دنیا میں ایسا شاذو نادر ہی ہوتا ہے کہ ملک کا سربراہ ہلکی پھلکی غذا کے لیے کسی کیفے پر رکے تاہم اس سے بھی حیران کن اور غیر معمولی بات یہ ہے کہ اسے کیفے میں داخل ہونے سے روک دیا جائے یا وہاں سے واپس بھیج دیا جائے۔
لیکن اس طرح کا واقعہ نیوزی لینڈ کے شہر ولنگٹن میں پیش آیا جب ہفتے کے دن نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈن ایک مشہور کیفے سے کچھ کھانے کے لیے رکیں تو سماجی دوری کے قانون پر عمل کرتے ہوئے انھیں کیفے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا کیونکہ کورونا وائرس کے باعث اقدامات اور قواعد کی پاسداری کرتے ہوئے کیفے میں پہلے سے ہی گنجائش کے مطابق لوگ موجود تھے۔
چین اور جنوبی کوریا کے بعد نیوزی لینڈ نے بھی کورونا کے خاتمے کا اعلان کر دیا
نیوزی لینڈ نے کن تین باتوں پر عمل کر کے کورونا کے خلاف فتح حاصل کی؟
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جوائے نامی شخص نے لکھا کہ ‘او مائی گاڈ جسینڈا آرڈن نے کیفے اولیو میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن انھیں روک دیا گیا کیونکہ کیفے پہلے سے ہی بھرا ہوا تھا۔’
اس شخص کے ٹویٹ کے ساتھ ایک ناخوشگوار ایموجی بھی تھا جو اس کی حیرت کو ظاہر کر رہا تھا کہ بھلا کیسے ملکی سربراہ کے لیے جگہ نہیں بنائی گئی۔
اس ریسٹورنٹ کو زیادہ سے زیادہ 100 افراد کے لیے محدود کر دیا گیا ہے اور وہاں پر بیٹھے ہوئے گروپس کے درمیان کم ازکم ایک میٹر کا فاصلہ رکھا گیا ہے۔
وزیراعظم کے بوائے فرینڈ کلارک گے فورڈ نے کچھ گھنٹوں کے بعد اس کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے الزام اپنے سر لیا اور اعتراف کیا کہ وہ اس دن ان کے لیے مختصر پریشانی کا باعث بنے۔
انھوں نے مزید لکھا کہ مجھے اس واقعے کی ذمےداری لینا ہو گی، میں منظم نہیں تھا کیونکہ میں نے پہلے سے کہیں بکنگ نہیں کرائی تھی۔ یہ ان کی اچھائی تھی کہ جیسے ہی انھیں موقع ملا تو وہ سیڑھیوں تک ہمارا پیچھا کرتے ہوئے آئے اور ان کی سروس بہت اعلیٰ تھی۔
وزیراعظم آفس کے ترجمان نے کہا کہ کیفے میں انتظار ایسا ہی تھا جیسے نیوزی لینڈ میں کورونا کے باعث لگی پابندیوں کے دوران کوئی بھی اس طرح کے تجربے سے گزر سکتا ہے۔ وزیر اعظم جسینڈا کا کہنا تھا کہ دوسرے لوگوں کی طرح انھوں نے بھی صرف انتظار کیا۔
اپنا نام بتائے بغیر ریسٹورانٹ کے مالک نے نیوزی لینڈ ہیرالڈ کو بتایا کہ گزشتہ دو ماہ کے ڈرامے اور تناؤ کے بعد وہ اس طرح کے ہلکی پھلکی اور دل کو چھو لینے والے واقعے پر بات کر کے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔
انھوں نے تصدیق کی کہ جسینڈا اور کلارک کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی گئی، مینیجر نے پہلے انھیں واپس بھیج دیا تھا تاہم اس دوران ٹیبل خالی ہونے پر وہ ان کے پیچھے سیڑھیوں تک بھاگ کر گئے جس پر ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ آداب ہیں جو کہ دوسرے صارفین کو بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم اور ان کے ساتھی نے زبردست برنچ لیا اور آدھے گھنٹے بعد چلے گئے، وہ ریسٹورنٹ اسٹاف سے خوش تھیں اور ان کے ساتھ ایک عام صارف جیسا سلوک کیا گیا۔
گارڈین میں شائع خبر کے مطابق جیسنڈا اور کلارک کے ہمراہ ان کی 23 ماہ کی کمسن بیٹی نییو نہیں تھی اور جوڑے کا یہ برنچ ڈیٹ کا حصہ تھا۔