متحدہ عرب امارات میں مائننگ فرم نے سوشل میڈیا پر بھارتی مسلمانوں کو کورونا وائرس کا ذمہ دار قرار دینے پر بھارتی شہری کو ملازمت سے فارغ کر دیا۔ کمپنی نے بھارتی شہری براج کشور گپتا کو بغیر نوٹس کے ملازمت سے برطرف کیا کیونکہ انہوں نے اپنی فیس بک پوسٹوں میں ہندوستانی مسلمانوں کو کوروناوائرس پھیلاؤ کا ذریعہ جبکہ دہلی فسادات کو خدائی انصاف قرار دیا تھا۔
فروری میں دہلی کے نواح میں پھوٹنے والے فسادات کے نتیجہ میں 50 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔
گپتا بھارتی ریاست بہار کے علاقہ چھاپٖڑہ سے تعلق رکھتے ہیں جو مائننگ کمپنی سٹیون راک میں ملازمت کرتے تھے جس کا ہیڈ کوارٹر راس الخیمہ میں ہے۔
یو اے ای کی شہزادی جس کی دھمکی کے بعد بھارتی حکمرانوں کا لہجہ بدل گیا
یو اے ای میں مزید بھارتی شہری اسلام مخالف پوسٹیں کرنے پر مشکلات کا شکار
کمپنی کے بزنس ڈویلپمنٹ اور ایکسپولوریشن منیجر جین فرانکوئس میلان نے گلف نیوز کو بتایا کہ مسلمانوں کو کورونا وائرس کی وجہ قرار دینے والے کمپنی ملازم کیخلاف تحقیقات کی گئیں جس کے نتیجہ میں الزام ثابت ہونے پر انہیں فی الفور نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کمپنی متحدہ عرب امارات حکومت کے برداشت اور برابری کے اصولوں کی پیروی کرتی ہے اور نسل پرستی اور کسی امتیاز کے بغیر کام پر یقین رکھتی ہے۔ کمپنی ذمہ دار کا کہنا تھا کہ ہم نے بغیر کسی مذہب یا فرقے کا امتیاز رکھتے ہوئے اپنے تمام ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ کوئی ایسی پوسٹ اور رویہ ہرگز قابل قبول نہیں اور اس طرح کی حرکت پر انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا۔
متحدہ عرب امارات میں بھارت کے موجودہ سفیر اور سابق سفیروں نے بھی بھارتی شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات کے قوانین کو فالو کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر مسلمانوں کیخلاف پوسٹس سے اجتناب کریں۔ اس طرح کی وارننگ خلیجی ممالک میں موجود بھارتی مشنز اپنے شہریوں کو جاری کر چکے ہیں۔
اب تک کئی بھارتی شہری مسلمانوں کیخلاف پوسٹس کی وجہ سے نوکریوں سے فارغ کر دیے گئے ہیں۔