• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
ہفتہ, اپریل 18, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home پاکستان

کھاد انڈسٹری کا کسانوں کے لیے منظورکی جانے والی سبسڈی پر اجلاس بلانے کا مطالبہ

by sohail
مئی 17, 2020
in پاکستان, تازہ ترین, معیشت
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کھاد انڈسٹری نے حال ہی میں کسانوں کیلئے  منظور کی گئی سبسڈی جاری کرنے پر مشاورت کے لیے وزارت صنعت و پیداوار سے اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سیکرٹری صنعت و پیداوار کو لکھے گئے ایک خط میں فرٹیلائزر مینوفیکچررز آف پاکستان ایڈوائزری کونسل(FMPAC)  نے حکومت کی جانب سے کسانوں کو دیئے گئے زرعی پیکیج کی منظوری کو سراہا ہے جس میں کھادوں کی مد میں 37 ارب روپے کی سبسڈی شامل ہے۔

 کھاد انڈسٹری نے موقف اپنایا ہے کہ اس اسکیم پر عملدرآمد کو آسان بنانے اور کسانوں کو مطلوبہ فوائد پہنچانے کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے کھاد انڈسٹری کے نمائندوں کا جلد ازجلد ایک اجلاس  بلایا جائے تاکہ اس پر مشاورت کی جاسکے ۔

ایف ایم پی اے سی نے وزارت کو غور  کرنے کے لیے درج ذیل نکات پیش کیے ہیں۔

 سب سے پہلے یہ کہ سبسڈی اسکیم پر فوری عمل درآمد ہونا چاہیے کیونکہ کاشتکاروں اور ڈیلروں نے قیمتوں میں کمی کی توقعات کے باعث خریداری بند کر دی ہے جس سے اس وقت فصل کیلئے ضروری کھاد کے استعمال پر منفی اثر پڑے گا۔

دوسرے اگر اس اسکیم پر عملدرآمد صوبوں کے ذریعے ہونا ہے تو وفاقی سطح پر ایک معیاری اسکریچ کارڈ کی تیاری کی ضرورت ہے کیونکہ مینوفیکچررز صوبائی سطح پر مصنوعات کی فہرست سازی، تھیلوں کی تیاری اور شپنگ کو یقینی بنانے کے قابل نہیں ہونگے جو کسانوں کے لئے عدم اطمینان کا باعث بن سکتا ہے۔

تیسری بات انہوں نے یہ کی ہے کہ کھادوں کے متوازن استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کھاد کی تمام رجسٹرڈ مصنوعات کو نوٹیفکیشن میں شامل کرنا لازمی ہے جبکہ رکن کمپنیوں کی رجسٹرڈ شدہ مصنوعات میں نائٹروجنس میں (یوریا، سی اے این، اے ایس) فاسفیٹک ( ڈی اے پی، این پی، ٹی ایس پی، ایس ایس پی، این پی کے) اور پوٹاش (ایم سی پی، ایس او پی، ایم او پی) شامل ہیں۔

بزنس ریکارڈر میں شائع خبر کے مطابق کھاد انڈسٹری نے یہ بھی تجویز پیش کی ہے کہ گودام یا چینل انونٹری پر سبسڈی کی فراہمی کے لیے اسٹیکرز ، کمپنیوں کی فیزیکل انونٹری کی بنیاد پر  جاری کئے جائیں۔ اسکے علاوہ حکومت کو اس اسکیم کے طریقہ کار سے متعلق آگاہی پیدا کرنے میں بھرپور سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔

ایف ایم اے سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر برگیڈیئر ریٹائرڈ شیر شاہ ملک نے حکومت کو 2016, 2017 اور 2018 کی اسکیم کے تحت فرٹیلائزر انڈسٹری کو 19.2 ارب روپے کی سبسڈی دینے پر بھی زور دیا۔

واضح رہے کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے  بدھ کو ہونے والے اجلاس میں وزارت فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی جانب سے پیش کی گئی تجویز پر زراعت کیلئے  50 ارب روپے کے پیکیج کی منظوری دی گئی تھی ۔ جس میں سے وزارت خوراک نے کسانوں کو کھاد کی خریداری کی مد میں 37 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی سفارش کی تھی۔

sohail

sohail

Next Post

بھارتی کرکٹر یوراج سنگھ شاہد آفرید ی پر سیخ پا، ہربھجن سنگھ کا تعلق ختم کرنے کا اعلان

امریکی کمپنی اکتوبر میں کورونا ویکسین کی لاکھوں خوراکیں مہیا کرنے کے لیے پرامید

دوسروں کو جج کرنے کا شوق

شوگر انکوائری کمیشن کو تحقیقات مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار، ذرائع کا دعویٰ

سماجی دوری برقرار رکھنے کیلئے جرمن کیفے کا منفرد انداز مقبول ہوگیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In