• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, مئی 31, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

18 ویں آئینی ترمیم میں تبدیلی کس کی خواہش پر ہو رہی ہے؟ حامد خان نے بھانڈا پھوڑ دیا

by sohail
مئی 5, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پی ٹی آئی کے سابق رہنما حامد علی خان نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم بہتر قدم تھا کیونکہ ہمیشہ سے ہی مطالبہ رہا ہے کہ صوبوں کو خودمختاری دینی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم پر مکمل عمل در آمد نہیں ہو رہا ہے تاہم صوبائی خودمختاری کا معاملہ ایک سیاسی اور آئینی اہمیت رکھتا ہے، اس معاملے کو اہمیت نہ دے کر ہم نے اپنا آدھا ملک گنوا دیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کو مقدس درجہ حاصل نہیں ہے کیونکہ آئین میں ترمیم کی گنجائش موجود ہے اور ضروریات کے مطابق ترمیم ہوتی رہنی چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 18 ویں ترمیم میں کچھ سقم موجود ہیں جس کے باعث اس میں ترمیم ہو سکتی ہے اور ہونی بھی چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ ہر دفعہ یہ ایک سیاسی مسئلہ کیوں بن جاتا ہے اور لوگ کہنے لگتے ہیں کہ اسے ہاتھ مت لگائیں۔

اپنے ہی سوال کا جواب دیتے ہوئے حامد خان نے کہا کہ جو طاقتیں اس ترمیم کے پیچھے ہیں اور ان کے جو عوامل ہیں وہ مناسب نہیں ہیں، یہ قوتیں چاہتی ہیں کہ صوبائی خود مختاری کو کمزور کیا جائےاور مرکز کو زیادہ مضبوط کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ 72 برسوں سے چل رہا ہے اور اس پر بہت زیادہ سیاسی تناؤ رہتا ہے، اس لیے بات وہیں رک جاتی ہے جہاں مخالف قوتیں اسے ہاتھ نہ لگانے کا کہتی ہیں، خدشہ یہ ہے کہ ایک بار ہاتھ لگ گیا تو نہ جانے بات کہاں جا کر رکے گی۔

اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کا مطالبہ، اصل وجہ کیا ہے؟

18 ویں ترمیم میں تبدیلی کے حوالے سے حامد خان نے کہا کہ حکومت کے لوگ تو شاید کسی اور کی مرضی سے کہہ رہے ہیں، اس معاملے کو اس وجہ سے چھیڑا جا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے خیال میں مرکز کے پاس وسائل بہت کم ہو گئے ہیں اور اسکے نتیجے میں دفاعی بجٹ میں مشکل کا سامنا ہے۔

حامد خان نے کہا کہ میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ اس کے ساتھ چھیڑ خانی نہیں ہونی چاہیے، اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو جب ایک بار وسائل دے دیے ہیں تو پھر اس میں کمی نہیں آنی چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نئے وسائل پیدا کر کے اپنے اخراجات پورے کریں، صوبائی حکومتوں اورصوبوں کا حصہ کم کر کے کس طرح سے اخراجات مرکز میں لا سکتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں صرف اٹھارویں ترمیم کا نام لے لیا جاتا ہے، اصل ایشو نہیں بتایا جاتا لیکن ہم جانتے ہیں کہ حقیقی معاملہ کیا ہے اور کن اطراف سے یہ باتیں آ رہی ہیں۔

پی ٹی آئی کے سابق رہنما نے کہا کہ یہ بات قابل قبول نہیں ہے، اس سے دوبارہ صوبائی خودمختاری کا حساس مسئلہ چھڑ جائے گا، 72 برسوں سے جن مسائل کا سامنا کرتے آ رہے ہیں پھر سے وہ ابھر آئیں گے۔

صوبائی خود مختاری، پاکستان نے کیا سزا بھگتی؟

حامد خان نے کہا کہ صوبائی مختاری بہت اہمیت کی حامل ہے، اس کے پیچھے ہماری تاریخ ہے، ہم نے تو مشرقی پاکستان بھی صوبائی خود مختاری کے جھگڑے میں گنوایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان خود مختاری مانگتا تھا اور ہم اپنے مرکز کو مضبوط رکھنا چاہتے تھے اور اسی خواہش کے پیچھے ملک کا ایک بازو گنوا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 71 کے الیکشن کے نتائج پر عمل در آمد نہیں کیا، صوبائی خود مختاری کے ایشو کی پاکستان نے بہت بڑی قیمت ادا کی ہے، اب اسے چھیڑنا کسی طور پر بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کے آئین میں صوبائی خود مختاری کا ذکر کب کیا گیا ؟

حامد خان سے سوال کیا گیا کہ اٹھارویں ترمیم پر نظر ثانی انتظامی ضرورت ہے یا پھرپاکستان تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ  کے دباؤ کے تحت یہ بات کر رہی ہے؟

حامد خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا آئین میں نے تحریر کیا تھا، اس کے مقاصد میں واضح طور پر صوبائی خودمختاری کا ذکر موجود ہے، یہ اس وقت بنایا گیا تھا جب اٹھارویں ترمیم کا ذکر بھی موجود نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پہلی دفعہ 1996 میں اور دوسری بار 1999 میں تحریک انصاف کے آئین میں لکھا تھا کہ پارٹی صوبائی خود مختاری پر یقین رکھتی ہے اور وہ اسے آگے بڑھائے گی۔

اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کا مطالبہ، پس منظر میں کون؟

حامد خان نے کہا کہ ہم نے حکومت بنانے کے لیے ان جماعتوں کو شامل کیا ہے جو ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کی منظورنظرسمجھی گئی تھیں۔ یہ وہ جماعتیں ہیں جنہیں اسٹیبلشمنٹ بناتی اور توڑتی تھی اور ان کے ذریعے اپنے مقاصد حاص کرتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی پی ٹی آئی کا مطالبہ نہیں ہے کیونکہ اپنے آئین میں تو ہم واضح طور پرصوبائی خودمختاری کی بات کر رہے ہیں لیکن اب اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ میں آ کر یہ مطالبہ کر رہے ہیں جو پارٹی کے مقاصد کے خلاف ہے۔

حامد خان نے یہ گفتگو  دن نیوز میں عظمیٰ خان رومی کے پروگرام ”بیداری“ میں کی ہے۔

Tags: 18ویں ترمیم18ویں ترمیم کے پیچھے کون ہے؟اسٹیبلشمنٹپاکستان تحریک انصافحامد خان
sohail

sohail

Next Post

وسیم اکرم نے ماضی کے کونسے شاندار فاسٹ بالرز کو اپنی ڈریم جوڑی قرار دیا؟

سینئر بیوروکریٹ کے ہاتھوں عزت کو خطرہ، بھارتی سول سروس کی خاتون افسر نے استعفیٰ دے دیا

مغلوں نے ہندوستان کو لوٹا یا اسے امیر کیا؟

برطانیہ کا سب سے بڑا شکاری پرندہ 240 سال بعد ملکی فضاؤں میں لوٹ آیا

ماسک کے بغیر سٹور میں داخلے سے روکنے پر گارڈ قتل

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In