نیویارک میں سماجی فاصلے کے اصول کی خلاف ورزی کرنیوالے ایک شخص کے ساتھ مار پیٹ کے جرم میں پولیس آفیسر کے بیج اتار کر محکمہ جاتی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
ویڈیو منظرعام آنے پر نیویارک کے میئر بل ڈی بلیسو نے پولیس آفیسر کی جانب سے راہگیر کو پیٹنے کی مذمت کی ہے، شہریوں نے بھی اسے بربریت قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
نیویارک شہر میں پانچ سو سے زائد پولیس اہلکار کورونا وائرس کا شکار
عوام کو ڈنڈے نہ ماریں، پیار سے سمجھائیں، عمران خان کی پولیس کو ہدایت
ہفتہ کے روز نیویارک کے ایسٹ ویلج میں مبینہ طور پر سماجی فاصلے کے اقدامات کی خلاف ورزی کرنیوالے افراد کے ایک گروپ پر نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے سادہ کپڑوں میں ملبوس افسران نے دھاوا بول دیا۔
پولیس حکام کے مطابق دو نوجوانوں شیکم برینسم اور ایشلے سیرانو کو مبینہ طور پر گرفتاری کے وقت مزاحمت کرنے پر گرفتار کیا گیا، اس دوران جب پولیس اہلکاروں نے ان میں سے ایک کو ہتھکڑی لگانے کی کوشش کی تو جھگڑا شروع ہوگیا۔
ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا تھا کہ تماشائی اس واقعے کی جگہ کے قریب جمع تھے تو پولیس آفیسر نے اس جھگڑے سے نکل کر قریب کھڑے ایک راہگیر پر چلاتے ہوئے انہیں وہاں سے چلے جانے کا کہا۔
اس موقع پر توتکار کے دوران جھگڑا بڑھا تو پولیس آفیسر نے نوجوان کو نیچے گرا لیا اور چہرے پر مکے مارے جبکہ دوسرے پولیس آفیسر نے آ کر اس 33 سالہ نوجوان رائیٹ کو ہتھکڑی لگانے میں پولیس آفیسر کی مدد کی۔
IS THIS #NYPD BRUTALITY OR NOT? We report, you decide. This happened on Ave D and 9th St, in the #LowerEastSide of #Manhattan on Saturday – @NYCMayor @NYPDnews pic.twitter.com/0pTDTat17S
— NYScanner (@nyscanner) May 3, 2020
نیو یارک سکینر کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے اس واقعہ کی فوٹیج شیئر ہونے کے بعد عوام کی جانب سے سخت غم و غصہ کا اظہار کیا گیا جس پر واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے نیویارک کے میئر نے کہا کہ پولیس آفیسر کو ڈیسک ڈیوٹی پر تعیناتی کے بعد اندرونی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے ویڈیو میں جس طرح کا رویہ دیکھا ہے وہ نا قابل قبول ہے۔