ایک نئی تحقیق میں خوفناک پیشگوئی کی گئی ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے باعث اگست کے آغاز تک تقریبا ایک لاکھ 35 ہزار امریکی کورونا وائرس سے ہلاک ہو جائیں گے، یہ تعداد گذشتہ کی گئی پیشگوئی سے دگنی ہے۔
یہ بات پیر کو یونیورسٹی آف واشنگٹن کی جانب سے تازہ ترین تحقیق میں بتائی گئی ہے۔
یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ برائے ہیلتھ میٹریکس اینڈ ایویلیوایشن کے مطابق اپریل کے وسط میں اس وبا کے گزشتہ تخمینے سے زیادہ تیز اضافہ کی وجہ 31 ریاستوں میں 11 مئی تک بڑھتی ہوئی نقل و حرکت اور سماجی دوری کے اقدامات میں نرمی ہے۔
کورونا مریضوں پر نئی دوائی کے استعمال کی منظوری، امریکہ میں لاک ڈاؤن میں نرمی شروع
کورونا ویکسین آنے تک بین الاقوامی فضائی سفر کی کیا صورت ہو گی؟
اس انسٹی ٹیوٹ کے ماڈل اموات میں اضافے کو لوگوں کے مابین بڑھتے ہوئے رابطوں سے جوڑتے ہیں جو کہ نوول کورونا وائرس کی منتقلی کو فروغ دیتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کے مطابق نظرثانی شدہ پیشگوئی امریکی حکومت کے اس داخلی اعدادوشمار کے بعد سامنے آئی جس کے مطابق رواں ماہ کے دوران روزانہ کورونا کیسز کی تعداد اور اموات میں زیادہ اضافہ متوقع ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے لگائی گئی پابندیوں کو کم کریں، نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی حکومتی خفیہ پیش گوئی میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ مئی کے آخر تک ایک دن میں 3،000 امریکی ہلاک ہونا شروع ہوں گے، اس وقت روزانہ ہلاکتوں کی تعداد 1750 ہے۔
ابھی تک ہر روز 25 ہزار نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں لیکن حکومتی ماڈل کے مطابق رواں ماہ کے آخر میں یہ تعداد 2 لاکھ روزانہ تک پہنچ جائے گی۔
دی ٹیلیگراف کے مطابق یہ خفیہ رپورٹ فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی نے چارٹ فارم میں تیار کی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے بھی اسی طرح اطلاع دی ہے کہ ایک سرکاری دستاویز میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 14 مئی سے کورونا وائرس کے انفیکشنز اور اموات دونوں کی شرح میں تیزی سے اضافے کا امکان ہے جبکہ یکم جون تک ہر دن تقریبا 2 لاکھ نئے کیسز اور 3 ہزار نئی اموات کا خدشہ ہے۔
جانز ہاپکنز بلومبرگ سکول آف پبلک ہیلتھ نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ سامنے آنے والی رپورٹس نہ ہی حتمی ہیں اور نہ ہی پیش گوئی کے لیے تیار کی گئی ہیں بلکہ یہ فیڈرل ایمرجنسی مینیجمنٹ ایجنسی کو امکانی صورتحال کی منصوبہ بندی میں مدد دینے کے لیے بنائی گئی ہیں۔
اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوڈ ڈیئر نے کہا کہ یہ وائٹ ہاؤس کی دستاویز نہیں ہے، اسے کورونا وائرس ٹاسک فورس کے سامنے پیش نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کی انٹرایجنسی جانچ پڑتال کی گئی ہے۔
یورپ، امریکہ کے بعد کورونا وائرس نے روس اور برازیل کا رخ کر لیا
کورونا وبا کے خاتمے پر چین اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کے خطرات لہرانے لگے
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق کورونا وائرس نے 11 لاکھ سے زائد امریکیوں کو متاثر کیا ہے جن میں 68 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے امریکہ میں ان لوگوں کی تعداد کے بارے میں مختلف پیش گوئیاں کی ہیں جو کوویڈ 19 کے باعث ہلاک ہو سکتے ہیں۔
جمعہ کے روز صدر نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ ایک لاکھ سے بھی کم امریکیوں کی ہلاکتیں ہونگی جبکہ گذشتہ ہفتے انھوں نے 60 ہزار سے 70 ہزار اموات کی بات کی تھی۔
تاہم اتوار کی رات ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہے، انھوں نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ہم 75 اور 80 ہزار سے لے کر ایک لاکھ کے درمیان افراد کھونے والے ہیں اور یہ ایک خوفناک چیز ہے۔