ایک طبی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اونٹ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے جانور لاما کے خون میں موجود اینٹی باڈیز کورونا وائرس کے خلاف مضبوط دفاع ثابت ہو سکتی ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہماری طرح لاما کے جسم میں بھی بڑی اینٹی باڈیز ہوتی ہیں لیکن ساتھ ساتھ ان میں اسقدر چھوٹی اینٹی باڈیز بھی ہیں جو وائرس کی پروٹین کے درمیان سے گزر جاتی ہیں اور یوں کورونا کے خلاف انسان میں قوت مدافعت پیدا کر سکتی ہیں۔
اس تحقیق کے مطابق اس بات کا امکان موجود ہے کہ جو لوگ کورونا کا شکار نہیں ہوئے انہیں لاما کے اینٹی باڈیز کے ذریعے آئندہ کے لیے اس وائرس سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے، لاما کو ونٹر بھی کہا جاتا ہے۔
امریکی کمپنی کا کورونا کا سو فیصد یقینی علاج دریافت کرنے کا دعویٰ
امریکہ میں پلڈ پلازمہ سے کورونا کے ہزاروں مریضوں کی جان بچ گئی
یہ تحقیق بلجیم میں موجود ایک چار سالہ مادہ لاما پر کی گئی ہے جس کی اینٹی باڈیز کے پہلے ہی سارس اور مرس جیسے وائرس کے خلاف کام کرنے کے شواہد موجود ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ وہ کورونا کے خلاف بھی اسی طرح دفاع کر سکیں گی۔
ڈاکٹر زیوئیر سائلنس کے مطابق اگر ایسا ہو گیا تو ونٹر ایک مجسمے کا حقدار بن جاتا ہے۔
لاما کے متعلق علم رکھنے والوں کے لیے یہ بڑی خبر نہیں ہو گی کیونکہ ایک طویل عرصے سے یہ جانور بیماریوں سے نجات دلانے کے لیے جانا جاتا ہے اور اس کی اینٹی باڈیز کئی برسوں سے مختلف امراض کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ لاما کے قریب جانے سے پریشانیوں سے نجات اور سکون ملتا ہے، لاما کی پرورش کرنے والے کیلیفورنیا کے جارج کالڈویل کے مطابق انسان اور لاما ایک دوسرے کے فطری اتحادی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ لاما میں یہ حیرت انگیز صلاحیت ہے کہ جو انسان اس کے قریب جاتا ہے وہ پوری طرح تروتازہ ہو جاتا ہے۔