کھاد انڈسٹری نے حال ہی میں کسانوں کیلئے منظور کی گئی سبسڈی جاری کرنے پر مشاورت کے لیے وزارت صنعت و پیداوار سے اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سیکرٹری صنعت و پیداوار کو لکھے گئے ایک خط میں فرٹیلائزر مینوفیکچررز آف پاکستان ایڈوائزری کونسل(FMPAC) نے حکومت کی جانب سے کسانوں کو دیئے گئے زرعی پیکیج کی منظوری کو سراہا ہے جس میں کھادوں کی مد میں 37 ارب روپے کی سبسڈی شامل ہے۔
کھاد انڈسٹری نے موقف اپنایا ہے کہ اس اسکیم پر عملدرآمد کو آسان بنانے اور کسانوں کو مطلوبہ فوائد پہنچانے کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے کھاد انڈسٹری کے نمائندوں کا جلد ازجلد ایک اجلاس بلایا جائے تاکہ اس پر مشاورت کی جاسکے ۔
ایف ایم پی اے سی نے وزارت کو غور کرنے کے لیے درج ذیل نکات پیش کیے ہیں۔
سب سے پہلے یہ کہ سبسڈی اسکیم پر فوری عمل درآمد ہونا چاہیے کیونکہ کاشتکاروں اور ڈیلروں نے قیمتوں میں کمی کی توقعات کے باعث خریداری بند کر دی ہے جس سے اس وقت فصل کیلئے ضروری کھاد کے استعمال پر منفی اثر پڑے گا۔
دوسرے اگر اس اسکیم پر عملدرآمد صوبوں کے ذریعے ہونا ہے تو وفاقی سطح پر ایک معیاری اسکریچ کارڈ کی تیاری کی ضرورت ہے کیونکہ مینوفیکچررز صوبائی سطح پر مصنوعات کی فہرست سازی، تھیلوں کی تیاری اور شپنگ کو یقینی بنانے کے قابل نہیں ہونگے جو کسانوں کے لئے عدم اطمینان کا باعث بن سکتا ہے۔
تیسری بات انہوں نے یہ کی ہے کہ کھادوں کے متوازن استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کھاد کی تمام رجسٹرڈ مصنوعات کو نوٹیفکیشن میں شامل کرنا لازمی ہے جبکہ رکن کمپنیوں کی رجسٹرڈ شدہ مصنوعات میں نائٹروجنس میں (یوریا، سی اے این، اے ایس) فاسفیٹک ( ڈی اے پی، این پی، ٹی ایس پی، ایس ایس پی، این پی کے) اور پوٹاش (ایم سی پی، ایس او پی، ایم او پی) شامل ہیں۔
بزنس ریکارڈر میں شائع خبر کے مطابق کھاد انڈسٹری نے یہ بھی تجویز پیش کی ہے کہ گودام یا چینل انونٹری پر سبسڈی کی فراہمی کے لیے اسٹیکرز ، کمپنیوں کی فیزیکل انونٹری کی بنیاد پر جاری کئے جائیں۔ اسکے علاوہ حکومت کو اس اسکیم کے طریقہ کار سے متعلق آگاہی پیدا کرنے میں بھرپور سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔
ایف ایم اے سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر برگیڈیئر ریٹائرڈ شیر شاہ ملک نے حکومت کو 2016, 2017 اور 2018 کی اسکیم کے تحت فرٹیلائزر انڈسٹری کو 19.2 ارب روپے کی سبسڈی دینے پر بھی زور دیا۔
واضح رہے کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے بدھ کو ہونے والے اجلاس میں وزارت فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی جانب سے پیش کی گئی تجویز پر زراعت کیلئے 50 ارب روپے کے پیکیج کی منظوری دی گئی تھی ۔ جس میں سے وزارت خوراک نے کسانوں کو کھاد کی خریداری کی مد میں 37 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی سفارش کی تھی۔