کورونا وباکے دوران ہم محض صحت کے مسائل سے ہی دوچار نہیں ہوئے بلکہ ہمیں معاشی، سماجی اور انسانی حقوق کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔
اس وبا کے دوران خواجہ سرا کمیونٹی کے مسائل میں دنیا بھر میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس طبقے کو صحت کی سہولیات کے حوالے سے پہلے ہی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اب وبا کے دوران جبکہ صحت کا نظام بے پناہ بوجھ تلے دب چکا ہے، اس غیر محفوظ کمیونٹی کے لیے مسائل اور بھی بڑھ گئے ہیں۔ اب انکے خلاف امتیازی سلوک میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
معاشرے کی بے حسی نے ایک بہترین طالب علم اور سول انجینئیر کو خواجہ سرا بنا دیا
خواجہ سرا کمیونٹی کو عام حالات میں اکثر انکے گھر والے بھی قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں، اس وبا کے دوران ان کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں، گھروں میں رہنے کی صورت میں ان پر تشدد بڑھ سکتا ہے۔
وبا کے دوران اس کمیونٹی میں غربت اور بیروزگاری بڑھنے کا امکان بھی زیادہ ہے۔ بہت سے خواجہ سراء پہلے ہی بے گھر ہیں اور اب وبا کے حالات میں انکے مسائل میں بے تحاشہ اضافہ کا خدشہ ہے اور اس کمیونٹی کے لوگ ڈپریشن کا شکار ہوسکتے ہیں۔
17مئی کا دن خواجہ سراؤں سمیت دیگر کمیونٹیز کے خلاف موجود نفرت کے خلاف شعور بیدار کرنے کا عالمی دن ہے۔ اس اہم دن کے موقع پر دنیا بھر سے 15 سفارت کاروں نے ایک آرٹیکل لکھا ہے اور پاکستانی حکومت کی جانب سے خواجہ سرا کمیونٹی کے تحفظ اور حقوق کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کو خوب سراہا ہے۔
2017 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں خواجہ سرا کمیونٹی کی تعداد 10,418 ہے۔ ان کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں شناختی دستاویزات جیسا کہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں خواجہ سراؤں کے لیے الگ سے خانہ رکھا گیا ہے۔
اسی طرح آن لائن ویزہ فارم میں بھی تیسری جنس کیلئے خانہ رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کیلئے 2018ء میں ایک ایکٹ بھی پاس کیا گیا ہے۔
غیر ملکی سفارتکاروں نے لکھا ہے کہ دنیا بھر کے قانون سازوں کیلئے پاکستانی حکومت کے یہ اقدامات ایک مثال ہیں۔
انہوں نے لکھا ہے کہ کورونا وبا کے دوران بھی پاکستان کی جانب سے خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ راولپنڈی پولیس خواجہ سراؤں کو درپیش مسائل سے نمٹنے کیلئے ایک الگ شعبہ قائم کرنے جا رہی ہے۔ پولیس کی جانب سے ایک خواجہ سرا کو کو پولیس افسر کے طور پر بھرتی کر لیا گیا ہے۔