شوگر انکوائری کمیشن اب تک حاصل ہونے والی دستاویزات اور ڈیٹا کے تجزیے کا کام مکمل کرنے کے لیے مزید وقت مانگنے جا رہا ہے۔
28 اپریل کو وفاقی کابینہ نے انکوائری کمیشن کو تحقیقات کے لیے تین ہفتوں کی توسیع دی تھی، اب کمیشن کو کام مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
بزنس ریکارڈر میں شائع ہونے والی مشتاق گھمن کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات عید کے بعد مکمل ہو سکیں گی، وزارت داخلہ منگل کے روز تحقیقات پر ہونے والی پیش رفت سے وفاقی کابینہ کو آگاہ کرے گی اور عید کے بعد تک کا مزید وقت مانگے گی۔
شوگر ملز کی جانب سے گنے کے کاشتکاروں کو لوٹنے کا انکشاف
حکومت کا آئی پی پیز کے متعلق انکوائری کمیشن کو سرد خانے میں ڈالنے کا فیصلہ
حال ہی میں انکوائری کمیشن نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وفاقی وزیربرائے منصوبہ بندی اسد عمر اور وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کو طلب کر کے ان سے سوالات پوچھے تھے۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیرتجارت انجنیئر غلام دستگیر خان بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تھے۔
اسی طرح شوگر ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو بھی کمیشن نے طلب کیا تھا اور ان سے چینی کی قیمتوں اور دیگر متعلقہ معاملات پر سوالات پوچھے تھے۔
بتایا گیا ہے کہ 9 شوگر مل مالکان نے کمیشن کے سامنے خود پیش ہونے کے بجائے اپنے قانونی نمائندے بھیجے تھے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ذاتی طور پر جانے سے ان کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
چینی کے بروکرز اور ڈیلرز بھی انکوائری کمیشن کے سامنے پیش ہو چکے ہیں، ان میں سے کئی اس وقت سرکاری گواہ بن گئے جب مل مالکان نے تمام تر ملبہ ان کے سر ڈالنے کی کوشش کی تھی۔
کمیشن شوگر ملز کے ان ملازمین اور دکانداروں کو بھی طلب کرے گا جن کے نام پر لاکھوں روپے کے سودے کیے گئے تھے۔
باخبر ذرائع کے مطابق شوگر ملز مالکان کا خیال ہے کہ یہ تمام تر مشق جہانگیر ترین کے خلاف کی جا رہی ہے جو اس وقت کسی کے نشانے پر ہیں۔