سپریم کورٹ کو جمعرات کے روز بتایا گیا ہے کہ وزارت مذہبی امور کا مجوزہ قومی کمیشن برائے اقلیت حکومت پاکستان کے بین الاقوامی وعدوں کے منافی ہے جن میں انٹرنیشنل کویننٹ آف سول اینڈ پولیٹکل رائٹس 1966 بھی شامل ہے۔
عدالت کو مزید بتایا گیا ہے کہ مجوزہ کمیشن اقوام متحدہ کی جانب سے اپنائے گئے پیرس پرنسپلز کے بھی منافی ہے۔
یہ اعتراضات اقلیتوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 2014 کے فیصلے پر چوتھی عملدرآمد رپورٹ میں اٹھائے گئے۔
احمدی نمائندہ کو قومی کمیشن برائے اقلیت سے نکالنے کی سفارش
یک رکنی کمیشن نے رپورٹ جمع کراتے ہوئے استدعا کی ہے کہ قومی اقلیتی کمیشن کا نوٹیفیکیشن معطل کیا جائے۔
عدالت کو بتایا گیا ہے کہ وزارت کی جانب سے تجویز کردہ مجوزہ قومی کمیشن بنیادی طور پر قومی کمیشن برائے انسانی حقوق سمیت دیگر دستوری کیمشنز سے مختلف ہے۔
عدالت کو مزید بتایا گیا ہے کہ مجوزہ کمیشن فروری کے ماہ میں وزارت کی جانب سے سپریم کورٹ میں کرائی گئی یقین دہانی کے بھی خلاف ہے جبکہ مذکورہ مجوزہ کمیشن کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے اور یہ کمیشن وزارت کی خواہشات پر چل سکتا ہے۔
عدالت نے اقلیتی کونسل کے قیام کے عدالتی فیصلہ پر عمل در آمد کے لیے شعیب سڈل پر مشتمل یک رکنی کمیشن تشکیل دیا تھا۔
عملدرآمد رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت مذہبی امور نے کمیشن سے مشاورت کے بغیر اقلیتی کمیشن کی تشکیل کی سمری کابینہ کو بھجوائی، وزارت مذہبی امور کی جانب سے اقلیتی کمیشن کی مجوزہ تشکیل عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وزارت قانون کا تجویزکردہ اقلیتی کمیشن پاکستان کی بین الااقوامی یقین دہانیوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
عدالت میں جمع کرائی گئی چوتھی عملدرآمد رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اقلیتی کمیشن پہلے سے وجود رکھتا تھا تو وزارت مذہبی امور نے عدالت کو آگاہ کیوں نہ کیا جبکہ قومی اقلیتی کمیشن کے وجود سے اقلیتی برادری بھی آگاہ نہیں، اقلیتی کونسل کے قیام کے لیے مجوزہ بل پر بھی وزارت مذہبی امور نے کوئی رائے نہیں دی۔
رپورٹ کے ذریعے استدعا کی گئی ہے کہ سیکرٹری وزارت مذہبی امور سے اقلیتی کونسل کے عدم قیام پر وضاحت طلب کی جائے، نیزوزارت مذہبی امور کو عدالتی حکم کی رروشنی میں اقلیتی کونسل قیام عمل میں لانے کا حکم بھی دیا جائے۔
