• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 17, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

سپریم کورٹ نے ملک بھر میں‌ ہفتہ اتوار کاروبار بند رکھنے کا حکومتی حکم کالعدم قرار دیدیا

by sohail
مئی 18, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سپریم کورٹ نے ملک بھر میں ہفتہ اتوار کو کاروبار بند رکھنے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یہ حکم آئین کے آرٹیکل 4, 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے مزید حکم دیا ہے کہ پنجاب میں شاپنگ مال فوری طور پر آج ہی سے کھلیں گی جبکہ سندھ شاپنگ مالز کھولنے کے لیے وزارت صحت سے منظوری لے گا۔

عدالت نے توقع ظاہر کی ہے کہ وزارت صحت کوئی غیر ضروری رکاوٹ پیدا نہیں کرے گی اور کاروبار کھول دے گی۔ عدالت نے تمام مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے اور قرار دیا ہے کہ ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے متعلقہ حکومتیں ذمہ دار ہوں گی جبکہ ایس او پی کی خلاف ورزی کی صورت میں دکان بند نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ بھی غیر مطمئن قرار دے دی۔

عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ کورونا کے حوالے سے کتنے پیسے خرچ کیے گئے اس حوالے سے این ڈی ایم اے حکام اور اٹارنی جنرل کو الگ سے سنا جائیگا۔ عدالت نے مزید قرار دیا ہے کہ بظاہر پاکستان میں کورونا وبا کی صورت میں ظاہر نہیں ہوا اور دیگر ممالک کی نسبت پاکستان اس سے زیادہ متاثر نہیں ہوا اور بظاہر پاکستان میں وبا کی وہ صورتحال نہیں جس پر اس طرح سے پیسہ خرچ کیا جائے۔ پاکستان میں امراض قلب، جگر، گردوں جیسی دیگر بیماریاں بھی ہیں، عدالت توقع کرتی ہے کہ حکومت صرف ایک بیماری پر سارا پیسہ خرچ نہیں کرے گی اور اس طرح تمام اداروں کو مفلوج نہیں کرے گی۔

سماعت کا احوال

پیر کے روز چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کورونا وبا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو چیف جسٹس بے استفسار کیا کہ ہفتہ اور اتوار کو ملک کی تمام چھوٹی مارکیٹیں بند رکھنے کی منطق بتائی جائے، کیا وبا نے حکومتوں سے وعدہ کر رکھا ہے وہ ہفتے اور اتوار کو نہیں آئے گی؟  کیا حکومتیں ہفتہ اتوار کو تھک جاتی ہیں یا کیا ہفتہ اتوار کو سورج مغرب سے نکلتا ہے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تحریری حکم دیں گے ہفتے اور اتوار کو بھی تمام چھوٹی مارکیٹیں کھلی رکھی جائیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے نیشنل کمانڈ اینڈ اوپریشن سینٹر (این سی او سی) کے تحت کیے گئے فیصلوں کی خلاف ورزی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود سے استفسار کیا کہ این سی او سی نے کیا فیصلے لیے تھے؟ جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ این سی او سی نے کنسٹرکشن کا سیکٹر کھولنے کا فیصلہ کیا تھا جو 11 مئی کو کھولا گیا۔

چیف جسٹس نے دوبارہ استفسار کیا کہ دوسرا فیصلہ کیا تھا؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ دوسرا فیصلہ چھوٹی دکانیں اور کمیونٹی مارکیٹ کھولنے کا تھا جبکہ بڑے شاپنگ مال کھولنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ہم نے صرف مالز بند کیے باقی مارکیٹس کھلی ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ مالز کیا ہوتے ہیں اور کمیونٹی مارکیٹ کیا ہے؟ اگر باقی مارکیٹس کھلی ہیں تو باقی شاپنگ مال کیوں بند رکھے ہیں؟ ایس او پی پر مالز میں زیادہ بہتر عملدرآمد ہو سکتا ہے۔

 چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا زینب مارکیٹ، صدر، راجہ بازار، بوہری بازار، انار کلی بازار کمیونٹی مارکیٹ میں آتے ہیں؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ بازار کمیونٹی مارکیٹ میں نہیں آتے۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو بازار کمیونٹی مارکیٹ میں نہیں آتے ان کو کیوں کھولا گیا ہے؟

چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ اور کمشنر کراچی کو ہدایت کہ کہ چھوٹے دکانداروں کو کام کرنے سے نہ روکیں۔ آپ دکانیں بند کریں گے تو دکاندار تو کورونا کے بجائے بھوک سے مر جائے گا۔

 چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کراچی میں پانچ بڑے مال کے علاوہ کیا سب مارکیٹیں کھلی ہیں۔ کمشنر کراچی نے عدالت کو بتایا کہ کچھ مارکیٹس کو ایس او پی پر عمل نہ کرنے پر سیل کیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان کو بھی کھولیں اور انھیں ڈرانے کے بجائے سمجھائیں، مارکیٹس میں چھوٹے طبقے کا کاروبار ہے، عید پر رش بڑھ جاتا ہے، ہفتے اور اتوار کو بھی مارکیٹیں بند نہ کرائی جائیں، آپ نئے کپڑے نہیں پہننا چاہتے لیکن دوسرے لینا چاہتے ہیں، بہت سے گھرانے صرف عید پر ہی نئے کپڑے پہنتے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ سندھ نے موقف اپنایا کہ مارکیٹوں میں رش پڑ جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عید پر خریداری کیلئے رش تو ہو گا، ایسے کئی گھرانے ہیں تو صرف عید پر نئے کپڑے خریدتے ہیں، متعدد گھرانے سال میں میٹھی عید اور بکرا عید پر ایک جوڑا بناتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ بڑے بڑے شاپنگ مالز کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اچھے شاپنگ مالز وہ ہوتے ہیں جہاں بڑے بڑے اے سی لگے ہوتے ہیں، ہمیں پتہ ہے شاپنگ مالز میں تیس فیصد لوگ ونڈو شاپنگ کرتے ہیں، چھوٹی دکانوں کو کھلا رہنے دیں، کراچی کی زینب مارکیٹ کو کھول دیں، یہ غریب پرور مارکیٹ ہے، مارکیٹ والوں سے رشوت نہ لیں انھیں ماریں نہ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پشاور میں کتنے شاپنگ مال ہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ پشاور میں کوئی شاپنگ مال نہیں ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کورونا کے حوالے سے اربوں روپے خرچ ہو چکے ہیں، یہ کہاں جا رہے ہیں؟ این ڈی ایم اے کے نمائندہ نے عدالت کو بتایا کہ  ہمارے لیے 25 ارب مختص ہوئے ہیں تاہم یہ تمام رقم ابھی خرچ نہیں ہوئی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 25 ارب روپے تو آپ کو ملے ہیں، صوبوں کو الگ ملے ہیں، احساس پروگرام کی رقم الگ ہے، 500 ارب روپے کورونا مریضوں پر خرچ ہوں تو ہر مریض کروڑ پتی ہو جائے گا، یہ سارا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟ اتنی رقم لگانے کے بعد بھی اگر 600 لوگ جاں بحق ہو گئے تو ہماری کوششوں کا کیا فائدہ؟ کیا 25 ارب کی رقم سے آپ کثیر منزلہ عمارتیں بنا رہے ہیں؟

این ڈی ایم اے کے نمائندہ نے عدالت کو بتایا کہ یہ رقم ابیی پوری طرح ملی نہیں اور اس میں دیگر اخراجات بھی شامل ہیں۔ عدالت نے این ڈی ایم رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دہے کہ ہمارے ملک کے وسائل بہت غلط طریقے سے استعمال ہو رہے ہیں، ہمارا ملک کورونا ٹیسٹنگ کٹ بنانے کی صلاحیت ابھی تک حاصل کیوں نہیں کر سکا۔

نمائندہ این ڈی ایم اے نے کہا کہ اس کا جواب وزارت صحت زیادہ بہتر طریقے سے دے سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ میں اخراجات کی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے، اس ملک کے عوام صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے غلام نہیں ہیں، آپ قرنطینہ کے نام پر لوگوں کو یرغمال بنا رہے ہیں، عوام کے حقوق کی آئین میں ضمانت دی گئی ہے، آپ کسی پر احسان نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کورونا کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کا بھی اعتراف ہے لیکن محکمہ صحت میں کالی بھیڑیں بھی موجود ہیں، ہسپتال میں کام کرنے والے لوگوں کے ادویات بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ کمیشن طے ہوتے ہیں، ان تمام معاملات کو بھی دیکھنا ہوگا، ایک مریض پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کا کیا جواز ہے؟

نمائندہ این ڈی ایم اے نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل آلات، کٹس اور قرنطینہ مراکز پر پیسے خرچ ہوئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دہے کہ کرونا اس لیے نہیں آیا کہ کوئی پاکستان کا پیسہ اٹھا کر لے جائے، ٹڈی دل کیلئے این ڈی ایم اے نے کیا کیا ہے؟ ٹڈی دل آئندہ سال ملک میں فصلیں نہیں ہونے دیگا، صنعتیں فعال ہو جائیں تو زرعی شعبہ کی اتنی ضرورت نہیں رہے گی، صنعتیں ملک کی ریڑھ کی ہڈی تھیں، اربوں روپے ٹین کی چارہائیوں پر خرچ ہو رہے۔

Tags: سپریم کورٹ آف پاکستان
sohail

sohail

Next Post

اسلامو فوبیا، متحدہ عرب امارات میں ایک اور بھارتی شہری ملازمت سے فارغ

کورونا کس طرح انسانی جسم کو تباہ کرتا ہے؟ ایک برطانوی ڈاکٹر کے مشاہدات

آنسو بہاتے مزدور کی تصویر بھارت میں لاک ڈاؤن سے جڑے المیوں کا استعارہ بن گئی

صدر ٹرمپ کا 10 سالہ پاکستانی نژاد لڑکی کی خدمات کا اعتراف

صدر پاکستان کی عام گاہک کی طرح قطار میں کھڑے ہو کر خریداری کی ویڈیو وائرل

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In