گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے کہا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن 60 دن برقرار رہا تو پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 2 سے منفی 3 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
کورونا وبا کے معیشت سے متعلق منعقدہ اجلاس میں انہوں نے رواں برس کی چوتھی سہ ماہی اور مالی سال 2021 کیلئے اپنے تخمینے شیئر کیئے۔ اس اجلاس کی صدارت وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ اور ریونیو حفیظ شیخ نے کی۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ کھپت میں 25 سے 30 فیصد اور تجارتی سرگرمیوں میں 50 فیصد تک کی کمی واقع ہوئی ہے۔ پاکستان بزنس کونسل کے مطابق پیداوار میں 40 سے 50 فیصد کمی ہوئی ہے۔ تاہم صنعت میں منفی گروتھ اور سروسز میں خاموش گروتھ کے باوجود بھی جی ڈی پی پر اس کے حقیقی اثرات کا انحصار لاک ڈاؤن کی طوالت پر منحصر ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مندرجہ ذیل تخمینے لگائے گئے ہیں۔ اگر لاک ڈاؤن 30 دن تک جاری رہتا ہے تو جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 0.5 فیصد سے منفی 1.5 فیصد رہنے کا امکان ہے اور 60 دن کے لاک ڈاون کی صورت میں یہ مزید کم ہو کر منفی 2 فیصد سے منفی 3 فیصد ہو جائے گی۔
سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی اور ترقی نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ صرف دو سہ ماہی کے اعدادوشمار کی دستیابی کی وجہ سے مالی سال 2020 کی جی ڈی پی کی شرح نمو سخت لاک ڈاؤن اور جزوی لاک ڈاؤن کے دو مختلف مفروضوں پر مبنی ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ مالی سال 2020 میں حقیقی شرح نمو 1.5 سے 1.8 کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی ریفارمز اور کفایت شعاری نے اقتصادی سرگرمیوں میں 40 سے 50 فیصد کمی کے مفروضے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ فوڈ انڈسٹری، فارماسیوٹیکل انڈسٹری، کھاد کی صنعت اور ٹیکسٹائل کی صنعت کا کچھ حصہ ابھی بھی کام کر رہا ہے۔
انھوں نے مزید معقول اور ثبوتوں پر مبنی تخمینہ لگانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدرازاق داؤد نے چوتھی سہ ماہی میں برآمدات کی شرح کم رہنے کی طرف اشارہ کیا، تاہم اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ برآمدات کا حجم 22.5 ارب ڈالر سے 23.5 ارب ڈالر کے درمیان رہے گا، درآمدات 40 ارب ڈالر سے 44 ارب ڈالر کے درمیان جبکہ ترسیلات زر 20 ارب ڈالر سے 21 ارب ڈالر رہیں گی اور اس طرح کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 4 ارب ڈالر رہے گا۔
تمام بیرونی اعشاریے آئی ایم ایف کے جانب سے کی گئی پیشینگوئی سے کم رہنے کی توقع ہے۔ سیکرٹری فنانس کامران بلوچ نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ابتدائی تخمینہ کے مطابق کورونا وائرس کے باعث محصولات کی وصولی 4.8 کھرب روپے سے کم ہو کر3.9 کھرب روپے ہو جائے گی۔ تاہم نان ٹیکس ریونیو میں 1.2 سے 1.5 کھرب روپے اضافے کا امکان ہے۔
وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے خیال ظاہر کیا کہ رواں برس 2020 میں جی ڈی پی کی حقیقی شرح نمو کا اندازہ لگانے کے لیے ہر دو ہفتے بعد اجلاس بلایا جائے جس میں تمام متعلقہ وازرتوں سے فریکوینسی ڈیٹا حاصل کیا جائے۔