2010 میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ ڈبیو پر 6 وکٹیں لینے والے پاکستان کے فاسٹ بالر تنویر احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ٹی 20 اور ون ڈے ٹیم کے نوجوان کپتان بابر اعظم کو پریزنٹیشن، انگریزی بول چال اور اپنی شخصیت میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
تنویر احمد نے یہ مشورہ ایک یو ٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بابر اعظم اپنی ڈریسنگ اور انگلش بولنے کی صلاحیت میں نکھار لے آتے ہیں تو وہ میڈیا کا آزادی اور اعتماد کے ساتھ سامنا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے وضاھیت کی کہ شخصیت بہتر بنانے سے میرا مطلب یہ ہے کہ وہ لباس کی طرف توجہ دیں اور اس میں بہتری لائیں۔
شعیب اختربھارت سمیت کسی بھی کرکٹ ٹیم کے بالنگ کوچ بننے کے لیے تیار
بھارتی کرکٹر یوراج سنگھ شاہد آفرید ی پر سیخ پا، ہربھجن سنگھ کا تعلق ختم کرنے کا اعلان
تنویر احمد نے انگریزی بہتر بنانے پر اس لیے زور دیا کہ مستقبل میں بطور کپتان انہیں بہت سی پریس کانفرنسز کا سامنا کرنا ہو گا اور مختلف ممالک کے میڈیا کے لوگ ان سے سوالات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی کپتان بنتا ہے تو اسے ٹاس اور میچ کے اختتام پر پریزنٹیشن کے دوران بات کرنا پڑتی ہے، اس کے علاوہ دیگر ممالک کے دورہ کے دوران کپتان کو مختلف چینلز کو انٹرویو بھی دینا ہوتا ہے۔
پاکستان کے سابق فاسٹ بالر نے بابر اعظم کو فٹ رہنے کا بھی مشورہ دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کا فٹ ہونا ٹیم کے لیے ایک عمدہ مثال ہو گی۔
تنویراحمد نے مزید کہا کہ ٹیم لیڈر کو وقت کی پابندی اور ڈسپلن کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ دیگر کھلاڑی اس کی پیروی کریں، اس کے علاوہ بابر کو اپنی فٹنس برقرار رکھنی ہو گی۔
فاسٹ بالر نے یہ مشورہ بھی دیا کہ بابراعظم کو اپنی بیٹنگ فارم کے بارے میں محتاط رہنا ہو گا کیونکہ اس میں ہلکی سی کمی سے وہ تنقید کی ذد میں آ جائیں گے۔
یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ بابر اعظم ٹیم کی قیادت کس انداز سے کرتے ہیں، انہیں ذہنی طور پر مضبوط رہنا ہو گا کیونکہ خراب کارکردگی کی وجہ سے میڈیا کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنے گے، انہیں اپنے اوپر ہونے والی تنقید برداشت کرنا ہو گی اور اس پر اپنا ردعمل نہیں دینا ہو گا۔
سابق فاسٹ بالر تنویر احمد کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ بابر کی ترقی سے خوش ہیں کیونکہ لاہور میں پیدا ہونے والے بابر کو پانچ سال قبل ڈیبیو کرنے بعد کپتانی ملنا ایک اعزاز کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ بابر اعظم 2015 میں کیرئیر شروع کرنے بعد کپتان بن گیا ہے، اگر کوئی کھلاڑی اتنے قلیل عرصے میں کپتان بن جاتا ہے تو یہ ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔