مدھو بالا جسے بے بی ممتاز، مدھو اور بالی وڈ کی مارلین منرو بھی کہا جاتا ہے، جوانی میں سانحہ کا شکار ہونے سے قبل ایک ایسی طلسماتی خوبصورت لڑکی تھی کہ جب پردہ سکرین پر آتیں تو لاکھوں دیوانے دل تھامے بیٹھے رہتے۔ انہوں نے اپنے فلمی کیرئر کا آغاز بچپن سے کیا لیکن 36 سال کی عمر میں وہ اپنے لاکھوں مداحوں کو افسردہ چھوڑ کر اس دنیا سے چلی گئیں۔
ان کی موت انڈین سینما انڈسٹری کے بڑے سانحات میں سے گنی جاتی ہے۔
عرفان خان کی اہلیہ کے اپنے مرحوم شوہر کے لیے دل کو چھو لینے والے الفاظ
جب عرفان خان کو اداکاری سکھانے والے اسکول میں داخلہ ملا اور جے پور جلنے سے بچ گیا
مدھوبالا کی ہمشیرہ مدھور بھوشن نے اپنی بہن کی زندگی کے آخری دنوں کی دل دہلا دینے والی تفصیلات ٹویٹر پر شیئر کی ہیں، انہوں نے بتایا کہ مدھو بالا 1954ء میں مدراس میں فلم چالاک کی شوٹنگ میں مصروف تھیں تو انہیں دل میں سوراخ کی بیماری کا انکشاف ہوا اور اس کے بعد ان کی باقی زندگی اس بیماری سے لڑنے کی جدوجہد میں گزر گئی۔
مدھور لکھتی ہیں کہ مدھو کو جب خون کی قے ہوئی تو انہیں تین ماہ کے لیے بستر پر آرام کا مشورہ دیا گیا لیکن اس دوران انہوں نے کام جاری رکھا کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ اس سے ان کی فلموں کی شوٹنگ متاثرہوگی
وہ بتاتی ہیں کہ مغل اعظم کی شوٹنگ کے دوران وہ زنجیروں سے جکڑی ہوتیں اور انہی کے ساتھ ہی انہیں چلنا پڑتا، اسی دباؤ کے باعث آخری دن ان کے ہاتھ نیلے پڑ گئے۔
جب پیار کیا تو ڈرنا کیا: یوٹیوب لنک
انہوں نے بتایا کہ وہ خوراک کھانے سے بھی انکار کر دیتی تھیں اور کہتی تھیں کہ انہیں جیل کے سین میں کمزور اور تھکی ہوئی نظر آنا چاہیے۔
مدھوبالا کی بہن نے مزید لکھا کہ ان کے اور بھائی جان (دلیپ کمار) کے درمیان پروں والا سین، جو ہندی سینما کا سب سے زیادہ رومانوی سین سمجھا جاتا ہے، ان دونوں کی علیحدگی کے بعد فلمایا گیا۔
بیماری کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیماری کے باعث ان کا جسم اضافی خون پیدا کرنے لگا جو ان کے ناک اور منہ سے بہنے لگتا تھا۔ ڈاکٹر گھر آتے تھے اور خون کی بوتلیں نکال لیتے تھے۔ انہیں پھیپھڑوں میں دباؤ کی بیماری بھی لاحق تھی، وہ ہر وقت کھانستی رہتی تھیں۔ ہر چار سے پانچ گھنٹے بعد انہیں آکسیجن دینا پڑتی تھی ورنہ وہ ہانپنے لگتی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مدھوبالا 9 برس تک ایک بستر تک محدود رہیں اور ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گئیں۔ وہ مسلسل روتی رہتی تھیں اور کہتی تھیں کہ مجھے زندہ رہنا ہے، مجھے مرنا نہیں ہے۔
اپنے آخری دنوں میں انہیں خسرہ ہو گیا اور ڈاکٹروں نے باقی افراد کو ان سے دور رہنے کا کہہ دیا۔ لیکن جب ڈاکٹر نے کہا کہ ان کی حالت بہت خراب ہے تو میں انہیں دیکھنے کے لیے بھاگی لیکن اس وقت تک وہ جان، جان آفرین کے سپرد کر چکی تھیں۔
یہ 23 فروری 1969 کا دن تھا، ان کی عمر اس وقت صرف 36 برس تھی۔ اگرچہ بھائی جان (دلیپ کمار) ان کی بیماری کے دوران انہیں دیکھنے کبھی نہیں آئے تاہم موت کے بعد وہ آ گئے۔