کورونا سے متاثرہ مریضوں میں کورونا سے صحتیاب مریضوں کے خون کے پلازمہ کے تجرباتی استعمال سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک محفوظ عمل ہے۔
امریکہ میں کورونا سے صحتیاب افراد سے حاصل کیا گیا بلڈ پلازما 5 ہزار شدید بیمار لوگوں کو دیا گیا تو زیادہ تر کی حالت بہتر ہو گئی، صرف ایک فیصد سے بھی کم پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوئے جبکہ ایک ہفتہ بعد صرف 15 فیصد کی موت واقع ہو گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دو تہائی افراد انتہائی نگہداشت میں تھے، اس لیے یہ اموات بہت کم ہیں۔
امریکی کمپنی کا کورونا کا سو فیصد یقینی علاج دریافت کرنے کا دعویٰ
کورونا وبا پر نئی تحقیق، ماؤتھ واش کے ذریعے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کا امکان
کورونا ویکسین پر پہلا حق کس کا ہوگا؟ امریکہ اور فرانس میں جھگڑا شروع
میو کلینک ، جان ہاپکنز یونیورسٹی اور مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے کورونا وائرس کے 5 ہزار مریضوں کو دیکھا، یہ سب مریض کووڈ 19 سے شدید یا جان لیوا حد تک متاثرہ کیسیز تھے، ان میں سے 66 فیصد انتہائی نگہداشت والے یونٹوں میں تھے۔
کنوالیسنٹ پلازما تھراپی ایک تجرباتی علاج ہے جس میں کورونا وائرس سے صحتیاب مریض کے خون سے پلازما لیکر کر اسے کورونا وائرس سے متاثرہ ایسے مریض کو لگایا جاتا ہے جس کی حالت نازک ہو۔ امید یہ کی جاتی ہے کہ ایک صحت مند شخص کے خون میں موجود اینٹی باڈیز اور قوت مدافعت بیمار شخص میں منتقل ہو جائیں گی جس سے متاثرہ شخص وہ اینٹی باڈیز تیار کر لے گا جو کہ کورونا وائرس سے لڑنے کیلئے ضروری ہے۔
علاج کا یہ طریقہ پہلی بار 1918 کے ہسپانوی فلو وباء کے دوران استعمال کیا گیا تھا، موجودہ وباء اس صورتحال سے زیادہ مختلف نہیں۔ لوگ پلازما ایک بار سے زیادہ بھی عطیہ کر سکتے ہیں تاہم ایک بار عطیہ کرنے کے بعد دوسری دفعہ عطیہ کرنے کیلئے کئی ہفتوں کا انتظار کرنا ہوگا۔
محققین نے دیکھا کہ 5 ہزار مریضوں میں سے صرف 36 کو پلازما کی منتقلی کے بعد پہلے چار گھنٹوں میں سنگین مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑا جو کہ ایک فیصد سے بھی کم بنتے ہیں۔ پلازما کی منتقلی کے سات دن بعد 14.9 فیصد مریضوں کی موت واقع ہو گئی تھی۔
ریسرچ کے مصنفین نے لکھا کہ کووڈ 19 کی مہلک نوعیت اور نازک حالت میں بیمار مریضوں کی ایک بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے اموات کی شرح زیادہ دکھائی نہیں دیتی۔ یہ ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ ہسپتال میں داخل کورونا وائرس کے مریضوں کو کنوالیسنٹ پلازما لگانا محفوظ ہے۔
ڈیلی میل میں شائع خبر کے مطابق ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ یہ بات یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ پلازما نے مریضوں کی حالت بہتر کر دی، یہ نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ کلینکیکل ٹرائلز شروعات کیلئے محفوظ ہیں۔
امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے علاج کیلئے کنوالیسنٹ پلازما کے استعمال کی مارچ میں منظوری دی تھی۔
ایجنسی نے 16 اپریل کو جاری ایک بیان میں کہا کہ نظام تنفس کے وائرس سے متعلق سابقہ تجربے اور چین سے حاصل محدود اعدادو شمار نے تجویز کیا ہے کہ کنوالیسنٹ پلازما میں کووڈ 19 کے باعث بیماری کی شدت یا طوالت کو کم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
ایف ڈی اے نے مزید کہا کہ اسے کیس ٹو کیس کی بنیاد پر لگایا جائے اور ایسے مریضوں کو لگایا جائے جنھیں لازمی طور پر سانس لینے میں ناکامی یا کئی اعضاء کے کام چھوڑ دینے جیسے حالات کا سامنا ہو۔