این ڈی ایم اے نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ حکومت نے کورونا وبا کے انسداد کی خاطر وزارت صحت اور اتھارٹی کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے ہیں جو تاحال جاری نہیں کیے گئے۔
سپریم کورٹ میں کورونا ازخود نوٹس کیس میں 123 صفحات پر مشتمل این ڈی ایم اے کی جمع کرائی گئی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کورونا وبا سے لڑنے کے لیے سازو سامان کی خرید کے لیے وزیر اعظم نے این ڈی ایم اے کے لیے علیحدہ سے 2۔3 ارب روپے مختص کیے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی جانب سے این ڈی ایم اے کو 8 ارب روپے ملے ہیں جبکہ چینی حکومت کی جانب سے 64 کروڑ روپے کی گرانٹ دی گئی، 12 ملین امریکی ڈالر ورلڈ بینک نے این ڈی ایم اے کوتاحال ریلیز نہیں کیے.
تاہم این ڈی ایم اے نے واضح کیا کہ اتھارٹی کو کیش رقم کے بجائے امداد صرف سامان کی صورت میں ملتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ این ڈی ایم اے امداد کا آڈٹ کرانے کے لیے آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے درخواست کر چکی یے۔
سرحدوں پر قرنطینہ مراکز کے حوالے سے تفصیلات بھی رپورٹ میں شامل کی گئی ہیں جس کے مطابق تفتان، چمن اور طورخم پر 1200 پورٹ ایبل کنٹینر تیار کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تفتان پر 600 کینٹیرز، چمن پر 300 اور 300 طورخم کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ تفتان پر 1300 افراد، چمن میں 900 اور طورخم پر 1200 افراد کو رکھنے کی گنجائش ہے۔
رپورٹ کے مطابق طورخم پر قرنطینہ مرکز کے لیے 300 کمرے تعمیر کر لیے گئے ہیں۔ 1200 اضافی کمرے تعمیر کرنے کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ چمن میں 300 کمروں میں 130 زیر تعمیر ہیں۔ تفتان میں 600 میں سے 202 تکمیل کے قریب ہیں۔ لوکل ملٹری اتھارٹی کے مطابق مزید کمروں کی ضرورت نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق لوکل ملٹری اتھارٹی نے ٹینٹ ویلیج کی صورت میں 1300 کمروں کی سہولت فراہم کی ہوئی ہے۔ پاکستان ریلویز نے بھی دو ٹرینیں بطور قرنطینہ مراکز کے لیے مختص کر رکھی ہیں۔ کورونا ازخودنوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کرے گا۔
