امریکی ریاست مشی گن میں بغیر ماسک کے سٹور میں داخل ہونے کی اجازت نہ ملنے پر ایک خاندان نے سٹور کے گارڈ کو قتل کر دیا۔
43 سالہ کیلون منرلین کو فیملی ڈالر سٹور، مشی گن کے باہر سر کے پیچھے گولی مار کر قتل کیا گیا۔ ایک خاتون اس کے شوہر اور بیٹے پر قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
منرلین کو اس وقت نشانہ بنا یا گیا جب انہوں نے 45 سالہ خاتون شرمیل کی بیٹی کو بغیر فیس ماسک کے سٹور میں داخل ہونے سے منع کیا تھا، خاتون کے 44 سالہ خاوند لیری ٹیک اور 23 سالہ بیٹے ریمنویا بشپ پر الزام ہے کہ وہ اس واقعہ کے فوری بعد سٹور پر گئے جہاں یہ خونی واقعہ پیش آیا۔
اس واقعہ پر شرمیل ٹیگ کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دوسرے دو ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ لیری ٹیگ پر ریاست کے گورنر کی جانب سے فیس ماسک پہننے کے حکم کی خلاف ورزی کی بھی دفعات عائد کی گئی ہیں تاہم ان کی بیٹی پر مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
کاؤنٹی پراسیکیوٹر نے صحافیوں کو بتایا کہ ابتدائی تکرار کے بعد شرمیل ٹیگ سیکیورٹی گارڈ پر چیخنے چلانے کے بعد گاڑی پر روانہ ہوگئیں تاہم تھوڑی دیر بعد وہ اپنے خاوند اور بیٹے کے ہمراہ واپس سٹور پر پہنچیں جہاں خونی تصادم کے دوران ان کے بیٹے نے گولی چلائی جس کا وہ نشانہ بنے۔
پراسیکیوٹر نے کیلون منرلین کی موت کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی اس واقعہ میں ملوث ہیں قانون کے مطابق سب کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
منرلین کی والدہ کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا صرف اپنے فرائض کی انجام دہی کررہا تھا اور اسی بات پر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
منرلین کی تدفین کے لیے بنائے گئے پیج پر فنڈ ریزنگ کے دوران ایک لاکھ ڈالر اکٹھے ہوئے ہیں، ان کے 8 بچے ہیں۔
امریکی ریاست مشی گن میں اس وقت کورونا وائرس کیسز کی تعداد 43 ہزار 950 ہے جبکہ 4 ہزار 100 سے زائد اموات واقع ہوچکی ہیں۔ گزشتہ دنوں ہزاروں افراد نے مشی گن ریاست میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کے لیے مظاہرہ کیا جن میں کئی مسلح افراد بھی شامل تھے۔
امریکہ میں کورونا وائرس کے پھیلاءو کو روکنے کیلئے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کیخلاف غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔