ابھی یہ بتانا قبل از وقت ہے کہ بین الاقوامی فضائی سفر کب شروع ہو گا، ارجنٹائن نے پروازوں پر پابندی میں ستمبر تک توسیع کر دی ہے جبکہ برطانوی وزیر کا کہنا ہے کہ ابھی فوری طور پر گرمیوں کی چھٹیوں کی بکنگ کا کوئی امکان نہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ جب بین الاقوامی پروازیں شروع ہوں گی تو ان کی کیا صورت ہو گی؟ چند باتیں جن کی توقع کی جا سکتی ہے وہ یہ ہیں۔
ایئرپورٹ پر
کئی ایئرپورٹس پر اس وقت بھی حکومتوں کے طے کیے ہوئے رہنما اصولوں پرعمل ہو رہا ہے، ان میں آپس میں ایک سے دو میٹر کا لازمی فاصلہ، ہینڈ سینیٹائزرز کی موجودگی اور مسافروں کو ٹرمینلز پر برابر پھیلا دینا شامل ہیں۔
امریکہ میں ٹرانسپورٹ سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن نے کہا ہے کہ مسافر سکریننگ سے قبل اور بعد میں 20 سیکنڈز کے لیے ہاتھ لازمی دھوئیں، ہانگ کانگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک جراثیم کش آلہ کے ذریعے پورے جسم کا ٹیسٹ شروع ہو گیا ہے۔
ایئرپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ آلہ سپرے کے ذریعے 40 سیکنڈز میں پورے جسم اور کپڑوں سے بیکٹیریا اور وائرس ختم کر دیتا ہے۔
انتظامیہ اب ایسے روبوٹس کا تجربہ کر رہی ہے جو الٹراوائلٹ شعاعوں کے ذریعے ایئرپورٹ پر وائرس اور جرثوموں کو ختم کرتا پھرے گا۔
زیادہ تر ایئرپورٹس اب ایسے پوسٹرز سے سجے ہوں گے جن میں پوری عمارت کے حوالے سے ہدایات لکھی ہوں گی۔
انٹریپڈ ٹریول گروپ کے چیف ایگزیکٹو جیمز تھارنٹن کا کہنا ہے کہ آئندہ ایئرپورٹس پر مسافروں کا زیادہ وقت صرف ہوا کرے گا۔
انہوں نے کہا ہے کہ جس طرح مشین سے گزرنے سے قبل مائع مواد اور مختلف آلہ جات کو نکال کر رکھ دینا ایک معمول بن چکا ہے، یہی معاملہ سماجی فاصلے کی ہدایات کے ساتھ ہو گا، ہو سکتا ہے کہ امیونٹی پاسپورٹ بھی جلد متعارف ہو جائے۔
سال رواں کے آغاز میں کئی ایئرپورٹس پر وائرس کو دوسرے ممالک میں پھیلنے سے روکنے کے لیے حرارت پیما سکریننگ شروع کر دی گئی تھی تاہم اس حوالے سے ماہرین کی آرا میں اختلاف ہے کیونکہ بہت سے کورونا کے مریضوں میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔
بی بی سی کے مطابق کچھ ایئرپورٹس ایک قدم آگے بھی جا چکے ہیں، ایمریٹس نے دبئی ایئرپورٹ ٹرمینل پر مسافروں کو خون کے فوری ٹیسٹ کی سہولت دے دی ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیسٹ صرف 10 منٹ میں نتائج دیتا ہے۔
جہاز پر
جہاز پر فلائٹ اٹنڈنٹس کی معمول کی مسکراہٹ صرف تخیل میں دیکھی جا سکے گی کیونکہ انہوں نے چہرے پر ماسک پہنے ہوں گے، ہو سکتا ہے کہ آپ بے خیالی میں جواباً مسکرا دیں لیکن وہ بھی کسی کو نظر نہیں آئے گی کیونکہ آپ نے بھی ماسک پہنا ہو گا۔
تاہم آپ کے دل کو اطمینان ہو گا کیونکہ بڑی ایئرلائنز نے آپ کی ٹرے، سیٹ ریسٹ اور حفاظتی بیلٹ کو پوری طرح جراثیموں سے پاک کیا ہو گا۔
اگر آپ کورین ایئر پر سفر کریں اور تمام عملے کو حفاظتی لباس، دستانے اور آنکھوں پر ماسک پہنے دیکھیں تو پریشان نہ ہوں کیونکہ اس ایئرلائن نے پہلے ہی ان امور کا اعلان کر دیا ہے۔
زیادہ تر ایئر لائنز نے بتا دیا ہے کہ وہ فلائٹس کی مکمل بکنگ نہیں کریں گی اور درمیانی سیٹ خالی رکھا کریں گی، یوں آپ کو آرم ریسٹ بھی کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرنا پڑے گا۔
ایک ایئرلائن کے پائلٹ کا کہنا ہے کہ جہاز کے اندر سماجی فاصلہ قائم رکھنا بہت مہنگا ہو گا کیونکہ مسافروں کی تعداد میں ایک تہائی کا مطلب ہے کہ یا تو ایئرلائن خسارہ برداشت کرے گی یا پھر وہ دور واپس آ جائے گا جب پیرس سے نائس کا ریٹرن ٹکٹ آج کے حساب سے ایک ہزار 245 ڈالرز کا ہوتا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ جن ممالک کا سیاحت پر بہت زیادہ انحصار ہے وہ پہلے ہی آپریٹرز کے ساتھ رابطے کر رہے ہیں۔
منزل پر
مستقبل میں اٹلی کے ساحل پر چھٹیاں گزارنے والے شفاف پلاسٹک میں لپٹے نظر آئیں گے۔
اس وقت ریستوران میزوں کے درمیان فاصلہ بڑھا رہے ہیں، ایک پرتگیزی ہوٹلز کی ایک چین، ویلا گیل، کا کہنا ہے کہ وہ ہینڈ سینیٹائزرز کا استعمال اور بوفے کی جگہ الگ انفرادی خوراک کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔
ایتھنز کے پروفیسر آف میڈیسن نکولاؤس سپساس کا کہنا ہے کہ پولز، بارز اور ساحلوں پر بوفے کا نظام ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔
دوسرے یورپین ممالک ٹورسٹ کوریڈور کے آئیڈیا پر بحث کر رہے ہیں جس کا مطلب ایسے علاقوں اور رکن ریاستوں کو آپس میں ملانا ہے جو کورونا وبا سے بہت کم متاثر ہوئے ہیں۔
کیا مستقبل میں فضائی سفر ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو جائے گا؟
یہ تمام منظرنامہ ذہن میں رکھتے ہوئے اس بات کا امکان ہے کہ لوگوں کو دوسرے ممالک میں چھٹیاں گزارنے کا تصور زیادہ پرکشش محسوس نہیں ہو گا، یہ ایک حقیقت ہے کہ مستقبل میں زیادہ تر چھٹیاں گھروں میں گزارنے کا امکان زیادہ ہے۔
برطانیہ کی ٹور آپریٹر کمپنی فریش آئی کے مالک اینڈی ردرفورڈ کا کہنا ہے کہ لوگ اب بین الاقوامی سفر کم کیا کریں گے اور یہ ایک معمول بن جائے گا۔
عالمی وبا کے دوران شپ کروز، سکائی ہالیڈیز اور طویل پروازیں کشش کھو سکتی ہیں، خصوصاً اس وقت جب توجہ سبز ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی طرف ہو جائے گی۔
مسقبل میں فضائی سفر کرنے والوں کے لئے اینٹی کورونا ویکسین کا کورس کرنا اور ہسپتال کا تصدیقی کارڈ بھی ضروری ہو گا جس طرح ابھی بھی افریقہ کے ملکوں میں جانے سے قبل ییلو فیور کے انجکشن لگوا کر تصدیقی کارڈ پاسپورٹ کے ہمراہ ضروری ہے