• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 8, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

میں بلے بازوں کو خوفزدہ کر کے نہیں بلکہ بیوقوف بنا کر آؤٹ کرتا تھا، محمد آصف

by sohail
مئی 5, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, کھیل
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محمد آصف پاکستان کرکٹ کا ایک ایسا سٹار بالر تھا جس کے کیرئیر کا اختتام بڑا ہی مایوس کن رہا۔ کچھ دن پہلے ساؤتھ افریقہ کے سابق بلے باز کیون پیٹرسن نے بیان دیا کہ انہیں سب سے زیادہ محمد آصف کو کھیلنے میں مشکل پیش آتی تھی، وہ دنیا کا سب سے مشکل بالر تھا۔

ماضی کے بہترین بلے باز کے بیان کے بعد ایک ای ایس پی این کرکٹ انفو کے صحافی عمر فاروق نے محمد آصف کا انٹرویو کرنے سوچا لیکن سوال یہ تھا کہ انہیں کیسے تلاش کیا جائے کیونکہ وہ ایسے شخص ہیں جنہیں میڈیا کے لکھنے یا کہنے کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

ان کا فون نمبر بند تھا اور واٹس ایپ پر بھی محمد آصف آن لائن نہیں تھے۔ سلمان بٹ کے ذریعے رابطہ ممکن نہ ہوا، آخر عمر فاروق نے انہیں واٹس ایپ میسج بھیجا اور اپنا تعارف کرایا، محمد آصف کے جواب کے بعد بات آگے بڑھی اور تین دن کی کوشش کے بعد وہ انٹرویو دینے پر راضی ہو گئے۔

آپ کو کیرئیر کے مایوس کن خاتمے پر افسوس ہے؟

اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ میں اپنے کیریئر کو بہترین اور کامیاب طریقے سے ختم کروں، میں متنازعہ طریقے سے اختتام پر افسردہ ہوں۔

وسیم اکرم میچ فکسنگ کے لیے رابطہ کرتے تو قتل کردیتا، شعیب اختر

جب بھارت کے فاسٹ بالر محمد شامی خودکشی پر تیار ہو گئے تھے

انہوں نے کہا کہ ہر ایک کو اپنی زندگی میں پچھتاوا ہوتا ہے، ہر کوئی غلطیاں کرتا ہے اور میں نے بھی کیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں ٹھیک ہوں، جو ہونا تھا ہو گیا۔

محد آصف کا کہنا تھا کہ ان سے پہلے 2010 میں اور بعد میں بھی کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث رہے لیکن وہ اب بھی پی سی بی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ ہر ایک کو دوسرا موقع دیا گیا ہے لیکن پی سی بی نے مجھے بچانے کے لیے کوئی مدد نہیں کی حالانکہ میں دنیا میں اپنی بالنگ کی وجہ سے ایک مقام رکھتا تھا، بہرحال جو ہوا سو ہوا، میں ماضی کے ساتھ چمٹ کر نہیں بیٹھا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی بالنگ سے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، دنیا کے بلے باز اب بھی کئی سال بعد مجھے یاد کرتے ہیں، مجھے فخر ہے کہ اے بی ڈویلیرز،  ہاشم آملہ اور کیون پیٹرسن جیسے بڑے بلے باز میرے بارے میں بات کرتے ہیں، مجھے ان سے اپنی تعریف سن کرخوشی  ہوتی ہے۔

آپ تنازعات سے بچ کر ایک لیجنڈ کھلاڑی بن سکتے تھے

محمد آصف سے سوال کیا گیا کہ اگر تنازعات کا شکار نہ ہوتے تو آپ کا کیرئیر اتنا مختصر نہ ہوتا اور آپ ایک لیجنڈ کھلاڑی کے طور پر خود کو منواتے، کیا اس بات پر افسوس نہیں ہوتا؟

انہوں نے جواب دیا کہ میں تنازعات کے بغیر ایک شاندار کیرئیر کے ساتھ اپنی اننگز ختم کر سکتا تھا، مجھے اپنے کھیل سے بہتر سلوک کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کو پیغام دیا کہ جب وہ میدان میں جائیں تو صرف اپنی ٹیم کے لیے پرفارم کرنا چاہیے۔

سابق فاسٹ بالر نے کہا کہ آپ کو اپنی کارکردگی پر کوئی شک نہیں ہونا چاہیے چاہے آپ کو ایک وکٹ بھی نہ ملے، میں بولر کی حثیت سے خودغرض تھا کیونکہ میں وکٹیں لینا چاہتا تھا اور میری وکٹیں لینے کی کوشش میں ٹیم کو مدد ملتی تھی، اگر آپ ٹیم کے لیے پرفارم کر رہے ہیں تو خود غرض ہونا برا نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے 2006 کے اوول ٹیسٹ میں پیٹرسن کے خلاف بالنگ کی اور انہیں بہت پریشان کیا، شائد اس وجہ سے پیٹرسن ہر چوتھے روز مجھے یاد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مدثر نذر نے ایک بار مجھے کسی کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ٹریننگ کے دوران بولنگ کے لیے کہا، میں اس کھلاڑی سے پوچھا کہ تم نے گارڈ پہنے ہیں اس نے کہا کہ نہیں تو میں نے پہلی ہی گیند اس کے سامنے کی اور وہ لائن سے ہٹ گیا، اس پر کوچ نے ہنس کر مجھے کہا کہ تم بہت کمینے ہو، تمہیں اپنی بالنگ پر کنٹرول کیسے ہے؟

پاک بھارت کرکٹرز کی دوستیاں اور دشمنیاں، شاہد آفریدی کی زبانی

سچن ٹنڈولکر کی بات پر ثقلین مشتاق نے ان سے معافی مانگ لی

محمد آصف نے ایک اور واقعہ سنایا کہ ایک بار میں قذافی اسٹیڈیم میں نیٹ میں بالنگ کر رہا تھا، وسیم اکرم بھی وہاں موجود تھے، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ بلے باز کو آؤٹ کرنے کے لیے آپ کو کتنی گیندیں درکار ہیں تو میں نے جواب دیا کہ میں تیسری گیند کو اسٹمپ سے ٹکرا دوں گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ میرے سامنے لیفٹ آرم بلے باز تھا، اس نے میری پہلی دو آؤٹ سونگ بالز کو چھوڑ دیا پھر اس نے میری تیسری بال کو بھی چھوڑا لیکن گیند اسٹیمپ اڑاتی چلی گئی کیونکہ یہ میرا ان سونگ بال تھا۔

محمد آصف نے کہا کہ اس کے بعد میں نے وسیم اکرم کی طرف دیکھا تو اس کا چہرہ حیرت زدہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ محمد عباس نے ایک یو ٹیوب چینل پر انٹرویو کے دوران وسیم اکرم کو کہہ دیا تھا کہ انہوں نے محمد آصف سے بہت کچھ سیکھا ہے، میرے خیال میں اس نے عقلمندی کا مظاہرہ نہیں کیا، اگر محمد عباس میرے بجائے وسیم اکرم کو اپنا ہیرو کہتا تو اسے اپنا لمبا کیرئیر بنانا آسان رہتا کیونکہ ان کا اثرورسوخ مجھ سے کہیں زیادہ ہے۔

محمد آصف نے کہا کہ میں نے اپنی بالنگ سے بار بار ثابت کیا اور کئی کھلاڑیوں کو ایک سے زیادہ بار آؤٹ کیا، ایسا نہیں تھا کہ میں نے تکے سے ایک اچھی بال کرا دی اور دوبارہ مجھ سے وہ بال نہیں پھینکی گئی، گیند کو اندر اور باہر گھما دینا ایک بار کی بات نہیں تھی اور مجھے اسے سیکھنے میں دن نہیں بلکہ برسوں لگے، اس کے لیے میں نے بہت محنت کی۔

انہوں نے کہا کہ آپ کسی کو تیز رفتاری سے آؤٹ نہیں کر سکتے  حالانکہ سیلکیٹر کا خیال ہے کہ تیز  رفتار بولر کسی بھی ٹیم کو اڑا سکتے ہیں کوئی اگر واقعی رفتار سے خوفزدہ ہے تو اسے اپنی رفتارِ برقرار رکھنی چاہے

محمد عباس کے متعلق سوال پر محمد آصف کا کہنا تھا کہ وہ ایک اچھا بالر ہے میں نے اسے اپنی بالنگ کی رفتار 5 سے 6 کلومیٹر فی گھنٹہ بڑھانے کا مشورہ دیا ہے، اس سے وہ ون ڈے میں بھی جگہ بنا سکتا ہے لیکن اب وہ عمر کے اس حصے میں ہے جہاں ایسا کرنا مشکل ہو گا۔

پاکستان میں کرکٹ کے نظام کے متعلق محمد آصف نے کہا کہ بنیادی مسئلہ ہمارے ان سیلیکٹرز کا ہے جن کا کیرئیر مختصر ہے، وہ چونکہ اپنے کرکٹ کے دنوں میں تیز رفتار بالرز کو کھیلنے میں مشکل کا سامنا کرتے تھے اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ بس فاسٹ بالر کا انتخاب کرنا اہم ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ میرے اور عباس جیسے بالرز کی اہمیت نہیں سمجھ پاتے، وہ صرف رفتار کو دیکھتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ فاسٹ بالرز مختلف کیٹگریز میں آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ فاسٹ بالرز واقعی تیز رفتار ہیں جبکہ دوسرے وہ ہیں جو وکٹیں لیتے ہیں لیکن پاکستان میں جبلی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ تیز گیند پھینکنے والے ہی میچ جتوا سکتے ہیں۔

عمراکمل کو ان کے بڑے بھائی کامران اکمل کی نصیحت

انہوں نے شعیب اختر سے اپنا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے پوری طرح یاد نہیں لیکن جب ہم اکٹھے کھیلا کرتے تھے تو میں نے ان سے زیادہ وکٹیں حاصل کی تھیں۔ (آصف نے چار ٹیسٹ میچ میں 15 جبکہ شعیب اختر نے 8 وکٹیں حاصل کی تھیں)

ان کا کہنا تھا کہ آپ کسی کو اپنی تیزرفتاری سے آؤٹ نہیں کر سکتے کیونکہ بلے باز تیز رفتاری سے خوفزدہ نہیں ہوتا، اگر کوئی خوفزدہ ہوتا بھی ہے تو کریز پر زیادہ دیر ٹھہرنے کے بعد یہ خوف ختم ہو جاتا ہے، اصل خوف آؤٹ ہونے کا ہوتا ہے، ہمارا سسٹم ایسا ہے کہ وہ تیز رفتار بالرز کی تلاش کرتا ہے اس لیے ہمارے پاس تعداد تو بہت ہے لیکن معیار کم رہ گیا ہے۔

محمد آصف نے کہا کہ چند اچھے بالرز اس وقت بھی اپنی جگہ بنا رہے ہیں لیکن وہ بہت زیادہ کرکٹ کھیلے بغیر آئے ہیں، شاہین آفریدی ایک زبردست دریافت ہے، اس وقت اسے ہر فارمیٹ میں کھلایا جا رہا ہے لیکن جب وہ کارکردگی نہیں دکھائے گا تو اسے ہٹا کر کسی اور نوجوان کو تلاش کر لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت 20 سے 25 بالرز ایسے ہیں جو 130 سے 140 کلومیٹرز فی گھنٹہ کی رفتار سے بالنگ کرا رہے ہیں لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں رفتار کی اہمیت نہیں ہوتی، مجھے ایسا بالر چاہیے جو ٹیسٹ میچ کے دوران 10 وکٹیں لے سکے۔

انہوں نے سوال پوچھا کہ 2010 کے بعد کتنے گیندبازوں نے یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے؟ میرے بعد صرف محمد عباس ہی ایسا کر سکا ہے۔

کیا سپاٹ پچز پر رفتار زیادہ اہم نہیں ہوتی؟

اس سوال کے جواب میں محمد آصف نے کہا کہ ایک فاسٹ بالر کو اپنی حدود کا علم ہونا چاہیے اور انہی کے اندر کھیلنا چاہیے، میں اپنی حدود کے اندر اچھا کھیلا تھا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ ٹیم میں فاسٹ بالر ہونا ہی نہیں چاہیے، کئی ٹیموں کو ایسے تیزرفتار گیند بازوں کی ضرورت ہوتی ہے جو بلے باز کو بیک فٹ پر بھیج سکیں لیکن میں نے اپنی حدود کے اندر بالنگ کی اور اس کا اچھا نتیجہ نکلا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا کام بلے باز کو خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ اسے بیوقوف بنا کر آؤٹ کرنا تھا، میرے جیسے بالرز ٹیم کے لیے اشد ضروری ہیں، میرے پھر یہ بھی ہے کہ مجھ جیسے بالرز کو اپنی اہمیت ثابت کرنے کے لیے صبر اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ 140 کلومیٹرز کی رفتار سے بالنگ نہیں کرا رہے تو لوگ اس سے قائل نہیں ہوتے۔

محمد عامر کے 27 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے کے متعلق رائے؟

محمد آصف نے کہا کہ عامر کا کیرئیر بچنے کے لیے پی سی بی نے جو کوششیں کیں میں اس کے لیے انہیں بددعا دیتا ہوں لیکن عامر کا فرض بنتا ہے کہ اس مشکل صورتحال میں پاکستان کرکٹ کی مدد کرتا، خاص طور پر اس وقت جبکہ انہوں نے اس کا کیرئیر بچانے کی بھرپور کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ اگر عامر نے اس عمر میں ٹیسٹ کرکٹ چھوڑ دی ہے تو لعنت ہے ان لوگوں پر جنہوں نے اس کو واپس لاںے میں مدد کی، کیا آج تک کسی بلے باز نے عامر کا نام لے کر کہا ہے کہ وہ ایک مشکل بالر ہے؟ یقینی طور پر نہیں لیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر پی سی بی نے آپ کے لیے اتنا کچھ کیا ہے تو آپ کا فرض ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی مدد کریں، اگر پی سی بی نے میرا کیرئیر بچانے میں مدد کی ہوتی تو میں آج بھی ٹیسٹ کرکٹ میں جگہ بنانے میں ان کی مدد کرتا، مجھے علم ہے کہ جسمانی فٹنس کے معیار ہیں لیکن میں اس پر پورا اتر سکتا ہوں اور جو توقع مجھ سے کی جائے گی اس پر پورا بھی اترنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔

کیرئیر کے بہترین بالنگ اسپیل کون سے ہیں؟

ان سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے کیرئیر کے بہترین بالنگ سپیلز کے متعلق کچھ بتائیں تو محمد آصف نے جواب دیا کہ میں نے ہمیشہ یادگار کرکٹ کھیلی ہے، میرا ہر میچ میں بالنگ اسپیل یادگار ہوتا تھا، اگر مجھے وکٹ نہیں بھی مل رہی ہوتی تو میں بلے باز کے بارے میں مزید کچھ سیکھ رہا ہوتا تھا کہ اگلی بار میں اس کی وکٹ کیسے لوں گا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہندوستان کے خلاف ٹیسٹ میچ کے وقت ہندوستان کی بیٹنگ لائن اپ بڑی تھی، شعیب اختر ڈریسنگ روم میں پریشان تھا کہ ان کو آؤٹ کیسے کریں لیکن میں نے اپنی بولنگ سے آؤٹ کر کے دکھایا۔

انہوں نے کہا کہ کینڈی ٹیسٹ میں عمر گل اور راؤ افتخار میرے پاس آئے کہ تم کس گیند کو سونگ کر رہے ہو جبکہ وکٹ میں ٹرن نہیں، خیر مجھے علم نہیں کہ میں نے سری لنکن ٹیم کو جلد آؤٹ کیا یا انہیں آؤٹ ہونے کی جلدی تھی، میں نے اس میچ میں 11 وکٹیں لی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے کبھی بال کے ساتھ ٹمپرنگ نہیں کی لیکن ایسے بڑے سٹار بالرز ہیں جو گیند کے پرانے ہونے کا انتظار کرتے ہیں تا کہ انہیں سونگ کرنے میں مدد ملے لیکن میں ہمشہ نئی گیند کے ساتھ سونگ کرتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اوول ٹیسٹ میں پاکستان پر گیںد ٹمپرنگ کا الزام لگا تھا لیکن میں نے ہمیشہ نئی گیند کے ساتھ کیون پیٹرسن کو آؤٹ کیا شاید یہی وجہ ہے کہ وہ مجھے ہر چوتھے دن یاد کرتا ہے۔

کوچنگ کے متعلق کیا ارادہ ہے؟

محمد آصف سے سوال کیا گیا کہ کیا ان کا کوچنگ کے میدان میں جانے کا ارادہ ہے کیونکہ بہت سے نئے لوگ ان کے تجربے سے سیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میں اس وقت امریکہ میں نیو جرسی اور واشنگٹن ڈی سی کے کلبوں میں کوچنگ کر رہا ہوں، یہاں کرکٹ اکیڈمیاں ہیں جہاں میں لیگ میچ بھی کھیلتا ہوں، ہندوستان اور پاکستان کے نوجوان جو اپنے ملک سے دور ہیں ان کو کرکٹ سکھانے کا کام کر رہا ہوں۔

محمد آصف نے کہا کہ میں پاکستان جا کر بھی کام کر سکتا ہوں لیکن وہاں پر 90 کی دہائی کے کرکٹرز نے سسٹم خراب کیا ہے لہذا ابھی میرے لیے کوئی موقع موجود نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا پاکستان میں کرکٹ اکیڈمی قائم کرنے کا ارادہ ہے تاکہ نوجوانوں کو اپنا تجربہ منتقل کر سکیں، لیکن اس وقت کورونا کی وجہ سے پاکستان جانا ممکن نہیں۔

Tags: شعیب اخترمحمد آصفمحمد عامروسیم اکرم
sohail

sohail

Next Post

ملکی جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 3 فیصد تک گرنے کا امکان

سعودی عرب میں پرائیویٹ کمپنیوں کو تنخواہوں میں 40 فیصد تک کٹوتی کی اجازت دینے کا فیصلہ

وزیراعظم 'ارطغرل' کے بعد کونسے ترکی ڈرامے کو پاکستان میں نشر کرنے کے خواہشمند ہیں؟

دنیا کے 11 ممالک جو ابھی تک کورونا وائرس سے محفوظ ہیں

18 ویں آئینی ترمیم میں تبدیلی کس کی خواہش پر ہو رہی ہے؟ حامد خان نے بھانڈا پھوڑ دیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In