امریکہ کی ادویات ساز کمپنی فائزر نے اعلان کیا ہے کہ وہ کورونا کی ویکسین کا کلینیکل ٹرائل وسیع کر رہے ہیں اور اکتوبر پر ہزاروں مریضوں کو اس میں شامل کیا جائے گا۔
فائزر جرمنی کی معروف کمپنی بائیو این ٹیک کے ساتھ مل کر کورونا ویکسین کی تیاری میں مصروف ہے۔
کمپنی کے سی ای او اور چیئرمین البرٹ بورلا نے کہا ہے کہ اگر سب کچھ ٹھیک ہوا تو وہ اکتوبر میں لاکھوں کی تعداد میں ویکسین کی خوراکیں فراہم کر سکیں گے۔
کورونا ویکسین پر پہلا حق کس کا ہوگا؟ امریکہ اور فرانس میں جھگڑا شروع
کورونا کی ویکسین ستمبر تک تیار ہو جائے گی، برطانوی سائنسدان کا دعویٰ
امریکی کمپنی کا کورونا کا سو فیصد یقینی علاج دریافت کرنے کا دعویٰ
بی این ٹی 162 نامی ویکسین کی پہلی آزمائشی خوراک 5 مارچ کو انسانوں کو دی گئی تھی، کمپنی اپنی ویکسین کی چار اقسام ٹیسٹ کر رہی ہے۔
بورلا کے مطابق ان کی کمپنی جون یا جولائی تک یہ طے کر لے گی کہ ان چار اقسام میں سے کون سی سب سے زیادہ موثر اور محفوظ ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ہر لمحہ ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سب سے کامیاب قسم کلینکل ٹرائل کے اگلے مرحلے میں جائے گی جہاں ستمبر تک ہزاروں لوگوں پر اس کا تجربہ کیا جائے گا، کامیابی ملنے پر اکتوبر میں لاکھوں جبکہ 2021 میں اس کی کروڑوں خوراکیں تیار کی جائیں گی۔
اس وقت تک مختلف کمپنیاں دنیا بھر میں کورونا کی 120 قسم کی ویکسین کی تیاری میں مصروف ہیں، امریکی شعبہ صحت کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ ویکسین کی تیاری میں ایک سے ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا سکتا ہے۔
برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں بھی ویکسین کی تیاری پر بھرپور کام ہو رہا ہے، 23 اپریل سے اس کا انسانوں پر تجربہ شروع کیا گیا، یونیورسٹی کے جینز انسٹیٹیوٹ کے ڈائرکٹر ایڈیان ہل نے کہا ہے کہ ویکسین کی وسیع پیمانے پر تقسیم کو اگست تک یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس کی قیمت بہت کم رکھی جائے گی تاکہ یہ پوری دنیا میں آسانی سے دستیاب ہو سکے۔