شوگر انکوائری کمیشن نے کہا ہے کہ وہ غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث شوگر مل مالکان کے خلاف کارروائی کے لیے 60 فیصد قابل عمل ثبوت اکٹھے کر چکا ہے۔
کمیشن نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کو ان کے ماہرین کے ہمراہ قیمتوں کے تعین، گنے کی خریداری، کرشنگ اور ڈیلرز کو اجناس کی فروخت سے متعلق سوالات کے جوابات کے لیے ہفتے کو طلب کیا ہے۔
وفاقی کابینہ نے 28 اپریل 2020 کو ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیا کی درخواست پر چینی کی قیمتوں میں اضافہ سے متعلق تحقیقات میں دو ہفتوں کی توسیع کی منظوری دی تھی۔
شوگر سبسڈی اسکینڈل: ترین، خسرو، مونس الہی نے اربوں کمائے، انکوائری رپورٹ سامنے آ گئی
وزیراعظم عمران خان کا شوگر لابی کے خلاف دلیرانہ فیصلہ
واجد ضیا نے درخواست میں استدعا کی کہ انکوائری کا سائز بہت وسیع ہے اور بہت ساری معلومات پر کارروائی اور تجزیے کے لیے تعاون اور فالواپ کی ضرورت ہے جس کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔
بزنس ریکارڈر میں شائع ایک خبر کے مطابق وزارت داخلہ نے انکوائری کے لیے یہ کہہ کر مزید وقت طلب کیا تھا کہ بہت سارے اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ انکوائری کمیشن نے رابطے کرنے ہیں اور آڈٹ ٹیم کے اخذ کردہ نتائج اکٹھے کر کے ان سے بات کرنی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سارا عمل وقت طلب ہے اور بہترین کوششوں کے باوجود اس انکوائری کو مقررہ وقت میں مکمل نہیں کر سکے۔ کابینہ نے رپورٹ جمع کرانے کی تاریخ میں 3 ہفتوں کی توسیع کر دی ہے۔
اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی کی پیداوار کا تقریباً 40 فیصد حصہ بلیک مارکیٹ کی نذر ہو جاتا ہے جس کو دستاویزات میں نہیں لایا جاتا، گنے کی خریداری، گنے کی پیداوار اور ڈیلروں کو چینی کی فروخت کسی ریکارڈ کے بغیر کی جاتی ہے۔ تاہم اس سال ایف بی آر کی جانب سے ملوں کے اندر تعینات کئے گئے افسران کی وجہ سے کالے کاروبار میں 30 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
انکوائری کمیشن نے چند شوگر ملز مالکان اور ڈیلرز کے خلاف کچھ ناقابل تردید شواہد حاصل کئے ہیں۔
کابینہ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اکھٹے کئے گئے ثبوت اور معلومات قابل عمل ہیں لیکن اسٹیک ہولڈرز سے پوچھ گچھ کے ذریعے اس کی مزید توثیق کی جائے گی۔ سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، خان ہور، رحیم یار خان اور لاہور کے ڈیلروں نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ذرائع کے مطابق انکوائری کمیشن نے 60 فیصد درست معلومات اور ثبوت حاصل کر لیے ہیں جبکہ 40 فیصد غیر قانونی سرگرمی سے متعلق ثبوت نہیں ملے۔
اسی طرح انکوائری کمیشن چینی ایکسپورٹ کرنے کے حوالے سے کچھ تلاش نہیں کر سکا تاہم حکومت پنجاب کی طرف سے دی گئی سبسڈی اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ سے متعلق انکشافات اس رپورٹ کو بہت اہم بناتے ہیں اور اس رپورٹ کو فیصلہ سازوں کے لیے ہضم کرنا بہت مشکل ہو گا۔
چینی کی ایکسپورٹ سے قلت پیدا نہیں ہوئی، قیمتیں بڑھنے کی تحقیقات ہونی چاہئیں، اسد عمر
بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کا اس سے پہلے آڈٹ نہیں کرایا گیا، خواجہ آصف کا اعتراف
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے بتایا کہ وہ 9 مئی کو انکوائری کمیشن کے ساتھ میٹنگ کریں گے کیونکہ کچھ ارکان کراچی سے بذریعہ روڈ سفر کرنا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ انکوائری کمیشن کو جو بھی لاگت جمع کرائی گئی ہے وہ حتمی ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہو گی۔