کورونا وائرس کی وبا نے رواں برس کے شروع سے ہی دنیا بھر میں پنجے گاڑنا شروع کر دیے اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا اس کی لپیٹ میں آ گئی۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 3لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اب تک 210 سے زائد ممالک اس وبائی مرض سے متاثر ہو چکے ہیں لیکن ابھی بھی کچھ ممالک ایسے ہیں جو اس وائرس سے محفوظ ہیں۔ گلف نیوز کے مطابق اس وقت دنیا میں 11 آزاد ممالک ایسے ہیں جو حیرت انگیز طور پر اس عالمی وبا سے بچے ہوئے ہیں۔
ان ممالک میں شمالی کوریا، ترکمانستان، سولومن جزائر، وانواتو، کیریباتی، مائیکرونیشیا کی ریاست ہائے متحدہ، نورو، نیئو، پالاو، ساموآ اور ٹونگا شامل ہیں۔ ان میں سے بہت سے ممالک دور دراز سمندر کے وسط میں واقع چھوٹے جزیرہ نما ممالک ہیں۔ اس کے علاؤہ 10 اور ایسی جگہیں ہیں جو ابھی تک کورونا وائرس سے محفوظ ہیں لیکن یہ علاقے برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا اور فرانس جیسے ممالک کے Dependent territories ہیں ۔
اگر شمالی کوریا اور ترکمانستان کی بات کی جائے تو حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ممالک چین کے ہمسایہ ممالک ہیں جو ابھی تک کورونا وائرس سے پاک ہیں۔ شمالی کوریا میں ابھی تک ایک بھی کورونا وائرس کا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ شمالی کوریا نے کووڈ 19 سے بچنے کے لیے قرنطینہ کے لیے سخت ترین اقدامات کیے ہیں اور اسے قومی بقا کا معاملہ قرار دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے آپ کو اس روئے زمین پر ایک الگ تھلگ قوم کے طور پر پیش کیا ہے۔ تاہم کچھ تجزیہ کار شمالی کوریا کے اس دعوے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ترکمانستان بھی چین کے نزدیک ترین ممالک میں آتا ہے لیکن یہاں باہر سے کم آمدورفت کی وجہ سے اس وبائی مرض سے متاثر نہیں ہوا۔ بیرونی دنیا کے ساتھ اس کے روابط بہت محدود ہیں جس کی وجہ سے یہ ملک کووڈ 19 سے محفوظ ہے ۔
باقی جزیرہ نما ممالک جو سمندر کے وسط میں واقع ہیں، وہاں پر دنیا کے دیگر ممالک سے لوگوں کی بہت کم تعداد سیر و سیاحت کیلئے آتی ہے کیونکہ ان جزیروں تک پہنچنا کافی مہنگا پڑتا ہے۔ یہ وجوہات ان ممالک میں کورونا وائرس کی عدم موجودگی کی وجہ بنی اور اس کا ان ممالک کو فائدہ پہنچا۔
یاد رہے کہ ایسے ممالک جہاں پر سیاحت اور سیاحوں کا آنا جانا زیادہ تھا جیسے کہ اٹلی، اسپین، فرانس، امریکہ اور دیگر ایسے ممالک، ان میں کورونا وائرس بہت تیزی سے پھیلا۔