1526ء میں ظہیرالدین بابر نے ابراہیم خان لودھی کو شکست دیکر مغلیہ سلطنت کی بنیاد ڈالی تھی۔ مغل ہندوستان کو فتح کرنے آئے تھے مگر دیگر بیرونی حملہ آوروں کے برعکس انہوں نے اسے کالونی بنانے کے بجائے اپنا ملک بنا لیا۔ انہوں نے اپنی شناخت کو ہندوستان میں ضم کر دیا اور ہمیشہ کیلئے اس سے جڑ گئے۔ مغلیہ سلطنت کے تیسرے حکمران اکبر اور انکے بعد کے تمام مغل حکمران بھارت میں پیدا ہوئے تھے۔ اکثر کی مائیں راجپوت تھیں۔
بہت سے مغل حکمرانوں نے بھارتی حکمرانوں، بالخصوص راجپوتوں میں شادیاں کیں جسے ”شادی کے ذریعے اتحاد“ کا نام دیا جاتا ہے۔ مغلوں نے راجپوتوں اور دیگر ہندو حکمرانوں کو اعلیٰ عہدوں سے نوازا۔ یہی وجہ تھی کہ 1857ء میں ہندو اور مسلمان سپاہی ملکر آخری مغل حکمران بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں انگریز کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
مغلوں نے ہندوستان کو امیر ترین بنایا
16ویں صدی سے 18ویں صدی تک مغل سلطنت دنیا کی امیر ترین اور طاقتور سلطنت سمجھی جاتی تھی۔ 17ویں صدی میں ہندوستان آنیوالے فرانسیسی سیاح ’فرانکوئس برنئیر‘ نے لکھا ہے کہ دنیا کے ہر کونے سے سونا چاندی بھارت آتا ہے۔
شیر شاہ سوری اور اور بعد ازاں مغلوں کی جانب سے سڑکیں، دریائی ٹرانسپورٹ، سمندری راستے اور پورٹس بنائی گئیں اور بہت سے ٹیکسز کا خاتمہ کیا گیا جس سے بھارت کی دولت میں اضافہ کے اسباب پیدا ہوئے۔ بھارتی دستکاریوں کو فروغ دیا گیا۔ تیار شدہ اشیاء جیسا کہ کپڑے، مصالحہ جات، بنے ہوئے کپڑے، نمک اور دیگر اشیاء کی برآمد بہت زیادہ تھی۔
مغل سلطنت میں ہونیوالی یہ تجارت زیادہ تر بھارتی تاجروں کے کنٹرول میں تھی۔ برنئیر نے لکھا تھا کہ ملک کی تجارت اور دولت ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے۔ مسلمانوں کے پاس اعلیٰ انتظامی و فوجی عہدے تھے۔
ان حالات میں ہی ایسٹ انڈیا کمپنی نے مغل سلطنت سے تجارتی رعاتیں مانگیں اور بعد میں قبضہ کے بعد اسے تباہ کر دیا۔
ہندوستان کی دولت کی لوٹ کا آغاز دہلی سلطنت یا مغلوں کے دور سے نہیں بلکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور سے ہوا۔ برطانوی لائبریری میں 1778ء کی ایک دلچسپ پینٹنگ پڑی ہے جس کا عنوان ہے ‘مشرق اپنی دولت برطانیہ کو پیش کرتے ہوئے۔’ اس پینٹنگ میں ہندوستان کی جانب سے لعل اور موتیوں سے بھرا تاج برطانیہ کو پیش کرنے کا منظر دکھایا گیا ہے۔
1780ء کی دہائی میں ایڈمنڈ برک وہ پہلا شخص تھا جس نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بے رحمانہ لوٹ مار پر کہا تھا کہ کمپنی کی مسلسل لوٹ مار سے بھارت شدید تباہ ہوچکا ہے۔
ہندوستان کی معاشی میدان میں چین کو شکست
کیمبرج کے تاریخ دان انگس میڈیسن نے اپنی کتاب Contours of the World Economy 1–2030 AD: میں لکھا ہے کہ سال 1000ء تک بھارت دنیا کی سب سے بڑی معیشت تھی مگر معاشی نمو نہیں تھی۔ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ 1000ء سے 1500ء کے دوران کا وقت تھا جب بھارت میں معاشی نمو ہونا شروع ہوئی۔ اس عرصہ میں مغل دور میں سب سے زیادہ معاشی نمو دیکھنے میں آئی۔ بھارت میں جی ڈی پی گروتھ 20.9 فیصد تک چلی گئی تھی اور پھر 18ویں صدی میں بھارت چین کو پچھاڑ کر دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن گیا۔
انگس میڈیسن کے مطابق 1600ء میں بھارتی معیشت عالمی معیشت کا 22.54 فیصد تھی جبکہ ا س دوران عالمی معیشت میں برطانیہ کا حصہ صرف 1.8 فیصد تھا۔ 1700ء میں بھارتی معیشت دنیا بھر کی معیشت کا 24.44 فیصد تھی تو اس وقت برطانوی معیشت دنیا کی کل معیشت کا 2.88 فیصد تھی۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کی لوٹ مار کے بعد ہندوستان کی معیشت سکڑنا شروع ہوگئی اور برطانیہ امیر ہونا شروع ہو گیا۔ انگس نے لکھا ہے کہ 1870ء میں بھارتی معیشت کم ہوکر 12.25 فیصد رہ گئی جبکہ برطانوی معیشت بڑھ کر کل معیشت کا 9.1 فیصد ہوگئی۔
بھارت کے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ کے مطابق 20ویں صدی کے آغاز میں بھارت فی کس آمدن کے لحاظ سے دنیا کا غریب ترین ملک بن چکا تھا۔
مغلوں نے پیسہ کہاں لگایا؟
مغل ہندوستان کا پیسہ ملک سے باہر لیکر نہیں گئے۔ انہوں نے یہ پیسہ انفرااسٹرکچر میں لگایا۔ انہوں نے عظیم تعمیرات کیں، مقبرے بنائے جن کی سیاحت سے حکومتیں سالانہ کروڑوں کماتی ہیں۔ بھارتی وزارت ثقافت کے مطابق شاہ جہاں کی جانب سے بنائے گئے تاج محل کی ٹکٹیں فروخت کرنے سے بھارتی حکومت کو ہرسال 21 کروڑ روپے (بھارتی کرنسی) بچتے ہیں۔ اسی طرح قطب کمپلیکس کی سالانہ ٹکٹوں کی فروخت سے 10 کروڑ روپے سے زائد آمدن ہوتی ہے۔
مغلوں نے آرٹس میں سرمایہ کاری کی۔ انکی پینٹنگز، تاج، آرٹس اور دیگر بہت سی اشیاء یورپی عجائب گھروں کی زینت ہیں۔ ان اشیاء کو بھارت سے لوٹا گیا تھا۔