا ہے کہ وہ اب تحقیق کا دائرہ وسیع کر رہے ہیں اور 6000 مریضوں کا جائزہ لیں گے اور تین قسم کی خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کریں گے تاکہ اس حوالے سے مزید علم حاصل کیا جا سکے۔
ہالینڈ اور فرانس میں ہونے والی حالیہ تحقیق کے مطابق کورونا کے شدید بیمار افراد میں ایک تہائی کے پھیپھڑوں میں خون کے لوتھڑے پائے گئے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ لوتھڑے رگوں میں سفر کرتے ہوئے پھیپھڑوں میں پہنچ جاتے ہیں۔
تاہم فرانسیسی ریسرچرز کے مطابق کورونا کے صرف 1.3 فیصد شدید بیمار افراد میں ایسا دیکھا گیا ہے۔