نئی سائنسی تحقیق نے موت کے بعد زندہ ہونیوالے جینز کے بارے میں حیرت انگیز انکشاف کیا ہے جس کے بعد موت سے متعلق نئے حقائق سامنے آئے ہیں۔
یہ حیرت انگیز بات سامنے آئی ہے کہ مر جانے کے بعد پورا جسم نہیں مرتا بلکہ جسم کے کچھ حصے مرنے کے بعد سرگرم ہوجاتے ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق ہمارے جسم میں ایسے ہزاروں خوابیدہ جینز ہوتے ہیں جو مرنے کے بعد زندہ ہوجاتے ہیں۔
چین کے 21 سالہ کورونا مریض ٹائیگر یی کی کہانی، جسے زندگی موت سے واپس چھین لائی
اکٹھے آئے ہیں، اکٹھے جائیں گے، کورونا سے مرنیوالی جڑواں بہنوں کی کہانی
یونیورسٹی آف الباما کے ایک سابق پروفیسر پیٹر نوبل نے جانداروں کے مرنے کے بعد ان پر تحقیق کی تو یہ دریافت ہوا کہ موت کے بعد ان کے کئی جینز حرکت میں آ جاتے ہیں۔ یہ جینز جاندار کی موت کے کئی گھنٹوں یا دنوں بعد تک زندہ ہو سکتے ہیں۔
چوہوں اور مچھلیوں کے مرجانے کے بعد کی گئی تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مرنے کے کئی گھنٹوں یا دنوں بعد کئی جینز زندہ ہو جاتے ہیں۔
جانداروں میں موت کے بعد زندہ ہونیوالے جینز دریافت ہوئے تو سائنسدانوں نے پہلے پہل اسے اپنے آلات کی غلطی کا نتیجہ سمجھا اور اسے ناممکن بات تصور کیا مگر جب انہوں نے اس پر مزید تجربات کئے تو نتائج ایک جیسے آئے اور موت کے بعد زندہ ہونیوالے جینز پائے گئے۔
چوہوں اور مچھلیوں میں مرنے کے بعد زندہ ہوجانیوالے جینز کی دریافت کے بعد بارسلونا کے ”سینٹر فار جینومک ریگولیشن“ میں سائنسدانوں کی جانب سے لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تو اس بات کے شواہد ملے کہ دیگر جانداروں کی طرح انسانوں میں بھی مرنے کے بعد چند جینز زندہ ہوجاتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرنے کے بعد زندگی پانیوالے جینز کی دریافت میڈیکل سائنس کیلئے نئے در کھول سکتی ہے، دوسری طرف وہ حیران ہیں کہ آخر یہ جینز مرنے کے بعد ہی کیوں زندہ ہوتے ہیں۔
جینز کیمیائی ہدایات پر مشتمل ایک سیٹ ہوتا ہے جو ڈی این اے سے مل کربنتا ہے۔ جینز کا کام جاندار کے جسم کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ کونسا کام کیسے سرانجام دینا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرنے کے بعد سرگرم ہونیوالے جینز میں کینسر جینز بھی شامل ہیں جو شاید اس لیے زندہ ہوتے ہیں کہ انکو روکنے والے جینز مر چکے ہوتے ہیں۔