امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چین کے خلاف جارحانہ الزام تراشی اس ہفتے بھی جاری رہی اور ایک مرتبہ پھر انہوں نے اپنی بات دہرائی ہے کہ وہ کورونا وائرس کے چین کی ووہان لیبارٹری سے آغاز کے شواہد دیکھ چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
اسی صبح نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائرکٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ سائنسی حلقوں میں وسیع اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ کورونا وائرس مصنوعی طور پر تیار نہیں کیا گیا لیکن اس بات کی تحقیق جاری رہے گی کہ یہ وبا جانوروں کے ذریعے پھیلی ہے یا ووہان کی لیبارٹری میں کسی حادثے کے نتیجے میں اس کا آغاز ہوا تھا۔
کیا کورونا وائرس ووہان کی لیب میں تخلیق کیا گیا اور وہیں سے دنیا میں پھیلا ہے؟
کورونا کے خلاف جنگ میں اپنی فیاضی سے پوری دنیا میں مقبول ہونے والے جیک ما کی کہانی
انٹیلی جنس اداروں کے سیاست زدہ ہونے کے متعلق بڑھتی تشویش کو اگر ایک طرف رکھ دیا جائے تو اس ہفتے کی پیش رفت اشارے دے رہی ہے کہ جب بھی دنیا کورونا کے شکنجے سے باہر آئے گی، چین امریکہ مخالفت اس سے بھی زیادہ شدت اختیار کرے گی جو اس وبا سے قبل دیکھنے میں آ رہی تھی۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ کی چین کے خلاف جارحانہ بیان بازی صدارت کا منصب سنبھالنے سے قبل ہی شروع ہو گئی تھی، 2016 میں انتخابی مہم کے دوران انہوں نے سب سے پہلے امریکہ کے نعرے میں چین کو سب سے بڑے غنڈے کے طور پر پیش کیا تھا، اس کے بعد ٹرمپ نے وقفے وقفے سے چین کو کسنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
گزشتہ تین دہائیوں سے چین نے غیرمعمولی اقتصادی ترقی کے دوران امریکہ کے غیض و غضب سے محفوظ رہنے کی کوشش کی، اس دوران انہوں نے امریکہ کو دنیا کی قیادت کا بوجھ اٹھانے دیا اور خود عالمگیریت اور مستحکم جیوپولیٹکل نظام کے ثمرات سمیٹتا رہا۔
2016 میں چین کے خلاف ٹرمپ اکیلا عقاب نہیں تھے بلکہ اور لوگ بھی اسی طرح سوچتے تھے، چین کی جانب جارحانہ رویے نے ان کی حمایت میں اضافہ کیا، آج چین کے عالمی عزائم امریکہ کو متحد کرنے کا باعث ہیں تاہم بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ اس پیغام کو پہنچانے کا غیرموزوں ذریعہ ہیں۔
جہاں تک چین امریکہ مخالفت کے طریق کار کی بات ہے تو بہت سے لوگوں نے فرض کیا ہوا تھا کہ وقت کی رو چینی قیادت کے حق میں ہے، اسی لیے چین فوجی قوت، معاشی حجم اور ٹیکنالوجی میں امریکہ کے ہم پلہ بنتا جا رہا تھا۔
ایک اور عنصر جو چین کے حق میں گیا وہ یہ تھا کہ امریکہ کے سابق صدور کو دوسری بار انتخابات جیتنے کے لیے ملک میں معاشی اور مقبولیت کے گراف کی نگرانی کرنا پڑتی تھی اور یہ ان کے لیے خارجہ پالیسی کے محاذ پر آپشنز کو محدود کر دیتی تھی۔
اس کے برعکس چینی صدور کو اپنے عوام سے بار بار منتخب ہونے کی ضرورت نہیں تھی اس لیے وہ ریاست کی طے کردہ صنعتی پالیسی اور طویل المعیاد سیاسی اصلاحات کو تیار اور ان پر عملدرآمد کرسکتے تھے۔
امریکی جریدے ٹائم کے مطابق یہ بات بالخصوص ژی جن پنگ کے متعلق درست ہے کیونکہ وہ چیئرمین ماؤ کے بعد سے چین کی سب سے زیادہ طاقتور شخصیت رہے ہیں، انہوں نے 2018 میں مدت صدارت کی شق ختم کرا کے تمام عمر کے لیے اقتدار پر فائز رہنے کا راستہ ہموار کر لیا تھا۔
آئندہ کیا ہو گا؟
کورونا کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کا سب سے بڑا ہتھیار، یعنی امریکی معیشت، بھی لرز رہی ہے، اس ہفتے جو اعدادوشمار پیش کیے گئے ہیں ان کے مطابق پہلی سہ ماہی میں معیشت 4.8 فیصد گری ہے جبکہ دوسری سہ ماہی میں لاک ڈاؤن کے باعث اس سے بھی برے نتائج سامنے آنے کا امکان ہے، تین کروڑ امریکیوں کی بیروزگاری ایک اضافی پریشانی ہے۔
معیشت کی ابتری ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے امکانات کے لیے نقصان دہ ہے، ساتھ ساتھ انہوں نے وبا کو روکنے میں کئی غلطیاں کی ہیں، پہلے انہوں نے اسے حقارت سے نظرانداز کر دیا، بعد ازاں غیرمصدقہ معجزانہ علاج کے نعرے بلند کیے اور مجموعی طور پر وہ کورونا وائرس اور اس کے نتائج کی ذمہ داری لینے سے کنی کتراتے رہے ہیں۔
نیویارک میں کورونا وائرس چین کے بجائے یورپ سے منتقل ہوا، نئی تحقیق
کورونا وبا کا آغاز اور پھیلاؤ: چین نے آسٹریلیا کا تحقیقات کا مطالبہ مسترد کر دیا
نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایک سروے کے مطابق ان کی مقبولیت 43 فیصد رہ گئی ہے، حالیہ رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ اندرونی پولز کے مطابق وہ اپنے ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن سے اہم ترین ریاستوں میں ہار رہے ہیں۔
ٹرمپ کے لیے یہ سب برے شگون ہیں، اب تک ٹرمپ نے ان تمام سیاسی بحرانوں سے بچ نکلے ہیں جو ان کے پیدا کردہ نہیں تھے، آج اچانک آسمان سے ایک آفت ان کے سر پر گری ہے اور کوئی بھی سستی قسم کی بازی گری ان کے کام نہیں آ سکتی۔
کورونا کے خلاف غیرموزوں ردعمل کے الزام سے بچنے کی مجنونانہ کوشش میں انہوں نے چین پر الزام تراشی کا بیانیہ اپنا لیا ہے اور جوں جوں انتخابات قریب آتے جائیں گے، ترکش کے اسی تیر پر ان کا انحصار بڑھتا جائے گا۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہواوے کے خلاف مزید سخت پابندیوں اور چین کے کورونا وبا کے متعلق ردعمل کی کانگریس کی سطح پر تحقیقات ایسے کم سے کم امور ہیں جن کی توقع کی جا سکتی ہے۔
ان میں سے کوئی بھی بات حیران کن نہیں ہے، اصل حیرت کی بات اس بحران کے آغاز سے ہی بیجنگ کی جانب سے گڑبڑاہٹ کا مظاہرہ ہے، یہ بات واضح ہے کہ اس وبا کا آغاز چین سے ہوا اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس کی جانب سے وبا کو چھپانے کی ابتدائی کوششوں نے اسے عالمی سطح پر پھیلنے دیا ہے۔
چین نے کسی قسم کی ندامت کا اظہار کرنے کے بجائے ایک بری صورتحال کو اپنے حق میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے اور اس نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سفارت کاری کے ذریعے چند اتحادی بنانے کی جدوجہد کی ہے۔
چین کا یہ حربہ کئی جگہوں پر کام کرتا دکھائی دے رہا ہے، خصوصاً ایسی صورتحال میں جب امریکہ اس عالمی بحران کے موقع پر قیادت کے منظرنامے سے یکسر غائب ہے۔
چین کی بدقسمتی یہ رہی کہ اس کی پبلک ریلیشنز کی مہم کو غیرمعیاری طبی سازوسامان نے نقصان پہنچایا ہے، اس کے علاوہ چین کی کورونا مریضوں کی بہت کم تعداد رپورٹ کرنے سے بھی شکوک پیدا ہوئے ہیں۔
چین اس وقت خود کو کورونا وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے بہترین ماڈل کے طور پر پیش کر رہا ہے تاہم اب اس پر بھی سوالات اٹھنے شروع ہو گئے ہیں۔
اسی طرح چین اپنی شہرت کو کچھ نقصان ان ممالک کے خلاف اقتصادی نتائج کی دھمکیوں سے بھی پہنچا رہا ہے جو کورونا کے آغاز کے متعلق خودمختار بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
چینی صدر صرف بین الاقوامی تنقید سے پریشان نہیں ہیں بلکہ حال ہی میں پبلک سیکیورٹی کے نائب چیف سن لیجن کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے تحت تحقیقات اس بات کا اشارہ کرتے ہیں کہ شاید ان کے طریق کار کے متعلق داخلی سطح پر بھی تنقید ابھر رہی ہے۔
کچھ لوگ زیریں لب یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عہدے کی موجودہ مدت کے خاتمے پر صدر ژی کے خود بخود انتخاب کی خواہش نے بھی انہیں عالمی تنقید کے متعلق حساس بنا دیا ہے، یہ تنقید خصوصاً امریکہ سے ابھر رہی ہے جس نے انہیں ضرورت سے زیادہ ردعمل دکھانے پر مجبور کر دیا ہے۔
ان تمام معاملات کی وجہ سے چین امریکہ تعلقات ایک اور نہج پر پہنچ گئے ہیں، جب تک صدر ژی کے سیاسی مستقبل پر شکوک کے سایے موجود نہیں تھے اس وقت تک یہ توقع تھی کہ چین کی طرف سے ٹھنڈے مزاج کے لوگ حاوی آ جائیں گے اور عالمی معیشت متوازن انداز میں رواں دواں رہے گی۔
اب جبکہ کورونا نے عالمی معیشت کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے، ٹرمپ اور ژی کے لیے یہ سودمند بات ہے کہ وہ باہمی مخاصمت کو بڑھاوا دیں تاکہ داخلی سطح پر ان کی اہلیت پر انگلیاں نہ اٹھ سکیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ موجودہ وبا کے خاتمے کے بعد ٹیکنالوجی کی سرد جنگ اور تجارتی مقابلہ بازی کئی قدم آگے بڑھ کر ایک باقاعدہ سرد جنگ میں بدل جائے گی۔