سینٹ میری اسپتال میں 20 سال تک انتہائی نگہداشت وارڈ میں کام کرنے والے ڈاکٹر سائمن ایشورتھ کورونا وبا کے لندن میں پہنچنے کے وقت ذہنی طور پر تیار تھے۔
انہوں نے چین اور اٹلی سے آنے والی رپورٹیں دیکھی ہوئی تھیں اور انہیں علم تھا کہ کورونا کے مریض اے آر ڈی ایس نامی تکلیف کا شکار ہو جاتے ہیں جس میں پھیپھڑے اسقدر سوج جاتے ہیں کہ وہ دیگر اعضائے رئیسہ کو آکسیجن پہنچانے کے قابل نہیں رہتے، اس مرحلے پر پہنچنے والے ایک تہائی افراد زندہ نہیں رہ پاتے۔
ایشورتھ نے بتایا کہ مریضوں کے پھیپھڑوں میں موجود ہوا کی انتہائی باریک نالیاں خون کے خلیوں، بلغم اور مردہ خلیوں سے بھر جاتی ہیں اور مریض سانس نہیں لے پاتا۔
مریضوں کو زندہ رکھنے کے لیے ان کی ہوا کی نالی میں ایک ٹیوب داخل کی جاتی ہے اور پھیپھڑوں میں خودکار طریقے سے ہوا بھیجی جاتی ہے، وینٹی لیٹرز سے جڑے مریضوں میں یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ اگر ہوا کم بھیجی جائے تو پھیپھڑے بھرتے نہیں اور زیادہ بھیج دی جائے تو انہیں مزید نقصان پہنچ جاتا ہے۔
کورونا کے مریضوں نے ڈاکٹروں کو پریشان کر دیا
لیکن جب ایشورتھ کے پاس کورونا کے مریض آنا شروع ہوئے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کے پھیپھڑے اے آر ڈی ایس کے مریضوں سے مختلف حالت میں تھے۔
ان کے پھیپھڑے بآسانی پھیل رہے تھے اور انہیں ہوا کے زیادہ دباؤ کی ضرورت بھی نہیں تھی، اس سے بھی حیرت کی بات یہ تھی کہ اے آر ڈی ایس کے مریضوں کے برعکس وہ نہ ہی بیہوش ہو رہے تھے اور نہ ہی انہیں سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی۔
ایشورتھ بتاتے ہیں کہ پوری دنیا سے ڈاکٹرز یہ رپورٹ کر رہے تھے کہ سرخ خلیوں میں آکسیجن کی تباہ کن کمی کے باوجود کورونا کے مریض آسانی سے سانس لے رہے تھے اور گفتگو کر رہے تھے۔
کورونا کے مریضوں میں پیچیدگیوں کے تنوع نے ڈاکٹرز کو حیران و پریشان کر دیا، ان کے پیشاب سے خون نکلتا تھا، وہ سینے میں جلن کی شکایت کرتے تھے اور ان کی سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی۔
بیجنگ کے اسپتال میں ایک 56 سالہ مریض کا دماغ سوج گیا تھا، اس کا چہرہ بگڑنے لگا تھا، مصر سے لوٹنے والی ایک 71 سالہ امریکی خاتون کو کمر میں درد شروع ہو گیا، قے آنے لگی اور خونی اسہال شروع ہو گئے۔
اسی طرح نیویارک کے سینائی ہیلتھ سسٹم اسپتال میں پانچ مریضوں کو اچانک دورے پڑنا شروع ہو گئے، یہ تما لوگ 50 سال سے کم عمر کے تھے اور ان میں کورونا کی یا تو معمولی علامات تھیں یا کوئی علامت موجود نہیں تھی۔
ایشورتھ کہتے ہیں کہ انہوں نے کورونا کے مریضوں کے جسم خون کے لوتھڑوں سے بھرے دیکھے، کئی کو دل کا دورہ پڑ گیا اور بہت سوں کے گردے کام کرنا چھوڑ گئے۔
ایشورتھ کا کہنا ہے کہ سیاسی اور سائنسی بحثوں میں ہم یہ بات بھول گئے کہ ہم اس بیماری کے متعلق زیادہ نہیں جانتے اور یہ ہمارے لیے تحقیق کا نادر موقع ہے جس کے ذریعے ہم فلو جیسی بیماریوں کا بہتر علاج کر سکیں گے۔
زیادہ تر افراد کووڈ 19 کو معمولی سا بخار اور خشک کھانسی کے طور پر لیتے ہیں لیکن جن 6 فیصد مریضوں میں یہ بیماری شدت اختیار کر جاتی ہے ان کی حالت ڈرا دینے والی اور مہلک ہوتی ہے، برطانیہ میں اسپتال پہنچنے والے کورونا مریضوں میں سے ایک تہائی کو اس وائرس نے ہلاک کر دیا۔
تشویشناک حالت میں مبتلا مریضوں کا علاج کرنے والوں کے لیے کورونا کی بیماری ایک معمہ ہے، یہ وائرس نہ صرف غیرمتوقع طریقوں سے پھیپھڑوں کو تباہ کرتی ہے بلکہ یہ دل، آنتوں، خون کے رگوں، گردوں اور دماغ پر بھی حملہ کرتا ہے۔
اعضاء یکے بعد دیگرے کام چھوڑ دیتے ہیں
جب کورونا وبا شروع ہوئی تو علی رضائی حداد سینٹ جارج اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں کام کر رہے تھے، انہیں اب کورونا کے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے ایک ماہ ہو چکا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ مرض کی شدت میں انسانی جسم اس طرح ردعمل نہیں دکھاتا جس طرح پھیپھڑوں کے دیگر امراض میں سامنے آتا ہے، ان کی ٹیم کو جلد ہی گردوں کے کام چھوڑ دینے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
ووہان میں کی گئی ابتدائی تحقیق کے مطابق 20 فیصد مریضوں کے گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، اسپتال میں داخل ہونے والے آدھے مریضوں کے پیشاب میں خون یا پروٹین آنے لگتی ہے جو گردہ کی ناکامی کی علامت ہے۔
گردوں کی شدید خرابی میں مبتلا کورونا مریضوں کی موت کے امکانات دیگر مریضوں کی نسبت پانچ گنا زیادہ ہوتے ہیں لیکن کورونا اسے بھی زیادہ کچھ کرتا ہے۔
حداد کے مطابق ایک نظریہ اس وقت یہ ہے کہ کورونا براہ راست گردوں پر حملہ آور ہوتا ہے لیکن اس کے براہ راست شواہد ابھی تک نہیں ملے۔
ان کی ٹیم نے پہلے کوشش کی کہ مریضوں کو زیادہ سے زیادہ پیشاب کرا کر گردوں کو خالی کرایا جائے تاہم اس میں زیادہ خطرات سامنے آئے اور انہوں نے اسے ترک کر دیا۔
یہاں سے کچھ نئی باتیں دیافت ہوئیں، حداد نے مریضوں کو ڈائلاسس مشین لگا دی لیکن اس میں لوتھڑے آنے لگے جس کا مطلب تھا کہ انہیں فلٹر اور سسٹم دونوں کو بدلنا پڑے گا۔
حداد اور ان کی ٹیم نے پریشان ہو کر مریضوں کو مزید سکین کیا تو یہ انکشاف ہوا کہ ان کے پھیپھڑے اور رگیں خون کے لوتھڑوں سے بھرے ہوئے ہیں، بعد میں معلوم ہوا کہ پوری دنیا میں کورونا کے مریضوں کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے۔
ہالینڈ اور فرانس سے سامنے آنے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ کورونا کے شدید متاثرہ مریضوں میں 20 سے 30 فیصد میں خون کے لوتھڑے پیدا ہو جاتے ہیں، یہ لوتھڑے پھیپھڑوں اور ٹانگوں میں پائے گئے ہیں۔
ہمبرگ میں کورونا کے باعث موت کا شکار ہونے والے 12 مریضوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تو معلوم ہوا کہ سب میں پھیپھڑوں یا دل کی ناکامی کے باعث موت واقع ہوئی۔
اس مسئلے کا ایک حل یہ ہے کہ کورونا کے شدید مریضوں کو خون پتلا کرنے والی ادویات دی جائیں، 2700 مریضوں کے ریکارڈ کے تجزیہ کے بعد کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ طریقہ علاج بیشتر مریضوں کو مدد دیتا ہے لیکن کئی مریض اس سے بھی صحتیاب نہیں ہوتے۔
یو سی ایل کوئین سکوائر انسٹیٹیوٹ آف نیورولوجی کی ایک ٹیم کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس کے باعث دماغ میں بھی خون کے لوتھڑے جم سکتے ہیں جس کی وجہ سے دورے پڑتے ہیں۔
اسی طرح پھیپھڑوں میں جمع ہونے والے لوتھڑوں کے باعث خون کا بہاؤ سست پڑ جاتا ہے اور وینٹی لیٹرز کی افادیت محدود ہو جاتی ہے کیونکہ وینٹی لیٹرز سے دی گئی آکسیجن خون میں شامل نہیں ہو پاتی۔
ان پریشان کن مسائل کے باعث ڈاکٹرز کو علاج کے غیرمعمولی طریقے آزمانے پڑتے ہیں، کورونا کے مریضوں کو معدے کے بل لٹانے سے سینے کی گھٹن کم ہو جاتی ہے تاہم مشین سے جڑے ایک بیہوش مریض کو الٹانے کے لیے پوری ٹیم کو کوشش کرنی پڑتی ہے۔
جسم کے ایک حصے کا نقصان کسی دوسرے حصے کو نقصان پہنچاتا ہے، لوتھڑوں سے بھرے پھیپھڑے دل کو متاثر کرتے ہیں، جے اے ایم اے کارڈیالوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اسپتال میں داخل کورونا کے 20 فیصد مریضوں کے دل کو نقصان پہنچتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کورونا کے ان مریضوں میں اموات کی شرح زیادہ ہے جو پہلے ہی دل کی پیچیدگیوں کا شکار تھے۔
جسم اپنا دشمن خود بن جاتا ہے
اگرچہ کورونا کے باعث مریض کے مختلف اعضاء تباہی کا شکار ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات سب سے زیادہ نقصان جسم اپنے آپ کو پہنچا دیتا ہے اور اس کی وجہ مدافعاتی نظام کا غیرمعمولی متحرک ہو جانا ہے۔
جب کورونا وائرس جسم میں داخل ہوتا ہے تو جسم اس کے خلاف سائیٹوکینز نام کی پروٹین خارج کرتا ہے جو قوت مدافعت کے مختلف اجزا کو آپس میں جوڑتی ہے اور اس کے خلیوں کو متاثرہ جگہ پر حملہ آور کو تباہ کرنے کے لیے پہنچاتی ہے۔
بعض اوقات یہ ردعمل قابو سے باہر ہو جاتا ہے، ضرورت سے زیادہ سائیٹوکینز متاثرہ علاقے میں پہنچنے لگتی ہے اور بہت بڑی تعداد میں قوت مدافعت والے خلیے بھی جمع ہونے لگتے ہیں۔
ڈاکٹر حداد کہتتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں وائرس کے ساتھ ساتھ جسم بھی تباہ ہونے لگتا ہے، مریض کی حالت ایک دم بہتر ہو جاتی ہے اور پھر اچانک اس کا بلڈ پریشر گرتا ہے اور اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔
اعضاء کا کام چھوڑ دینا اور خون کے لوتھڑوں کا جم جانا بھی قوت مدافعت کے اسی غیرفطری ردعمل کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ چونکہ نوجوانوں کی قوت مدافعت ابھی نامکمل ہوتی ہے اس لیے وہ ضرورت سے زیادہ ردعمل بھی نہیں پیدا کرتی۔
ایشورتھ کا کہنا ہے کہ صرف یہی وجہ نہیں ہے، ابھی تک ہمیں پوری طرح سمجھ نہیں آئی کہ کورونا وائرس جسم میں ایسا کیا کرتا ہے جس سے یہ پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔
انہوں بتایا کہ ابھی تک کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے مسائل کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوا، ہم ناکام ہوتے اعضاء کو ڈائیلاسس اور وینٹی لیٹرز جیسی مشینوں سے مدد دے سکتے ہیں لیکن وائرس کے خلاف ہم خالی ہاتھ ہیں۔
ان کے مطابق صورتحال یہ ہوتی ہے کہ وائرس اپنی مرضی سے حملہ کیے چلا جاتا ہے یہاں تک کہ یا مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے یا قوت مدافعت اس کا مقابلہ کرنے کا طریقہ تلاش کر لیتی ہے۔